Showing posts with label molvis in pakistan. Show all posts
Showing posts with label molvis in pakistan. Show all posts

Sunday, March 2, 2014

یہ سب مولویوں کا کیا دھرا ہے

ہمارے ملک میں ایک طبقہ مولویوں پر حد درجہ "مہربان" ہے. اِن کے ارد گرد کچھ بھی برا بھلا (بھلا کم اور زیادہ تر برا) ہو رہا ہو ان کے منہ سے فوراً یہی جملہ نکلے گا کہ یہ سب کچھ مولویوں کا کیا دھرا ہے.
سردی بڑھ جائے یا گرمی کا زور پڑے، جاڑا چڑھ جائے یا سرسام، کسی ملک پر حملہ ہو یا مسئلہ کشمیر انکے تجزیات کا ایک ہی نچوڑ ہوتا ہے "یہ سب مولویوں کا کیا دھرا ہے".
اپنے اس فوبیا میں اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ اب اگر بات کسی اور موضوع پر ہی ہو لیکن یہ اس میں کسی نہ کسی طرح گھسیڑ کر مولوی کو بیچ میں ضرور لائیں گے تاکہ یاد کیا ہوا اسکرپٹ دوبارہ دہرا سکیں.
اب چاہے امریکہ کے اگلے معرکہ کی خبر ہو یا لیاری میں گینگ وار ہو یا پھر ماڑی پور میں سنگم یہ اپنے پسندیدہ کردار کو ضرور چوک پر لا کر رسوا کریں گے اس کے بغیر انکا کھانا ہضم ہونا مشکل ہوجاتا ہے!
ہاں! یہ الگ بات ہے کہ اپنے بچے کی پیدائش پر کان میں اذان دینی ہو، نکاح پڑھانا ہو،اپنے پیارے کی نمازِجنازہ ہو یا قرآن خوانی، اس طرح کے ہر معاملات میں یہ طبقہ مولوی حضرات کا محتاج ہوتا ہیں.
اب فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے زیادہ قابلِ رحم ان دونوں میں سے کون سا طبقہ ہے.
سوچئے گا ضرور!

ابنِ سیّد

Tuesday, October 22, 2013

قیامِ پاکستان اور علماء کا کردار

قیام پاکستان کے وقت علماء کے دو گروہ ہوگئے تھے. ایک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بننا مسلمانوں کی طاقت کا بٹوارہ ہے کیوں کہ اس طرح دور کی وہ ریاستیں پاکستان میں شامل نہ ہو پائیں گی. نتیجہ کہ مسلمانوں کے درمیان ایک خلیج حائل ہوجاۓ گی.
اسکے ساتھ ہی دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہتر طور پر اسلام کی کھل کر ترویج و اشاعت  ہو سکتی ہے. اپنے اپنے لحاظ اور عقل علم و سمجھ کی بنیاد پر دونوں گروہ ٹھیک ہوسکتے ہیں.
اور جب پاکستان بنا تو علماء کے دونوں گروہوں نے اس کو دل سے تسلیم کیا. انکا کہنا تھا کہ مسجد بنائی جاۓ یا نا بنائی جائے اس پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جب مسجد بن جاۓ تو مسلمان پر اسکی حفاظت لازم ہوجاتی ہے. انہوں نے اس طرح پاکستان کو مسجد کا درجہ دیا.
دونوں گروہوں نے آپس کے اختلاف ختم کئے اور مل کر پاکستان کی خدمت اور اسلام کی اشاعت میں زندگیاں کھپا دیں.
آج کے دور میں اگر بعض افراد جن کا تعلق ان دونوں علماء کے ساتھ رہا ہو یا غیرتعلق رہے ہوں اگر اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر اسکی بنأ پر رنجشیں پیدا کریں تو یہ نری جہالت ہوگی اور گڑے مردے اکھاڑنے سے مترادف ہے.
(مولانا مسعود اظہر کی ایک کتاب میں کچھ اس بارے میں پڑھا تھا اسکو اپنے الفاظ میں لکھ دیا مختصراً، امید ہے کچھ لکھنے میں غلطی ہو تو احباب تصحیح فرمادیں گے. جزاک اللہ)
(ابنِ سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments