Showing posts with label military rule in Pakistan. Show all posts
Showing posts with label military rule in Pakistan. Show all posts

Monday, January 6, 2014

جرم پھر جرم ہے

مجھے ٹریفک پولیس نے سگنل توڑتے پکڑ لیا. جب وہ چالان کاٹنے لگا تو میں مچل اٹھا میں نے ایک طرف اشارہ کر کے کہا کہ اسے کیوں نہ روکا وہ بھی تو سگنل توڑ رہا ہے، وہ دیکھو اس گاڑی کی لائیٹ ہی نہیں، وہ دیکھو اسکا ہیلمیٹ نہیں ..پولیس والا کہنے لگا سر کیا آپ نے سگنل نہیں توڑا کیا آپ مجرم نہیں لیکن میں بضد رہا کہ اگر میرا چالان کر رہے ہو تو ان کا بھی کرو... میرا سوال بھی غلط تھا اور میری بحث بھی غلط تھی... مجرم میں تھا لیکن صرف کیوں کہ باقی بچ رہے تھے میں چاہ رہا تھا کہ میں بچ جاؤں باقی سب پکڑے جائی...
جب میں لوگوں کے منہ سے سنتا ہوں کہ صرف مشرف کیوں تو مجھے یہ واقعہ یاد آجاتا ہے...
جرم تو جرم ہے اسکی سزا تو ملے گی، صرف اس بنیاد پر کے ایک قیدی نے جیل توڑ دی باقی کو تو رہا نہیں کیا جانا چاہے ..کیوں؟

ابنِ سیّد

Wednesday, November 13, 2013

ناکامی کی وجوہات

ناکامی کی وجوہات
(سیّد اویس مختار) 

ایک صاحب سے کسی نے پوچھا کہ میں زندگی میں کیا کروں کونسی فیلڈ جوائن کروں اور کونسا پیشہ اپناؤں، جس پر ان صاحب نے الٹا سوال کیا کہ تم خود سے یہ سوال کرو کہ تم کیا بننا چاہتے ہو. یہ تمہاری زندگی ہے اور اس کے فیصلے اگر کوئی اور کریگا تو اس سے تم متفق نہ ہوگے، اور آگے جا کر ناکامی تمہارا مقدر بنے گی.
جب میں نے اس تھیوری کو بڑے تناظر میں دیکھا تو درست پایا. کسی بھی علاقے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کو ہی کرنا چاہیے، اگر پاکستان کے حالات سے نمٹنے کے فیصلے واشنگٹن میں ہونگے تو یقیناً وہ ناکام ہونگے. اسی طرح اگر پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں پاکستان کے اقتصادی ماہرین کے بجاۓ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک والے جنیوا میں بیٹھ کر بنائیں تو یقیناً وہ پالیسیاں ناقابل عمل ثابت ہونگی.
اگر پاکستان کے اسٹریٹیجگ اور ملٹری کے فیصلہ اگر پینٹاگون کریگا تو غلط ہی کریگا اور ظاہر سی بات ہے جو ان اداروں سے جا کر مشورے لیتا ہوگا اس کی عقل پر ماتم کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے.
صرف یہی نہیں، اگر بلوچستان اور بلوچوں کے مستقبل کے فیصلے اگر اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ہونگے تو وہ ناقابل عمل ہونگے اور انکا حقیقت پر مبنی ہونا مشکل ہے.
فاٹا کے مسائل کا حل وہاں کے رہائشی قبائلی رہنما ہی بہتر طور پر نکال سکتے ہیں اگر کوئی دانشور امپورٹ کیا جائیگا تو وہی حال ہوتا ہے جو ہم آج دیکھ رہے ہیں.
یہی ہمارے ملک کا المیہ ہے ہم نے اپنے فیصلے خود کرنے کے بجاۓ بیرونی طاقتوں سے مدد مانگی اور ان پر انحصار کرنا چاہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ہر پالیسی جو ہم نے بیرونی طاقتوں سے مستعار لی تھی اس کو وہاں کے رہنے والوں نے مسترد کردیا اور جب ہم نے وہ پالیسیاں بزورِ قوت.نافظ کرنا چاہیں تو نہ صرف یہ کہ لوگوں نے اس کو قبول نہ کیق بلکہ بعض مواقع پر مسلّح جدوجہد شروع کردی، جس کو روکنے کیلئے مزید مسلّح طاقت کا استعمال کیا گیا نتیجہ یہ کہ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی".
آگج پاکستان جس دلدل میں دھنس چکا ہے اس کا واحد حل یہی ہے کہ عوام کو ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے ،ہم اپنے فیصلے خود کریں ورنہ نتیجہ ہم بھگت چکے ہیں مزید نقصان سے بچا جاسکے گا.

Sunday, November 3, 2013

بزدل آمر حکمران

دیکھا جائے تو مشرف تاریخ کا سب سے بزدل حکمران نکلا. ایسا حکمران جس نے ایک امریکی کال پر ملک کا سودا کیا. چلیں پرانی باتیں چھوڑیں ابھی ہی دیکھ لیں، جب اس پر ایک کے بعد ایک کیس کھلے اور اس کو موت کا چہرہ دکھا تو بھیگی بلّی بن کر کہنے لگا، "والدہ بیمار ہیں علاج کرانے باہر جانے کی اجازت دی جائے".
ایک بہادر شخص اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹتا مگر اس کا حال عجیب ہے، یہاں اس کے حامیان لال مسجد سانحہ کو درست اقدام کہہ رہے ہیں اور دوسری جانب یہ عدالت میں کہہ رہا ہے کہ میں نے آرڈر نہیں دیا. کچھ دن اور رکیں "رحم کی اپیلیں" بھی کرے گا!
کہاں گئی آل پاکستان مسلم لیگ؟ سنا ہے اس کے ارکان آج کل متحدہ میں شمولیت اختیار کررہے ہیں.
جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں بڑی عجیب بات لکھی تھی، کہتا ہے "جو شخص غلط کام کرے لوگ اس کے باپ کو برا کہتے ہیں" آج لوگ پرویز مشرف کے والد "مشرف" کو برا کہہ رہے ہیں جبکہ اسکا اصلی نام "پرویز" ہے...
(ابنِ سیّد)

Monday, October 14, 2013

ایک "بہادر" سپہ سالار کا قصہ

یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب ہمارا ملک گوں نا گوں کیفیات سے گزر رہا تھا یہ وہی دور تھا جس کو بڑے لوگ تاریخ کا نازک ترین موڑ کہتے ہیں جب پاکستان میں ہر طرف خوف کا راج تھا عوام بھوکی مرتی تھی ایسے میں ایک سالارِ اعظم سامنے آیا اور اس نے پاکستان کو ملک کے وسیع تر مفاد میں مشرف با مشرف کیا. یہ شخص جو ایک نڈر سپاہی تھا اب قوم کی امیدوں کا مرکز بنا! اس کے اقتدار میں آتے ہی امریکہ، انڈیا، اسرائیل کے ایوان ہل کے رہگئے. جب امریکہ نے اس کو فون کر کہ کہا ک پتھر کے دور میں پہنچا دونگا تو اس نے پاکستانی فلم کے ہیرو کی طرح للکار کر کہا "نہیییییییں" اور پھر گرج کر "سب سے پہلے اسلام" کا نعرہِ مستانہ بلند کردیا. آخر کار امریکہ کو اس کے قدموں میں بیٹھنا پڑا. اور جب امریکہ نے کہا کہ وہ افغانستان پر حملہ کریگا تو اس بہادر سالار نے کہا کہ "ہماری لاشوں سے گزرنا پڑیگا" اور جب امریکہ نے ڈرون کے لئے ہوائی اڈا مانگا تو اس نے تاریخی جملہ کہا "میں خود کو مسلمانوں کا قاتل نہیں کہلانا چاہتا" اور جب امریکہ نے کہا کہ ہمیں نیٹو سپلائی لیجانے کا رستہ دو تو اس نے کہا کہ اگر اس پاک سرزمین سے مسلمانوں کے قتل کا سامان گزرا تو میرے منہ پر لعنت. انہی دنوں ملکی چینلوں پر نت نئے پروگرامات آئے جس میں لوگوں کو اسلام کا درس دیا جاتا. تمام ملک کے لوگ اسلام کے سچے پیروکار بن گئے اور مخلوط میراتھن جیسی چیزوں کا بائیکاٹ کردیا. اس نے ملک کی وفادار جماعتوں کے ساتھ وفا کی اور انہیں کراچی میں امن کا چارج دیا جس کے بعد کراچی میں امن کا راج ہوا اور ٹارگٹ کِلّر بھوکوں مرنے لگے. بھتّہ دینے والے ڈھونڈتے پھرتے تھے مگر کوئی بھتہ لینے والا نہ ملتا.
یہی وہ شخص تھا کہ جب رخصت ہوا تو قوم.کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ دامن پھیلا پھیلا کر دعائیں دے رہے تھے. دعائیں؟ جی ہاں دعائیں!
Note: All characters appearing in this work are fictitious. Any resemblance to real persons, living or dead, is purely coincidental.

Saturday, October 12, 2013

12 October!

12 اکتوبر...
یہی گرم دن اور حکومت بھی یہی، کارگل کی شکست کے زخم بھرے بھی نہ تھے کے پتہ چلا کہ قومی چینل پر صرف ملی نغمے آرہے ہیں اور پھر وہی آواز "میرے عزیز ہم وطنوں!" ایک بار پھر آمریت دیواریں پھلانگ کر ایوان میں آچکی تھی پھر ایک نئے دور کا آغاز، پاکستان کے عوام مہنگائی سے بے حال تھے، کیوں نہ ہوتے کوئی نئی وجہ تو نہ تھی کب ہم نے دیکھا یا کب سنا کہ مہنگائی ننہیں لیکن یہ وجہ تو نہ تھی.بلکہ ایک ہی وجہ تھی "انا" اور اسی اناپرستی کی آگ نے فوج کو اقتدار کا رستہ دکھایا. وہ آئین جس کو سب نے متفقہ منظور کیا تھا معطل کردیا گیا ایک بندوق کی نال کے زور پر.
لوگ خوش تھے، بیوقوف تھے! سیاسی حلقے پریشان تھے...پھر زوال شروع ہوا وہ سپہ سالار جس کو قوم بہادر سمجھی تھی وہ تو نرا بزدل نکلا، سب سے پہلے کشمیر بکا، پھر جھاد کا نام بکا، پھر سب سے پہلے پاکستان کے نعرے پر افغان مسلمانوں کی جانیں بکیں..پھر کیا کیا نہ بکا میڈیا کی آزادی کے نام پر افکار بکے، روشن خیالی کے نام پر میراتھن ہوئی عزتیں نیلام ہوئیں، ہوائی اڈّے بِکے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنوں کی جانیں بِکیں...مائیں بہنیں بکیں عافیہ بکی...آج تمہارا مجرم ضمانتوں پر ضمانتیں کروا رہا ہے، لیکن ہر عروج کو زوال ہے، ہمارے افکار کا سوداگر بچنے نہ پائے، کیا بھول گئے ہو اے لوگو!....
(ابنِ سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments