Showing posts with label Job in Engineering. Show all posts
Showing posts with label Job in Engineering. Show all posts

Friday, May 30, 2014

کیریئر یا صابن – دوسرا حصہ

کیرئیر کو پسند کرنے کے حوالے سے میں نے کل ایک پوسٹ لکھی تھی لیکن بہت سے افراد نے اس کو الگ ہی انداز میں لیا، جس کی اصل وجہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید وہ ٹھیک سی میری بات نہیں سمجھ پائے یا پھر میں نے جو مثالیں دیں تھیں وہ کچھ اوکھی ٹائپ کی
Image from here
تھیں۔ بہرحال میں نے "کیریئر میں پسند اور نا پسند" کی بات کی تھی، ہوتا یہ ہے کہ جس کام کا آپکو شوق ہوتا ہے وہ کام آپ کرتے ہوئے تھکتے نہیں یا یہ کہہ لیں کہ آپکو تھکن کا احساس نہیں ہوتا، کھبی آپ نے کرکٹ یا فٹبال کے شوقین افراد کو دیکھا ہے؟ اگر وہ صبح سے لے کر شام تک کھیلتے رہیں تب بھی انہیں تھکن کا احساس نہیں ہوتا کیوں کہ وہ ان کا شوق ہوتا ہے۔ اس ہی طرح اگر کسی کو لوگوں سے ملنے ملانے کا شوق ہے یا پھر تقاریر کرنے کا شوق ہے تو وہ اپنے اس شوق کیلئے جان لگا دیگا لیکن اُسے وہ (نائن ٹو فائیو والی) تھکن کا احساس نہیں ہوگا۔
اب جب آپ اپنے شوق کو اپنا پروفیشن بناتے ہیں تو آپ اُس ہی شوق اور لگن سے وہ کام کرتے ہیں، اور اس ہی وجہ سے اپنے کیریئر میں بلندیوں کو چھو جاتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ جو لوگ اپنے شوق سے ہٹ کر کوئی دوسرا کام کرتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ، ایسا بالکل نہیں وہ بے شک کامیاب ہوسکتے ہیں اور ہوتے بھی ہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بعد میں اپنے کیریئر کو اپنا شوق بنا لیا ہوگا۔ اب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھیں! کیا آپ روز جب گھر واپس آتے ہیں تو تھکن سے چور کیوں ہوتے ہیں؟ اور کیا جب آپ اگلے دن آفس کو جاتے ہیں تو کیا آپکے دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ آج کا دن دلچسپ گزرے گا یا پھر آپ یہ سوچ کر بد دل ہوتے ہیں کہ پھر وہی پرانا روٹین، وہی روز کی جھک جھک۔ ۔ ۔؟
اب آتے ہیں اصل موضوع کی جانب ایک شخص مشینوں کا شوق رکھتا ہے، وہ چاہتا ہے کہ مکینکل انجینئرنگ کی فیلڈ میں جائے اب کسی وجہ سے اُس کو اس فیلڈ میں جانے کا موقع نہیں ملتا بلکہ اسے یہ کہا جاتا ہے کہ تم کیمیکل میں داخلہ لو، شاید وہ داخلہ لے بھی لے، پڑھ بھی لے، جاب بھی کرلے، اچھی تنخواہ بھی کما لے لیکن یہ احساس اس کے دل میں ہمیشہ رہیگا کہ وہ مکینکل میں شوق رکھتا تھا لیکن کسی وجہ سے اس کو یہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اور بے شک اس بات کا وہ کسی سے اظہار بھی نہ کرے لیکن کام سے واپسی پر اس کا چہرہ یہ بات بتا دیگا کہ وہ کس حد تک مطمئن ہے!
باقی دوستوں نے کہا کہ روزی دینے والا اللہ ہے، آپکی فیلڈ آپکی تنخواہ کا فیصلہ نہیں کرتی یا پھر ایک بھائی نے کہا کہ یہ پاکستان ہے یہاں سب چل جاتا ہے۔ یہ تمام افراد کی باتیں ٹھیک ہیں لیکن یہ بحث کا موضوع ہی نہیں تھا :)

ابنِ ســــــــــیّد

Wednesday, May 28, 2014

کیریئر یا صابن

مجھ سے کسی نے مشورہ کیا کہ انجینئرنگ کرنی ہے. میں نے پوچھا کونسی انجینئرنگ؟ کہنے لگا سوفٹ ویئر انجینئرنگ. میں نے پرسنٹیج پوچھنے کے بعد اطمینان دلایا کہ اچھے مارکس ہیں انشاءاللہ ایڈمیشن ہوجائے گا... لیکن ..

عادت سے مجبور، میں یہ جتلانا نہیں بھولا کہ اگر اس طالبعلم کو کسی وجہ سے سوفٹویئر انجینئرنگ نہ ملے تو کوئی دوسری انجینئرنگ نہ کروانا. انکے وجہ پوچھنے پر میں نے پوچھا کہ اگر آپ منہ دھونے کا صابن لینے مارکیٹ جائیں اور صابن نہ ملے تو کیا سرف لے آئیں گے؟ نہیں ناں؟
میڈیکل اسٹور جائیں پیناڈول لینے اور اگر پیناڈول نہ ہو تو یقیناً آپ کھانسی کا شربت نہیں لیں گے!
بھئی چلیں میں آپ قارئین سے پوچھتا ہوں کہ اگر آپ جوتے خریدنے جائیں اور جوتا نہ ملے تو کیا سینڈل لے آئیں گے
Image from here
؟ وہی خریدیں گے ناں جس کی ضرورت ہو اور جو آپکو چاہیے ہو.
جب اتنے معمولی اور روز مرّہ کے معاملات میں اس قدر سمجھ داری تو کیریئر یعنی کہ وہ کام جو آپکو بقیہ ساری زندگی صبح نو سے شام پانچ بجے تک کم از کم کرنا ہے اس کو پسند کرنے میں اس قدر ناسمجھی کا مظاہرہ کیوں؟ یعنی جو مل گیا وہ کرلیں گے چاہے بقیہ زندگی اس پسند کو کوستے ہوئے گزاریں... سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ورنہ پھر ساری زندگی صابن کے بجاۓ سرف سے منہ دھوئیں

فیصلہ آپکا..

آپ کیا چاہتے ہیں.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments