Showing posts with label gulistan e jauher. Show all posts
Showing posts with label gulistan e jauher. Show all posts

Monday, April 14, 2014

انٹرپرینئورشپ : پرفیوم چوک، گلستان ِ جوہر

پرفیوم چوک - گلستان جوہر
یہ ہے پرفیوم چوک، جو کہ دنیا کا پہلا پرفیوم چوک ہے اور گلستان جوہر جیسے "پرامن" اور بارونق علاقے میں واقع ہے. جس طرح "جننے لاہور نئی ویکھیا وہ جمیائ نئی" اسی طرح اگر کراچی میں رہتے ہوئے آپ کو پرفیوم چوک کا حدودِ اربعہ نہ معلوم ہو تو آپکے کراچی والے ہونے پر مجھے شک نہیں، بلکہ یقین ہے. آخری اطلاعات تک اخبارات میں بے شمار آرٹیکل پرفیوم چوک کے بانی کا انٹرویو کر چکے ہیں اور ہم ٹی وی پر ایک عدد ڈرامہ پرفیوم چوک کے نام سے نشر ہوچکا ہے. بعض چھوڑُو حضرات چاند پر بھی پرفیوم چوک لکھنے کے لطیفے بیان کرچکے ہیں.
لیکن پھر بھی مزاح برطرف اس کوشش کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے شاید ہی کہیں اس لیول کی مارکیٹنگ کی اعلی مثال موجود ہو! آج کراچی کا کوئی حصہ پرفیوم چوک کی ایڈورٹائزنگ (جسے دوسرے الفاظ میں وال چاکنگ بھی کہتے ہیں) سے خالی نہیں. بقیہ کراچی سے باہر کا مجھے علم نہیں اس بارے میں باہر والے حضرات ہی صحیح بتا سکیں گے.
آئیں ذرا قریب سے اس چوک کا جائزہ لیتے ہیں تقریباً دو ضرب چار فٹ کی حدود کا کیبن اور اونچائی لگ بھگ دس فٹ، نچلا آدھا حصہ لوہے کی دیوار جبکہ بقیہ شیشے کا بنا ہوا جس میں چاروں اطراف میں مختلف اقسام کی خوشبوئیں شیشیوں میں مقید دکھائی دیتی ہیں. اوپر ایک چوڑا سا بورڈ جس پر لکھا ہوا ہے دنیا کا پہلا پرفیوم چوک پروپرائٹر مرسلین خان. ایک اور عجیب بات اس پر لکھا ہونا "اسٹال نمبر 13" تو کیا کراچی میں اور کہیں بھی اس طرح کے بارہ اسٹال موجود ہیں؟ نہیں تو! پھر یقیناً یہ تیرہ نمبر ایک الگ کہانی بیان کر رہا ہے شاید یہ وہ تعداد ہے جتنی دفعہ یہ اسٹال ٹوٹ کے بن چکا ہے (واللہاعلم) کئی دفعہ تو ہم خود اسے ٹوٹا پڑا دیکھ چکے ہیں. اور اس ٹوٹ پھوٹ والے دنوں میں پروپرائٹر مرسلین خان شیروانی ایک ٹیبل پر پرفیوم لگا کر بیٹھتا ہے لیکن کمال ضبط ہے کہ جگہ ہمیشہ وہی رہتی ہے کبھی چند گز آگے تو کبھی پیچھے لیکن وہیں آس پاس. اس ہی مستقل مزاجی کی وجہ سے جس جگہ کا پہلے کوئی نام نہ تھا اور بعض افراد نے اس جگہ کے مختلف نام رکھنے کی کوشش کی، لیکن عوام اس جگہ کو "پرفیوم چوک" کے نام سے ہی پکارنے لگے!
بزنس کی تعلیم میں اکثر ہمیں معروف انٹرپرینئورز کی مثالیں دی جاتی ہیں جیسے ایپل کمپنی کے اسٹیو جابز، رے کروک جس نے میکڈونلڈ شروع کی، کوکا کولا والے جان پِنبرٹن، ڈیزائنر امیر عدنان، وغیرہ ... میرے خیال سے مرسلین خان کا پرفیوم چوک بھی ایک انٹرپرینئورشپ جدوجہد کی اعلی مثال ہے اور بزنس کے طلباء کو دوسرے لوگوں کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ اس انٹرپرینئور کے بارے میں بھی بتانا چاہئے کم از کم یہ ایک ایسا بندہ ہے جس سے ایک بزنس کا طالبعلم ملاقات بھی کرسکتا ہے اور اس شخص سے اس کے کاروبار کے بارے میں معلومات بھی آسانی سے حاصل کرسکتا ہے!

ابنِ سیّد

Thursday, July 18, 2013

A Sad Incident in Gulistan e Jauher , Karachi



A day before yesterday a taxi driver who was going with his family (wife and 4 year old son) was killed by Rangers near Gulistan e Jauher, Karachi, some said that he was ordered but he did not stopped, if we take this case then the taxi mirror must be broken from behind in this case, but this is not happened, the taxi's windscreen is broken which means they fired from front side. Some said that he was in speed due to which he goes beyond rangers then he stopped and reversing at that time he was shot. However mostly this not happens as when you are with family, you don't do tricking with security officials, we all do this sometimes in a hurry we don't stop or to avoid challans or penalties, but very few do this when with family. Also, the security officials must not be given right to shoot when someone not stop car, unless it is a high red zone area. 

Also I must suggest all of readers, that this checking on every corner is for our security, we all feel secure when we see security officials specially when on strikes we want to go to office and when we see them standing on roads and doing their duty this scene makes us even more secure. Must cooperate with all of them, surely such incidents might increase gaps between our security institutes and the civilians, which is certainly not beneficial for both.

This is my opinion on the said issue.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments