Showing posts with label Pseudo Liberalism In Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Pseudo Liberalism In Pakistan. Show all posts

Tuesday, May 6, 2014

کامن سینس از ناٹ سو کامن

کامن سینس از ناٹ سو کامن 

 
ہمارے ملک کا دیسی لبرل طبقہ کہتا ہے کہ ملک میں شراب پر پابندی کی وجہ سے لوگ غیر قانونی شراب کی خرید و فروخت لاکھوں روپے کے حساب سے کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس کے بجاۓ پابندی ہٹا کر ٹیکس لگا دینا چاہیے تاکہ ملک کی معیشیت کو فائدہ ہو، ویسے یہ سب سن کر مجھے ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی جو لوگ امریکی بھیک کیلئے ایمان بیچ سکتے ہیں انکے لئے ایسا کہنا کوئی اچھوتا تجربہ نہیں.
حیرت اس بات پر ہے کہ بجاۓ اپنی پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کی بات کرنے کے یہ لوگ پابندی ہٹا کر ٹیکس لگانے کا کہہ رہے ہیں. اگر شراب غیرقانونی فروخت ہورہی ہے تو اس کی ذمہداری پولیس پر ہے کہ وہ اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہے.
اگر ہم ان کی اس ہی لاجک (اسکو لاجِک کہنا لفظ لاجِک کی توہین ہے) کو لے کر چلیں، تو جناب ملک میں زنا بھی عام ہے تو کیا اس پر بھی ٹیکس لگا کر ملکی معیشیت کو سہارا دیا جائے؟ چوری، ڈکیتی، موبائل اسنیچنگ کی بھرمار ہے تو کیا ہر ڈکیتی پر پندرہ فیصد ٹیکس لگا کر اسے لیگلائز کردیا جائے؟ اور تو اور دھماکے اور خودکش حملوں کی بھی دل کھول کر پیداوار ہے اس حوالے سے حکومت کو حملے کی ایک مقرّر کردہ فیس دے کر معیشیت مضبوط کی جائے اور دھماکوں کی کھلی چھوٹ دے دی جائے؟
اے کاش اس ملک کے لبرلز کیلئے کوئی کامن سینس ڈیویلپمنٹ کا شارٹ کورس ہوتا...

ابنِ سیّد

Image Taken From Here

Sunday, March 2, 2014

یہ سب مولویوں کا کیا دھرا ہے

ہمارے ملک میں ایک طبقہ مولویوں پر حد درجہ "مہربان" ہے. اِن کے ارد گرد کچھ بھی برا بھلا (بھلا کم اور زیادہ تر برا) ہو رہا ہو ان کے منہ سے فوراً یہی جملہ نکلے گا کہ یہ سب کچھ مولویوں کا کیا دھرا ہے.
سردی بڑھ جائے یا گرمی کا زور پڑے، جاڑا چڑھ جائے یا سرسام، کسی ملک پر حملہ ہو یا مسئلہ کشمیر انکے تجزیات کا ایک ہی نچوڑ ہوتا ہے "یہ سب مولویوں کا کیا دھرا ہے".
اپنے اس فوبیا میں اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ اب اگر بات کسی اور موضوع پر ہی ہو لیکن یہ اس میں کسی نہ کسی طرح گھسیڑ کر مولوی کو بیچ میں ضرور لائیں گے تاکہ یاد کیا ہوا اسکرپٹ دوبارہ دہرا سکیں.
اب چاہے امریکہ کے اگلے معرکہ کی خبر ہو یا لیاری میں گینگ وار ہو یا پھر ماڑی پور میں سنگم یہ اپنے پسندیدہ کردار کو ضرور چوک پر لا کر رسوا کریں گے اس کے بغیر انکا کھانا ہضم ہونا مشکل ہوجاتا ہے!
ہاں! یہ الگ بات ہے کہ اپنے بچے کی پیدائش پر کان میں اذان دینی ہو، نکاح پڑھانا ہو،اپنے پیارے کی نمازِجنازہ ہو یا قرآن خوانی، اس طرح کے ہر معاملات میں یہ طبقہ مولوی حضرات کا محتاج ہوتا ہیں.
اب فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے زیادہ قابلِ رحم ان دونوں میں سے کون سا طبقہ ہے.
سوچئے گا ضرور!

ابنِ سیّد
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments