Showing posts with label دشمن. Show all posts
Showing posts with label دشمن. Show all posts

Monday, February 3, 2014

دشمن کی تلاش


تڑ تڑ تڑ دونوں اطراف سے گولیاں چل رہی ہیں، دھماکوں کی آواز میں کچھ سنائی نہیں دے رہا. گھروں کی دیواریں لرزی جاتی ہیں. خاک و خون میں لت پت بے جان جسم جگہ جگہ بکھرے ہیں. پھر گولیوں کی تڑتڑاہٹ ہے، پھر دھماکوں کی گھن گرج اور پھر ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے. موت کا سنّاٹا شاید اسی کو کہتے ہیں. پھر ایک طرف سے نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں دشمنوں کی تلاش شروع ہوجاتی ہے، شاید اب بھی کوئی سخت جان بچا رہ گیا ہو... اتنے میں ایک شخص نظر آتا ہے سب اس کی جانب لپکتے ہیں لاتوں گھونسوں سے استقبال ہوتا ہے پھر ایک جانب کھڑا کر کہ لبلبی دبا دی جاتی ہے بندوق سے شعلہ نکلتا ہے اور جسم بے جان ہو کر گر جاتا ہے، ہونٹ ہلتے ہیں کلمہءشہادت بلند ہوتا ہے. فِضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے پھر سے گونج اٹھتی ہے، جیت کا جشن منایا جارہا ہے. قافلہ نعرہ تکبیر کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اگلے "دشمن" کی تلاش میں روانہ ہوجاتا ہے...
ابنِ سیّد

Tuesday, January 7, 2014

خاک و خوں -- از محمد مقصود احمد

اس داستان کو پڑھ کر بہت سے لوگوں کے جہاد کے ببارے میں خدشات درست ہونگے، عملاً دشمن کے خلاف مسلّح جہاد میں ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ بندوق اٹھاۓ مصروف عمل ہوں اور نہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ دشمن کے مارے سے ہی شہادت ملے، اس میں مصنف اپنا واقعہ بیان کرتا ہے، کبھی تو ان کے پاس ایک بندوق بھی نہیں ہوتی. بیشتر شہداء صحرا میں بھٹکنے اور بھوک پیاس یا بیماری کی وجہ سے شہید ہوئے.
ایک ایسے شخص کی داستان جو افغانستان جھاد پر گیا. پہاڑوں کو سر کیا صحراؤں میں بھٹکا، مرگ کے قریب پہنچ گیا. یہاں تک کہ پاکستان میں دوستوں احباب نے ایثال ثواب کی محفلیں منعقد کرنا شروع کردیں کہ اچانک وہ گھر پہنچ گیا. ایک ایسی داستان جسے آپ پڑھیں گے تو پڑھتے چلے جائیں گے. دلوں کو گرما دینے والی یہ داستان میں نے پڑھی اور کافی مزہ آیا، آپ سب کیلئے بھی Recommend کروں گا.


ابنِ سیّد
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments