Showing posts with label Paksitan Dictatorship. Show all posts
Showing posts with label Paksitan Dictatorship. Show all posts

Saturday, May 3, 2014

آمریت کے فائدے

Image from here, all credits goes to respective owners
جی دوستوں تو آج ہم پاکستان کے عوام کے سب سے مشہور ٹاپک پر بات کریں گے. باوجود اس کے کے بہت سے لوگ میری رائے سے متفق ہونگے لیکن بلاگ شیئر اور لائیک کرتے ہوئے شیطان ان کو روکے گا.
تو آج ہم بات کریں گے آمریت کے فائدے کے بارے میں، آمریت ہمارے مملکت کا سب سے پسندیدہ کھیل ہے جو کہ ہر دور اور ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے. اس کھیل میں ایک جانب آمر اور دوسری جانب سیاست دان جب کے بیچ میں عوام موجود ہوتی ہے، کھیل کی مکمل تفصیل کسی اور بلاگ میں. بہرحال، آمریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نہ صرف اچانک بلکہ بن بلائے آتی ہے، اسکے ساتھ ساتھ اس کے آنے کا ٹائم ہے لیکن جانے کا ٹائم کوئی نہیں. آمریت کی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ قوم کے "وسیـــــــــــــــــــــــــــع" تر مفاد کو مدنظر رکھ کر آتی ہے بعض من چلے اسے ذاتی مفاد بھی کہتے ہیں لیکن آمریت میں کون کسی من چلے کی گیدڑ بھبکی سنتا ہے. آمریت کا تیسرا سب سے عظیم فائدہ میڈیا کو ہوتا ہے، کیوں کہ آمریت کی وجہ سے میڈیا کے اوقات اور میڈیا کی اوقات بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق ہوجاتے ہیں. جس کی وجہ سے صحافی حضرات "ایکسٹرا" کام کرنے سے بچ جاتے ہیں. ویسے بھی زیادہ کام صحت کیلئے کافی مضر ہے. (وزارتِ صحت)
وزارت سے یاد آیا آمریت میں آپ جتنی چاہو وزارتیں بنالو مسئلہ ہی کوئی نہیں. ہر وزارت کیلئے الگ قلم دان اور الگ اگالدان اور چند سیاست دان مفت دینے پڑتے ہیں، یہ سب پیکج میں شامل اور کوئی ایکسٹرا چارجز بھی نہیں.
آمریت وہ جادوئی "چھَڑی" ہے جس کے گھماتے ہی ہر ناجائز جائز اور حرام حلال ہوجاتا ہے. پھر چاہے آئین توڑو یا قانون، یا کسی کا سر، یا پیر، کسی کو قیدی بناؤ یا مسنگ پرسن، یا کسی کو گوانتانامو بھیج کر ڈالر کما لو، لیکن خیال رہے یہ سب کچھ کرتے ہوئے قوم کا وسیــــــــــــــــــــــــــــع تر مفاد مدنظر ہو!
ابنِ سیّد


Thursday, April 3, 2014

غدار کون؟

I am not a traitor
میں غدار نہیں ہوں. مشرف

کاش یہ خیال تمہیں اس وقت آتا جب امریکہ کے آگے سر تسلیم خم کیا. جب پاکستان کو بچانے کا نعرہ لگا کر پاکستان کا سودا کیا. جب ملا عبدالضعیف جو افغانستان کی جانب سے پاکستان میں سفیر تھے انکو امریکہ کے ہاتھ بیچا تو انہوں نے بھی کہا ہوگا "میں غدار نہیں!"، جب اکبر بگٹی کا بھیمانہ قتل ہوا، وہ بگٹی قبیلہ جس کے سربراہ کی دستخط سے بلوچستان پاکستان کا حصہ بنا انہوں نے بھی کہا ہوگا کہ میں غدار نہیں! جب قبائل پر ڈرون گرتے ہونگے تو وہ حکومت سے اور خود سے یہ سوال کرتے ہونگے کہ "کیا ہم غدار ہیں؟"، ڈاکٹر عبدالقدیر بھی غدار نہیں تھا اس کو کیوں نظر بند کیا گیا. ڈاکٹر عافیہ کو کراچی سے بگرام بچوں سمیت پہنچایا تو اس نے بھی کہا ہوگا، میں غدار نہیں، کیا اس کےمعصوم بچےغدار تھے؟ نہ چیف جسٹس غدار تھا جسے تم نے معطل کیا نہ غازی عبدالرشید غدار تھا جنہیں تم نے فاسفورس سے جلایا. دس سال ملکی آئین روندنے کے بعد، ہزاروں افراد کا سودا کرنے کے بعد، جہاد کشمیر پر پابندی لگانے کے بعد، افغانیوں کے قتل میں ساتھ دینے کے بعد، ملکی معیشیت کا جنازہ پڑھانے کے بعد، غنڈوں کے ساتھ حکومت بنانے کے بعد، سیاست کو گھر کی باندی بنانے کے بعد، آج جب مکافات عمل شروع ہوا تو عدالت میں گھگھیا گھگھیا کر کہنے لگا کہ مجھے ماں کے پاس جانے دو، عدالت آتے ہوئے دل کا درد بڑھ جاتا ہے، کوئی کونا بھی محفوظ نہیں پاتا، ملک سے باہر جانے کیلئے منّت پر اتر آیا...
اب سزا ہو یا نہ ہو، یہی بے عزتی تمہاری سزا ہے. دنیا کی سزا تمہارا کیا بگاڑے گی، یہاں زیادہ سے زیادہ موت ہی ہے. لیکن اخروی سزا بہت شدید ہے. کیوں کیا اب بھی ڈرتے ورتے کسی سے نہیں؟
ابنِ سیّد
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments