Showing posts with label pakistan. Show all posts
Showing posts with label pakistan. Show all posts

Monday, June 23, 2014

The Truth bit bitter - By Abdul Muqeet Khan

In 1947 when Pakistan came into being by the blessing of Almighty Allah and the efforts of our prominent civil leader and hero Quaid-E-Azam M.A.Jinnah . He became the first Governor General of Pakistan. He worked hard for the prosperity of the nation and the country. After one year he passed away and Pakistan got orphan, then the Liaquat Ali Khan who was the first prime minister of Pakistan worked hard for the development of Pakistan. He was very affluent and financially sound; he deserted his possessions and mansion for the sake of Pakistan, but the woe for Pakistan that he acquired martyrdom.

From this point Pakistan’s decline starts.

In 1958, the government in reaction to the riots ultimately asked the military for assist and in response Corp Commander of Lahore General Muhammad Azam Khan decreed the first martial law in parts of the country.

This was a turning point in the country's history and even though the riots were eventually oppressed by military force but the seeds of impatience were sown in the Pakistani society. Ayoub Khan took the rein of the country and ruled over it for 10 years.

That was the first time when army forayed into the government and proved that army not subordinate of any political force. Time passed and military established its root into the political system of Pakistan. Now if talk about Bhutto who became 9th prime minister of Pakistan. Bhutto was basically a feudal lord. He couldn’t be a good elected prime minister although he was a good rhetoric and had speech in the mammoth gathering. His frame of mind never met with the common people and what nowadays is being done his grandson who never be a Bhutto but due to lack of strict implementation of law he turned out Bhutto and now ruling Pakistan People Party. I sometimes astound that a guy barely would be of 25 years could be a leader of the Pakistan’s political party. How the other leaders of PPP acknowledge him. Is not it really absurd. It’s a frequent saying that Pakistan disintegrates in the Bhutto’s regime but was there only Bhutto who disintegrated? Actually foreign policy was devising by the “others”. Then Zia intervene and topple Bhutto’s regime .One thing I couldn’t comprehend that why “patriotic” General of Pakistan couldn’t tumble Bhutto’s regime when Pakistan was disintegrated. Zia era was good for religious school of thought. In all this regimes Pakistan not only disintegrated but its economy endlessly declined. Then again after couple of years Benazir Bhutto came into power. She would also belong to the feudal class as she was a daughter of a feudal lord Zulfiqar Ali Bhutto.

Mian Nawaz Sharif epoch comes in and he got power. He is also a businessman. His approach always towards profit, not the profit of Pakistan but the profit of his own. He has his steel mill not in Pakistan but in Middle East. How could he sincere with Pakistan when he even do not crave to establish his mills in Pakistan and never longs to draw back buck in Pakistan. They people don’t even think for Pakistani people and why do they think? They don’t have time to ponder on the condition of people. Again misfortune came for the country. A man who was appointed by Nawaz Sharif now wanted to collapse his government and he succeeded. Totally timid General ,Pakistan ever seen such cowards who bow himself down before America and handed over our basis to America that was the worst time in the history of Pakistan. Contingents of the other countries invaded in Pakistan and developed their network, worse time for Pakistan when suicide bombers stared to go off him selves. Commando ran away then came back and now willing to go abroad but a common and a poor Pakistani suffering worse condition of country. Now again Nawaz Sharif dominating the country for the 3rd time. Same Nawaz Sharif same businessman. Some time I feel that is it the same nation who elected Nawaz Sharif for the 3rd time or it’s their revolt offspring who despite of forbidding cast their vote for Nawaz Sharif. Two to three families are running the whole country one ruling while other waiting for his turn. In Pakistan neither democracy could give respite to the poor nor autocracy worked. Now military is far away from treasury benches since the couple of elected governments era. It seems good gesture from the military side but despite of all that, elected government failed to deliver. Pakistani youth needs revolution not from foreign country but from Pakistan .Nation totally fed up with all these again and again dominance. Youth needs employment, man needs security, women need shelter, old needs benefits and Pakistan needs pious, piety and sincere leader.

From,

Abdul Muqeet Khan!!!

This is a guest blog by Mr. Abdul Muqeet Khan. This is his opinion, for any clarification you can directly contact him or comment below.

Saturday, June 14, 2014

میڈیا : غلط رپورٹنگ کے بھیانک نتائج



کراچی ایئرپورٹ حملہ ، کیا آپ جانتے ہیں ذمہ داری کس نے قبول کی؟
عمر خراسانی نام کی ٹویٹر پروفائل نے! یہ بندہ کون ہے، اس کا ٹی ٹی پی سے کیا تعلق ہے، تعلق ہے بھی کہ نہیں، کہیں یہ جعلی پروفائل تو نہیں، یہ سب جانے بغیر اس پروفائل پر ابھرنے والے میسج کو یہ کہہ کر کہ رپورٹ کردیا جاتا ہے کہ ذمہ داری قبول کرلی گئی. کیا وہ اس کالعدم تنظیم کا ترجمان ہے؟ نہیں پھر کیوں یہ غیر ذمہ دارانہ رویّہ؟
اگلے دن پہلوان گوٹھ میں دو جرائم پیشہ گروپوں میں مسلّح تصادم ہوتا ہے، میڈیا پھر الرٹ ہوجاتا ہے، اے ایس ایف کے جوان حرکت میں آجاتے ہیں اور عمر خراسانی کی پروفائل پر لکھا آتا ہے کہ "ہم دوبارہ آگئے" اور فوراً ہی میڈیا رپورٹ کردیتا ہے کہ ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی. ویل ڈن میڈیا! !
اسلامک موومنٹ آف ازبکستان بھی اگلے روز حملے کی ذمہ داری قبول کرلیتی ہے، ہم سمجھے شاید اب میڈیا اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے کے غلط رپورٹنگ ہوئی لیکن یہاں اپنی غلطیوں کو دیکھنے اور درست کرنے کی کسے فرصت ہے، رپورٹ کردو ورنہ کوئی اور رپورٹ کردیگا، لہذا فوراً رپورٹ کردیا جاتا ہے اور چلا چلا کر دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ یہ نیوز سب سے پہلے ہم نے بریک کی... اب صحیح ہے یا غلط لیکن بریک ہم نے کردی، ذرائع معتبر ہیں یا غیر معتبر، لیکن پہلے ہم نے بریک کردی... غیر ذمہ داری کی حد ہوگئی!
بتانے کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں کسی سے ہمدردی ہے بلکہ جب بھی پاکستان میں کسی مسئلہ کو بنا تحقیق رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس کی وجوہات الگ ہی ہوتی ہیں، اور میڈیا کی اس رپورٹنگ کا نتیجہ بھیانک نکلتا ہے. سوات کی کوڑے مارنے والی جعلی ویڈیو نے بھی آپریشن کا جواز فراہم کردیا اور اس آپریشن نے پورے ملک میں اس جنگ کو پھیلا دیا. بعد میں غلط رپورٹنگ کی غلطی تسلیم کی گئی لیکن کیا لگنے والی آگ بجھ گئی؟ یہ غلط رپورٹنگ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں استعمال ہوتی رہی ہیں، اس ہی طرح کی ویڈیو امریکہ کے افغانستان پر حملے سے پہلے بھی ریلیز ہوئی تھی. اور اس ہی طرح کی غلط رپورٹنگ عراق میں کیمیاوی ہتھیار کے بارے میں بھی چلیں ...
بات دور نکل گئی، اگلے روز ہم دیکھتے ہیں ملک کے سب سے "محب وطن" چینل اےآروائی کے رپورٹر پوزیشن پر کھڑے سیکیورٹی اہلکار کے منہ میں مائیک گھسا کر سوال کرتے پائے جاتے ہیں. کیا ان کیلئے پیمرا قوانین مرتّب نہیں کرتا یا پھر محب وطنی کی اجرت میں انہیں ہر طرح کا استثنی حاصل ہے؟
میڈیا کو بہت ہی غلط پیرائے میں استعمال کرکے آپریشن کے حق میں رائے ہموار کی جارہی ہیں لیکن یہ سب کون کررہا ہے، یہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ کسی اور کو لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے حق میں نہیں کررہے کیوں کہ پاکستان کا مفاد ایک پائیدار امن میں ہے جو کہ ملک میں بندوق کے استعمال سے قائم ہوتا نظر نہیں آتا.

ابنِ سیّد

Saturday, June 7, 2014

تورا بورا کس کا بنا؟

Image from here
کیا منظر ہے یہ، ہوا میں گردش کرتے ہیلی کاپٹر نیچے اترتے ہیں. ایک نیٹو کا فوجی ڈبل کیبن میں بیٹھا ہے اس کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے ہیں جنہیں وہ بار بار ہاتھوں سے صاف کرتا ہے، آج وہ رہا ہونے جارہا ہے، لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کے بدلے میں مجاھدین اپنے پانچ افراد رہا کرارہے ہیں، پورے علاقے کو قریباً اٹھارہ مجاھدین نے گھیرا ہوا ہے، ہیلی کاپٹر اتر جاتا ہے اور مجاھدین کی جانب سے دو افراد امریکی فوجی کو لئے آگے بڑھے دوسری جانب سے بھی دو افراد آگے بڑھے لیکن ان کے سراپے سے گھبراہٹ عیاں ہے، اس ہی گھبراہٹ کے درمیان دونوں گروہ ہاتھ ملاتے ہیں لیکن ایک امریکی اتنا خوفزدہ ہے کہ بس اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر ہلکے سے چھوتا ہے اپنے ساتھی کو لے کر ہاتھ ہلاتے ہوئے واپس مڑ جاتے ہیں.
قیدیوں سے اچھے سلوک کی ایک اور مثال رقم ہوجاتی ہے، پانچ سال طالبان کی قید میں رہنے والا، آرام سے اپنے پاؤں پر کھڑا بھی ہے اور چل بھی رہا ہے. دوسری جانب بی بی سی، سی این این وغیرہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ قیدی کی صحت کیسی ہے. ہم دیکھتے ہیں امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ، گوانتانامو کی جیل میں موجود قیدی، ابو غریب جیل کے غرباء، ان کے ساتھ جو بدتر سلوک ہوا اور جو سلوک امریکہ فوجی کے ساتھ ہوا کوئی تقابل ہے انکا... نہیں
کیا کسی نے سوچا، نائن الیون کے بعد فخر سے تنا ہوا سر لے کر امریکہ جب افغانستان میں داخل، تو یہ نوبت بھی آنی تھی. آج امریکہ خطے سے ذلیل اور رسوا ہوکر نکل رہا ہے.
پتھر کے دور میں کون پہنچا؟
تورا بورا کس کا بنا؟
افغانستان گیارہ سال مقابلہ کے بعد سر اٹھا کر کھڑا ہے اور ہم قریباً اتنے ہی سال امریکہ کی چاکری کرنے کے بعد منہ دکھانے کے قابل نہیں. تاریخ میں رقم ہوگا اس صلیبی جنگ میں غداری کا تمغہ ہم پاکستانیوں کے سر رہا! کاش ایک دہائی قبل صحیح فیصلہ کرلیتے...
ابنِ سیّد

Sunday, April 27, 2014

کون سا یہ کون سا وہ، میں نہ مانوں، وغیرہ وغیرہ

اچھا بہانہ ہے جب کسی کی بات نہ ماننی ہو تو اس کی بات سے بات نکالو، سوالات کرو اور جواب سننے سے پہلے اگلا سوال داغ دو. اب یہی دیکھ لیں، جب کوئی اسلام کے نفاذ کی بات کرے تو جواب میں سوال ملتا ہے کہ "کون سا اسلام؟" جیسے انکے نزدیک نعوذباللہ اسلام کی کئی اقسام ہیں. اسلام تو ایک ہی ہے اللہ اور اس کے رسول کا اسلام. اب ایسا سوال سن کر آپ سمجھ جائیں کہ اگلا شخص بات نہیں سمجھنا چاہ رہا بلکہ باتوں میں لگانا چاہ رہا ہے.
اس ہی طرح ان افراد کا کام ہوتا ہے کہ دوسرے افراد کو لایعنی بحثوں میں الجھاۓ رکھنا. کوئی جہاد کی بات کرے تو کہتے ہیں "کون سا جہاد؟" کشمیر کا، افغانستان کا، عراق کا، شام کا یا کدھر کا. آپ کہیں کشمیر تو یہ کہیں گے کہ وہ تو ایجنسیوں کا جہاد ہے، آپ کہیں افغانستان تو کہیں گے کہ وہ تو امریکہ سپورٹڈ جہاد تھا، آپ کہیں عراق و شام تو یہ کہیں گے کہ وہ تو فرقاوارانہ لڑائی ہے. غرض الجھاۓ رکھنا مقصود ہو تو بہانے ہزار اور سمجھنا مقصد ہو تو قرآن کی ایک آیت بھی کافی ہوجاتی ہے.
مولانا مودودی (رح) نے ایسے ہی افراد کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر آپ ہماری دعوت سمجھنا چاہیں تو ہم سمجھانے کیلئے حاضر ہیں لیکن اگر آپ کا مقصد سمجھنا نہیں بلکہ الجھنا اور الجھاۓ رکھنا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں آپ جب تک چاہیں اپنا شغل جاری رکھیں.
ابنِ سیّد

Friday, April 18, 2014

پاک فوج کو سلام

پاک فوج کو سلام
ہائی وے پر دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ ہر دوسرے ٹرک کے پیچھے یہ جملہ لکھا ہے، "پاک فوج کو سلام". میرا دل بھی کہتا ہے میری پاک فوج کو سلام، پاک فوج زندہ باد. یقیناً آپ سوچ رہے ہونگے کے فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے والے شخص کو آج فوج پر اتنا پیار کیسے آرہا ہے؟ تو جناب سن لیجئے تنقید برائے اصلاح انہی کیلئے کی جاتی ہے جن سے محبت ہوتی ہے اور جن لوگوں کے بارے میں بھلائی کی چاہت ہوتی ہے، یہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح ہے. میری اور میرے جیسے بیشتر نوجوانوں کی تربیت اس ہی پیرائے میں ہوئی ہے، پاک فوج سے محبت ہماری تربیت کا خاص جز ہے. چھوٹا سا لڑکا، جو ٹھیک سے بول بھی نہیں پاتا لیکن جب سوال کیا جائے کہ بیٹا کیا بنو گے؟ تو جواب آتا ہے "فوجی جوان"، یقیناً اس طرح کا جواب سن کر ماں باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہوجاتا ہے. آرمی، نیوی، ایئرفورس ہمارے بچپن کے آئیڈیل! کینٹ کے علاقوں سے گزرتے ہوئے ایک تحفظ کا احساس، ہڑتال اور خراب حالات جب پولیس بھی سڑکوں پر نہ نکلے ایسے میں رینجرز کی گاڑی ہمیں حوصلہ دلاتی ہے.
لیکن اتنی محبت کے باوجود یہ فاصلے پیدا کیسے ہوئے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس سب معاملے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہم سب کا فرض ہے، نہیں تو کم از کم یہ ضرور جانیں کہ اس خلیج کو پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہے!
فاصلے کبھی یوں نہیں پیدا ہوتے بلکہ افراد کا عمل فاصلے پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے. قائد اعظم کانگریس کے لیڈران میں سے تھے لیکن فاصلے پیدا ہوئے اور انکو الگ ہونا پڑا، "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کا ترانہ لکھنے والا قلم اقبال کا ہی تھا پھر اس ہی ذہن نے علحدہ پاکستان کا تصور دیا، چند افراد کے رویّوں نے بنگال کے عوام کو اتنا متنفر کردیا کہ وہ سرزمین جہاں سے مسلم لیگ کا آغاز ہوا تھا وہاں کے باسیوں نے اعلان بغاوت کردیا... کیا یہ سب شروع سے پلان کا حصہ تھا؟ نہیں! بلکہ انکے نظریات کی تبدیلی میں حالات، واقعات اور سب سے بڑھ کر افراد کے رویّوں کا ایک بڑا ہاتھ ہے.
آج پاکستان کی افواج، عوام اور دوسرے اداروں کے درمیان جو خلیج حائل ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً ہم سب جانتے ہیں کہ ایک فرد واحد کی بزدلی اور کم ہمّتی نے بحیثیت قوم ہمیں اس پستی اور گہرائی میں دھکیل دیا جہاں سے واپس اپنے سابقہ مقام تک آنے میں ہمیں دہائیاں لگ سکتی ہیں. وہ ایک شخص جس کے ظلم و جبر کے رویّہ، نفرت آمیز بیانات اور انا پرستی نے اداروں کو آپس میں لڑوایا. یہاں تک کہ ہمارے عوام اور افواج کے درمیان دوریاں پیدا ہونی شروع ہوگئیں،باہم دست و گریباں کی کیفیت پیدا ہوگئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ اپنی ہی زمین ہماری افواج اور ہمارے عوام پر تنگ ہوتی گئی، یہ سب کچھ صرف اُس ایک شخص کی وجہ سے جس نے اس قومی ادارے کو اپنی انا کی تسکین کی بھینٹ چڑھا دیا.
ایک شخص پورا دن روزہ رکھے لیکن وقتِ افطار سے قبل روزہ توڑ دے تو نہ صرف اس کا روزے کا ثواب جاتا رہتا ہے بلکہ الٹا کفارہ بھی واجب ہوجاتا ہے. یہی کچھ پرویز مشرف نے کیا اور اس کا خمیازہ بھگتا، چالیس سال کی ملک و قوم کیلئے فوجی خدمات کو بیشک سلام لیکن آخر وقت میں اقتدار کی بھوک میں آئین کی پامالی، اداروں کی تذلیل اور افواج کے مورال کو گرانے والے شخص کیلئے سب سے اچھا انصاف صرف یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کو اس ملک کی عدالت کے ذریعہ سزا دلوائی جائے تاکہ آنے والے دور کیلئے یہ ایک عبرتناک مثال بن کر سامنے آئے، لیکن اگر اس کے برعکس مقتدر اداروں کی جانب سے ان سب کے ذمہ دار جناب مشرف کو سہارا دیا گیا اور کلین چٹ دے دی گئی، تو آنے والے دور میں تاریخ ایک نیا نوشتہ لکھے گی، لیکن اس دفعہ کہانی میں ہمارا نام نہ ہوگا.

ابنِ سیّد

Monday, April 14, 2014

انٹرپرینئورشپ : پرفیوم چوک، گلستان ِ جوہر

پرفیوم چوک - گلستان جوہر
یہ ہے پرفیوم چوک، جو کہ دنیا کا پہلا پرفیوم چوک ہے اور گلستان جوہر جیسے "پرامن" اور بارونق علاقے میں واقع ہے. جس طرح "جننے لاہور نئی ویکھیا وہ جمیائ نئی" اسی طرح اگر کراچی میں رہتے ہوئے آپ کو پرفیوم چوک کا حدودِ اربعہ نہ معلوم ہو تو آپکے کراچی والے ہونے پر مجھے شک نہیں، بلکہ یقین ہے. آخری اطلاعات تک اخبارات میں بے شمار آرٹیکل پرفیوم چوک کے بانی کا انٹرویو کر چکے ہیں اور ہم ٹی وی پر ایک عدد ڈرامہ پرفیوم چوک کے نام سے نشر ہوچکا ہے. بعض چھوڑُو حضرات چاند پر بھی پرفیوم چوک لکھنے کے لطیفے بیان کرچکے ہیں.
لیکن پھر بھی مزاح برطرف اس کوشش کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے شاید ہی کہیں اس لیول کی مارکیٹنگ کی اعلی مثال موجود ہو! آج کراچی کا کوئی حصہ پرفیوم چوک کی ایڈورٹائزنگ (جسے دوسرے الفاظ میں وال چاکنگ بھی کہتے ہیں) سے خالی نہیں. بقیہ کراچی سے باہر کا مجھے علم نہیں اس بارے میں باہر والے حضرات ہی صحیح بتا سکیں گے.
آئیں ذرا قریب سے اس چوک کا جائزہ لیتے ہیں تقریباً دو ضرب چار فٹ کی حدود کا کیبن اور اونچائی لگ بھگ دس فٹ، نچلا آدھا حصہ لوہے کی دیوار جبکہ بقیہ شیشے کا بنا ہوا جس میں چاروں اطراف میں مختلف اقسام کی خوشبوئیں شیشیوں میں مقید دکھائی دیتی ہیں. اوپر ایک چوڑا سا بورڈ جس پر لکھا ہوا ہے دنیا کا پہلا پرفیوم چوک پروپرائٹر مرسلین خان. ایک اور عجیب بات اس پر لکھا ہونا "اسٹال نمبر 13" تو کیا کراچی میں اور کہیں بھی اس طرح کے بارہ اسٹال موجود ہیں؟ نہیں تو! پھر یقیناً یہ تیرہ نمبر ایک الگ کہانی بیان کر رہا ہے شاید یہ وہ تعداد ہے جتنی دفعہ یہ اسٹال ٹوٹ کے بن چکا ہے (واللہاعلم) کئی دفعہ تو ہم خود اسے ٹوٹا پڑا دیکھ چکے ہیں. اور اس ٹوٹ پھوٹ والے دنوں میں پروپرائٹر مرسلین خان شیروانی ایک ٹیبل پر پرفیوم لگا کر بیٹھتا ہے لیکن کمال ضبط ہے کہ جگہ ہمیشہ وہی رہتی ہے کبھی چند گز آگے تو کبھی پیچھے لیکن وہیں آس پاس. اس ہی مستقل مزاجی کی وجہ سے جس جگہ کا پہلے کوئی نام نہ تھا اور بعض افراد نے اس جگہ کے مختلف نام رکھنے کی کوشش کی، لیکن عوام اس جگہ کو "پرفیوم چوک" کے نام سے ہی پکارنے لگے!
بزنس کی تعلیم میں اکثر ہمیں معروف انٹرپرینئورز کی مثالیں دی جاتی ہیں جیسے ایپل کمپنی کے اسٹیو جابز، رے کروک جس نے میکڈونلڈ شروع کی، کوکا کولا والے جان پِنبرٹن، ڈیزائنر امیر عدنان، وغیرہ ... میرے خیال سے مرسلین خان کا پرفیوم چوک بھی ایک انٹرپرینئورشپ جدوجہد کی اعلی مثال ہے اور بزنس کے طلباء کو دوسرے لوگوں کے بارے میں بتانے کے ساتھ ساتھ اس انٹرپرینئور کے بارے میں بھی بتانا چاہئے کم از کم یہ ایک ایسا بندہ ہے جس سے ایک بزنس کا طالبعلم ملاقات بھی کرسکتا ہے اور اس شخص سے اس کے کاروبار کے بارے میں معلومات بھی آسانی سے حاصل کرسکتا ہے!

ابنِ سیّد

Sunday, April 13, 2014

موجودہ ملکی حالات پر تبصرہ

تو جناب ہوا کچھ یوں کہ کچھ جماعتوں نے کہا کہ مذاکرات کرلیے جائیں، ٹھیک رہے گا. ادھر سے مذاکرات مخالف افراد نے زور لگایا دوسری جانب میڈیا نے انہیں پورا پورا سہارا دیا. مذاکرات کی کمیٹی بنی قافلہ نکلا تو پورا تھا جب منزل پر پہنچا تو صرف پروفیسر ابراہیم رہ گئے. مذاکرات کامیاب ہوگئے اور جنگ بندی ہوگئی، تعریف کے ڈونگرے پھر بھی نہ برسے، اور تعریف مانگتا بھی کون ہے اس مردِ قلندر کو تو بس قوم کیلئے امن درکار تھا سو حاصل کیا.
مذاکرات کی مخالفت کرنے والی مذہبی جماعتوں میں پیش پیش سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت، چلو ایک اچھی پیش رفت یہ کہ دونوں مسالک "ایک" ایجنڈے پر متفق ہیں (ایجنڈا کس کا ہے، یہ چھوڑ دیں) .. باقی رہ گئے اس ملک میں رہنے والے بقیہ 99 فیصد افراد تو جناب بلڈّی سویلینز کی پہلے ہی سنتا کون ہے. اب تو طالبان بھی دھماکوں کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں مذاکرات مخالف افراد اب کس بنیاد پر کریں گے مخالفت. ابھی کچھ دن جو امن کے ملے ہیں وہ مذاکرات کی ہی مرہون منّت ہیں، اسی امن کا فائدہ اٹھا کر تو "قوم کا وقار" باہر بھاگنے کے موڈ میں ہے، قوم کو چاہیے کہ "قوم کے وقار" کو باہر نہ جانے دیں،قوم کا وقار باہر چلا گیا تو پیچھے کیا رہ جائیگا؟ ٹھینگا!
بعض لوگوں نے تان اڑائی کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کا ہوگا امن. یار لوگ گنتے رہے. جمعہ جمعہ پورا مہینہ ہوگیا اور پھر جنگ بندی مزید اور عرصہ طویل ہوگئی. اب پوچھو تو جواب نہیں، کاٹو تو لہو نہیں!
وطنِ عزیز پہلے بھی نازک دور سے گزر چکا ہے، یہ دور بھی گزر جائیگا. اس ملک کے چاہنے والے ذلت پہلے بھی بھگت چکے ہیں، زخم اور سہہ لیں گے، پروا نہیں! نعرہ پھر بھی لگتا رہیگا پاکستان زندہ باد! پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ!
ابنِ سیّد

Wednesday, April 9, 2014

کس کا پاکستان؟

اس قوم کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے کہ پینسٹھ سال گزرنے کے بعد آج یہ بحث کی جارہی ہے کہ قائد اعظم کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے، مسٹر جناح اور مولوی جناح کی بحث یا تو خود شروع ہوگئی یا پھر ہوسکتا ہے کہ ایک منظّم سازش کے تحط نہ صرف یہ معاملہ اٹھایا گیا بلکہ اس پر مختلف افراد کو لکھنے پر آمادہ بھی کیا گیا، ظاہر سی بات ہے جب ایک ذی شعور انسان یہ دیکھتا ہے کہ اس کے قومی ہیروؤں کو بالکل ہی الگ طرح سے پیش کیا جارہا ہے تو اس کے دل میں موجود اس ہیرو کا کردار پاش پاش ہوجاتا ہے اور وہ پھر چپ نہیں رہتا بلکہ اس کا قلم حرکت میں آجاتا ہے. ایک لبرل دانشور کی جانب سے قائد اعظم پر لکھا گیا کالم جس کے جواب میں دائیں بازو کے قلمکاروں نے قائد اعظم کی شخصیت کے اسلامی پہلو کے حوالے سے کالم لکھے اور اس کے بعد بحث برائے بحث کا یہ سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا.
آج اتنے عرصہ بعد اس بحث کا مقصد کیا لوگوں کو اصلیت بتانا ہے یا مزید غلط فہمیاں پھیلانی ہے. جو تمام افراد اس کام میں آج کل مصروف ہیں وہ اس بات کا فیصلہ خود کرسکتے ہیں.
رہی بات ایک عام آدمی کے کنفیوژن کی تو اس کیلئے وہ یہ کرسکتا ہے دیکھے کہ جو شخص اس موضوع پر بات کر رہا ہے وہ کس قماش کا انسان ہے. یقیناً اس سے ایک عام سمجھ بوجھ رکھنے والے انسان کو آسانی ہوگی، جب لوگ دیکھتے ہیں کہ جو افراد مسٹر ہونے کی تاویلیں دیتے نہیں تھکتے ان کا سابقہ ریکارڈ خود ٹھیک نہیں اور اس پر اگر وہ ٹھیک بھی کہہ رہے ہوں تو پھر بھی انکی رائے کی اہمیت نہیں رہتی.
زیادہ عرصہ نہیں گزرا ایم کیو ایم کی جانب سے قائد اعظم کا پاکستان یا طالبان کا پاکستان کا شوشہ چھوڑا گیا تھا اور اس پر ریفرنڈم بھی کرایا گیا، جب یہی ووٹنگ سماع ٹی وی کی ویبسائٹ پر کی گئی تو ستّر فیصد افراد نے طالبان کے پاکستان پر ووٹ دیا، وجہ یہ نہیں کے وہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں چاہتے تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ اس سوال کو اٹھانے والے افراد کے کردار سے متاثر نہیں تھے.
میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کیوں کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، اور پاکستان کی ننانوے فیصد آبادی کا مذہب اسلام ہے لہذا پہلے ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ریاست کے بارے میں کیا تعلیمات تھیں یقیناً ہمیں ایک تشفی بخش جواب بھی ملے گا اور ہمیں اس سوال کا بھی جواب مل جائے گا کہ ہمیں کس پاکستان کیلئے اپنی کوششیں صرف کرنی چاہیے.
ابنِ سیّد

Monday, April 7, 2014

فحاشی کیخلاف مہم

بالآخر قاضی حسین احمد صاحب نے جس کام کو شروع کیا اور تمام اسلامی جماعتیں جس پر یکسو تھیں خاص طور پر تنظیم اسلامی کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں، اس مہم کا ایک اہم قدم جماعت اسلامی کی جانب سے پارلیمنٹ میں فحاشی کیخلاف آواز اٹھانا ہے. جماعت اسلامی نے پیمرا کے اصولوں پر عمل کرنے کا کہتے ہوئے پاکستان آئیڈول اور مختلف فحاشی کو فروغ دیتے پروگرامات کو بند کرنے کے بارے میں بات کی. آج اس بات کو ملک کی غالب اکثریت بھی مان رہی ہے بلکہ خود میڈیا میں کام کرنے والے افراد اس بات پر متّفق ہیں کہ میڈیا کو بہت غلط رخ پر لیجایا جارہا ہے. جب کسی پانی میں گندگی ہلکے ہلکے ملائی جائے تو گندگی زیادہ ہونے کے باوجود اس کا ادراک دیر سے ہوتا ہے. یہی کچھ میڈیا نے کیا، فحاشی کی شروعات ہلکے ہلکے ہوئی اور اب تو ٹی وی پر آنے والی خاتون کو ڈوپٹہ سر پر ڈالنا معیوب سا لگنے لگا ہے کجا کہ اسے پابند کیا جائے.
بعض لوگ کہتے ہیں "فحاشی کی سب کی اپنی اپنی تعریف ہے. کسی کیلئے فحاشی کا معیار کچھ ہے اور کسی کیلئے کچھ تو کس معیار کی پابندی کی جائے، فحاشی کی کون سی تعریف کو درست مانا جائے؟" تو جناب سب کا معیار الگ ہے اور اس معاملے میں اختلاف ہے تو کیا گدھے گھوڑوں کی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے؟ اس طرح تو کرپشن کی بھی اپنی اپنی تعریف ہے، میں رشوت کو ناجائز سمجھتا ہوں جبکہ کوئی دوسرا اس کو اپنا حق گردانتا ہے تو کیا اس کو کرپشن کا حق حاصل ہوگیا؟ ہرگز نہیں! فحاشی کی مختصر تعریف یہ ہے کہ "ہر وہ چیز جو زنا کی جانب لیجائے". جس طرح معاشرے کی اور خرابیوں کی بذریہ قانون روک تھام کی جاتی ہے بالکل اس ہی طرح فحاشی بھی ایک خرابی ہے اور اس کی بھی روک تھام ضروری ہے.
یہاں ایک اور اہم بات، سوال یہ نہیں کہ کوئی کیا چاہتا ہے، نہ یہ ہے کہ پیمرا کے قوانین اور ضابطہ اخلاق کیا کہتے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اس بارے میں اسلام کے اصول کیا ہیں.
یہ نہایت افسوسناک بات ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت میں ایسی گستاخانہ باتیں اب سرعام پارلیمنٹ میں ہورہی ہیں. جماعت اسلامی کے موقف کے مقابل ایک صاحب نے مضحکہ اڑاتے ہوئے ریموٹ کنٹرول کے استعمال کا مشورہ دیا یعنی برائی ہوتے دینے اور ریت میں منہ چھپانے کا مشورہ، چوری ہوتے دیکھ کر منہ پھیر کر نکل جانے کا مشورہ، واضح رہے سابقہ حکومت میں زرداری صاحب کی تضحیک کے سدباب کیلئے موبائل، سوشل میڈیا اور میڈیا کریک ڈاؤن بھی کیا گیا تھا. یعنی صدر کی تضحیک برداشت نہیں لیکن اسلامی شعائر کی تضحیک برداشت بھی ہے اور اس کا دفاع بھی کیا جارہا ہے.
اب قوم کو سب سیاسی اختلاف بالائے طاق رکھ کر مذکورہ معاملے میں جماعت اسلامی کا کھل کر ساتھ دینا چاہیے. کیوں کہ یہ کسی ایک فرد یا پارٹی کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے، ہماری آنے والی نسلوں کے اخلاقی معیار کا مسئلہ ہے! یقیناً "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" ہم سب پر فرض ہے!
ابنِ سیّد

Wednesday, April 2, 2014

پانی سے چلنے والی گاڑی

آج سے کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب نے پانی سے گاڑی چلانے کا دعوی کیا، بعض افراد کے نزدیک انہوں نے چلا کر بھی دکھا دی تھی. حامد میر کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں اس سائنس دان کو بلایا گیا اور اس ہی پروگرام میں پاکستان کے دو ذہین دماغوں کو کانفرنس پر لیا گیا. ان میں سے ایک تھے ڈاکٹر عطا الرحمن جبکہ دوسرے ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے، دونوں ہی ہمارے لئے قابل احترام اور ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں. اب اصل واقعہ ملاحضہ فرمائیں جب ڈاکٹر عطاء الرحمن سے رائے لی گئی تو ان کا تجزیہ بہت بے لاگ اور اگر یہ کہا جائے کہ تکلف کو بالائے طاق رکھ کر کیا تو زیادہ بہتر ہوگا انہوں نے کہا کہ (الفاظ آگے پیچھے ہو سکتے ہیں مفہوم کم و بیش یہی ہے، راقم) "دنیا بھر میں دیکھ لیں اور بیشک گوگل کرلیں آپکو نظر آئے گا کہ اس طرح کے دعوے کرنے والوں کو پانچ دس پندرہ سال کی سزا ہونا معمول کی بات ہے جب ایک چیز ہو ہی نہیں سکتی تو انہوں نے کیسے کرلی، یہ سراسر دھوکے بازی ہے" . حامد میر نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے رائے جاننا چاہی اور ٹکرا لگاتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کیا یہ صحیح ہے کہ یہ سب دھوکہ ہے، جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر نے بہت پیاری بات کی، کہنے لگے "کوئی دھوکے بازی نہیں، اگر ایک شخص نے کوئی سائنسی دعوی کیا ہے تو اس کو رد کرنے والے شخص کو اس کی مخالفت میں کوئی تھیوری لانی چاہیے ناں کہ دھوکہ بازی کے الزام لگائے، میں جب ایٹم بم بنانے کے پراجیکٹ پر کام کر رہا تھا تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ ناممکن ہے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ایک صاحب دعوی کرتے ہیں کہ مکھن بنانے والی مشین سے بم بنائیں گے،بہرحال اللہ نے اس مشن کو مکمل کیا اور کامیاب کیا".
دونوں کے الفاظ کو ایک بار پھر سے پڑھیں، آپ سمجھ جائیں گے کے پاکستان ریسرچ کے میدان میں کیوں پیچھے ہے. شاید ہر دوسرے میدان کی طرح یہاں بھی بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو نگلنے کیلئے تیار بیٹھی ہیں. ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس سائنس دان کی تائید نہیں کی بلکہ نہایت مناسب الفاظ میں اختلاف کرنے کا طریقہ بتلا دیا جبکہ دوسری جانب عطاءالرحمن صاحب نے اس ہی شخص کو دھوکے باز کے لقب سے نوازا. فرق رویہ کا ہے. جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ سائنس کا میدان ایک کھلا سمندر ہے یہاں ہر دوسرے دن نئی تھیوری سامنے آتی ہے اور پرانی تھیوری رد ہوجاتی ہے لیکن ہماری کتابوں میں رد شدہ تھیوریوں کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ ان تھیوریز کے بانیوں کے کام کو بھی اچھے الفاظ میں سراہا گیا ہے.
زبان کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ کارگر ہوتا ہے! بعض دفعہ آپکے منہ سے نکلا ہمت افزا ایک لفظ کسی کی زندگی بنا دیتا ہے، اور بعض دفعہ یہی ایک لفظ بنتی بگاڑ دیتا ہے.
ابنِ سیّد

جس کا کام اسی کو ساجھے

اس بات کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا جنگ اخبار کے اتوار میگزین میں ایدھی صاحب کا انٹرویو شائع ہوا، انٹرویو کرنے والے نے غلط کام یہ کیا کہ انکے فلاحی کاموں کے متعلق سوالات کے علاوہ ان سے مذہبی سوالات بھی کر بیٹھے، ایک سوال جہادیوں کے متعلق کرلیا تو جواب ملا کے جہادی شارٹ کٹ میں جنَّت میں جانا چاہتے ہیں چند اور جواب بھی اس ہی طرح کے دۓ، اب ہر طرف ہاہاکار مچ گئی حالاں کہ قصور ایدھی صاحب کا نہیں سوال پوچھنے والے کا ہے. اب اگر مجھ جیسے عام آفس ورکر سے کیمیات کا سوال پوچھو اور میں صحیح جواب نہ دوں تو قصور کس کا؟ اگر ایک شخص دینی علم میں اتنی معلومات نہیں رکھتا تو کس نے کہا کہ اس کی ذاتی رائے کریدو، معلوم کرو اور اس کو فتوی کا درجہ دے کر اخبار میں شائع کردو!
لیکن یہ صرف ایک مثال نہیں اس ملک میں ان گنت مثالیں ایسی ملیں گی. یہاں آپکو فوجی امور سے نابلد خبطی افراد دفاعی تجزیہ نگار بنے بیٹھے دکھیں گے. تو دوسری جانب ایک معروف ایکٹریس و کامیڈین، موسیقی کے پروگرام میں جج بنی بیٹھی دکھائی دیں گی. اداکارہ میرا استغفار نامی پروگرام کرتی دکھیں گی تو دوسری جانب اچھل کود مچاتا مداری عالم آن لائن کی میزبانی کرتا دکھائی دے گا. قصور ان کا نہیں بلکہ اس کا ہے جو ان کو اس مقام پر بٹھا رہا ہے.
یہ سب بتانے کا مقصد :- اسلامی امور کے مطابق لوگوں تک معلومات علماء، مفتیان اور دینی علم رکھنے والے افراد ہی پہنچائیں گے! میڈیا چینل مالکان اسلامی نظریاتی کونسل کو اپنے گھر کی کھیتی سمجھ کر اس کے کام پر کیچڑ نہ اچھالیں! جس کا کام ہے اس ہی کو کرنے دیں ورنہ ان میڈیا مالکان اور دین بیزار افراد کے ہاتھ میں اقتدار آجائے تو بعید نہیں کہ کل کو ماروی سرمد کو اس کونسل کی ذمہ داری سونپ دیں.
دیکھتا جا... شرماتا جا

ابنِ سیّد

Monday, March 17, 2014

وادی کا بیٹا‏


وہ ان وادیوں کا بیٹا تھا، لمبے درختوں جیسا اونچا، پہاڑوں جیسا مضبوط سراپا اور حوصلہ. لیکن ہمیشہ سے وہ ایسا نہیں تھا وہ تو ایک کمزور اور کم عمر سا لڑکا تھا جو کچھ نہ بتائے بھی اپنی غلامی محسوس کرچکا تھا، وہ اس طرح فوجیوں کا گھر گھر تلاشی لینا، لوگوں سے نفرت آمیز انداز میں بات کرنا، وہ بتائے بن بتائے کی روک ٹوک اور تلاشیاں، کسی کے نہ بتائے بھی وہ سمجھ گیا کہ یہی غلامی ہے.
 وہ اور اس کے ساتھی اِس غلامی کیخلاف سراپا احتجاج تھے، اپنی تحریک کی خاطر لوگوں سے رابطے رکھنا، جلسے جلوس کانفرنس کروانا، کبھی ہڑتال، اور کبھی کبھار تصادم بھی ہوجاتا. لیکن وہ اس تحریک کو لیکر بڑھتے رہے، پھر وہ وقت بھی آیا جب اس کے انہی دوستوں میں سے کچھ غائب ہوئے اور پھر ان کی لاشیں ملیں، کتنا رویا تھا وہ، نہ جانے کب وہ بھی استعمار سے دو دو ہاتھ کرنے نکل پڑا پہلے پہل پتھر اور غلیل اور بالآخر آتشی ہتھیار، کب تک ظلم سہتا؟ کب تک جبر پر روتا.
 کشمیر بنے گا پاکستان، اس کی ڈائری کے ہر صفحہ کی شروعات انہی الفاظ سے ہوتی. اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اس کے مجاہدانہ کردار کی بدولت ان پر ہونے والی بدسلوکیاں کم ہوگئیں. وہ وادی کا سب سے جری کمانڈر بن کے سامنے آیا، اس نے قابض فوج کو پیچھے ہٹنے اور دھول چاٹنے پر مجبور کردیا. اس کے قصّے اخبارات اور میڈیا میں آنے لگے. وہ دونوں اطراف کے عوام کا ہیرو بن چکا تھا.
 سرحد کے اس پار پاکستان کی پاک فضاؤں سے اسے عشق تھا، جب بھی آتا تو شکرانے کے نفل ضرور پڑھتا. وہ اس وقت کے بارے میں سوچتا جب وادی بھی انہی پاک فضاؤں کا حصہ بنے گی. اس ہی مقصد کی خاطر تو اس کی جانباز جدوجہد جاری تھی.
 مگر پھر کچھ یوں ہوا کہ اسکے لئے زمین تنگ سےتنگ ہوتی گئی، دم گھٹنے لگا اس کا ان فضاؤں میں جہاں وہ آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، حالات کچھ اس نہج پر آگئے کہ مجبوراً اسے سرحد پار آنا پڑا مگر یہاں آکر اندازہ ہوا کہ یہ فضائیں بھی اجنبی سی لگ رہی ہیں، نہ جانے کیوں وہ اپنوں میں بھی اجنبی بن کے رہ گیا تھا. جو دروازے اس کیلئے کھلے رہتے تھے وہ آج بند ہوچکے تھے، جو لب اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے آج خاموش تھے.
 وقت بدل چکا تھا، ان پاک فضاؤں کیلئے اس کا وجود ناپاک ٹھہرا، وہ یہاں بھی اجنبی بن چکا تھا. گھر گھر تلاشیاں، وہی روک ٹوک، راستے میں تلاشیاں اور ہتک آمیز رویہ. اس کے ہر نام اور کام کےساتھ لفظ کالعدم لگ چکا تھا. وہ اس کے اپنے تھے، شاید، وہ ان کی بے رخی بے وفائی کی تاب نہ لا سکا، وہ ٹوٹ چکا تھا. پھر وہی ہوا جو سرحد پار ہوا کرتا تھا قید و بند کی صعوبتیں اس کے حصے میں آئیں، اس کے "جرائم" کی فہرست بھی تو بہت لمبی تھی.
 بالآخر وہ دن بھی آیا جب اپنوں کی بندوقوں کا رخ اُس کی جانب ہوگیا، یہی جرم ٹھہرا اسکا کہ وہ اپنے لوگوں کو آزادی دلانا چاہتا تھا، مگر اس کے مقاصد "امن کی آشاء" سے متصادم ہوتے تھے. اتنا بڑا جرم! عسکریت پسندی، شدت پسندی، دہشتگردی، کراس بارڈر ٹیررسم، یہ تمام القاب اس کیلئے استعمال ہوئے مگر وہ تو ایک مجاہد تھا، وادی کا بیٹا، استعمار کیلئے خوف کی علامت. آج بھی اس کی ڈائری کے ہر صفحہ کی پہلی سطر پر یہی لکھا ہوتا تھا، "کشمیر بنے گا پاکستان". اپنے بھائیوں کی جانب سے بیوفائی نے اس کو ٹھیس پہنچائی لیکن اس نے صبر کیا. وادی کے لوگوں کیلئے وہ آج بھی ہیرو ہے. یہ اس کے وجود کا پہلا حصہ تھا جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہوگیا اور گوشہ نشینی میں چلا گیا.
 مگر اس کے وجود کا ایک اور حصہ بھی ہوا جو کہ وادی کے لوگوں کی پکار پر لبیک کہتا ہوا اپنی ساری جدوجہد وادی کیلئے صرف کرنے لگا.
 لیکن تیسرا حصہ وہ تھا کہ جب اپنوں کی بندوقوں کا رخ اس کی جانب ہوا تو نہ چاہتے ہوئے بھی جواباً اس نے بھی اپنے ہتھیاروں کا رخ انکی طرف کردیا.
 یہ وادی کا بیٹا کون تھا، اور اس کے وجود کے تین حصے کون تھے. یہ اگر ایک فرد کی کہانی ہوتی تو شاید کہانی مکمل بیان ہوپاتی لیکن کیوں کہ یہ وادی کا بیٹا وادی کے بلکہ سرحد پار بھی کئی لاتعداد کرداروں میں سے ایک ہے لہذا اس کہانی کو ان ہی کرداروں کی بنیاد پر پرکھا جائے تو ٹھیک رہے گا. یہ کردار اب بھی موجود ہیں، یہ کہانیاں اب بھی جا بجا بکھری پڑی ہیں جرأت، بہادری، جذبہ، محبت، بیوفائی، فخر کا ملا جلا سا رویہ ان تمام کہانیوں میں ملے گا. ضرورت ہے تو اس بات کی کہ کوئی ان کہانیوں کو پڑھے ان کی روداد کو سمجھے، ان کی زندگیوں میں جھانکے، ان کرداروں کے جذبات کو محسوس کرے اور پھر اپنی رائے قائم کرے کہ کون مجاہد ہے کون عسکریت پسند، کون ہیرو بنا اور کون معتوب ٹھہرا. یہ کہانیاں اب بھی زندہ ہیں کوئی تو پڑھے... 

ابنِ سیّد

Saturday, March 8, 2014

تھر، بھوک پیاس افلاس، ورلڈ ریکارڈز اور سندھ فیسٹیول

ایک ماں اپنے دو بچوں کو مار دیتی ہے، شوہر گھر میں پیسے نہیں دیتا تھا اور بچے بھوک سے تڑپتے رہے، ماں کا بیان ہے کہ وہ اس تکلیف کو دیکھ نہ سکی اور اپنے بچوں کو بھوک سمیت تمام غموں سے نجات دلا دی. مجھے ذاتی طور سے اس طرز عمل سے بے حد اختلاف ہے کیوں کہ مایوسی کفر ہے. اسلام نے اسی وجہ سے مایوسی کو کفر کا درجہ دیا ہے، اللہ سے ہمیشہ اچھی امید رکھنی چاہیے.
ہم سب نے اس ہی دن سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا اور کرنا بھی چاہیے. حضرت عمر (رض) کا قول ہے کہ "دجلہ کے کنارے کوئی کتّا بھی بھوکا مر گیا تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے پوچھ ہوگی". لیکن دوسری جانب ہم یہ واقعہ دیکھتے ہیں کہ سندھ فیسٹیول ہوتا رہا، اس پراجیکٹ پر جتنا خرچہ ہوا وہ بھی ظاہر ہے، اس ناچتے تھرکتے فیسٹیول میں کسی کی نظر اس جانب نہیں گئی کہ سو سے زائد بچے تھر میں بھوک سے بلک بلک کر موت کی آغوش میں جا سوئے.
حکومت اپنے فرض سے غافل رہی تو لوگوں کا فرض کیا صرف یہی رہ گیا کہ وہ حکومت پر تنقید کریں اور چپ ہوجائیں، مجرم صرف حکومت نہیں اس گھر کے پڑوسی بھی ہیں جس گھر میں دو بچے مار دیے گئے کیا اس گھر کے آس پاس جو لوگ بستے تھے کیا وہ پتھر کے بنے ہوئے احساس سے عاری بُت تھے. اتنا پتھر دل تو وہ پتھر بھی نہیں ہوتا اپنے سینے سے کونپل پھوٹنے دے کر زندگی کو جنم دیتا ہے. کیا یہ انسان اس سے بھی زیادہ گئے گزرے تھے. حدیث میں ہے "تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا". کیا جواب ہمارے پاس ہے کہ کیوں وہ معصوم قتل کردیے گئے اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی!
حکمرانوں کو بیشک تنقید کا نشانہ بنایا جائے لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ انہیں منتخب کر کے مسندِ اقتدار پر فائز کرنے والے ہم ہی لوگ ہیں.
اب بھی اس غلطی کو سدھارا جا سکتا ہے، پاکستان آرمی، الخدمت، جماعت الدعوہ اور دوسری فلاحی تنظیموں نے تھر کے صحراؤں میں غذا کی قلّت پوری کرنے کا کام شروع کردیا ہے. زیادہ سے زیادہ عطیات کے ذریعہ ہم اپنا فرض ادا کرسکتے ہیں. دوسری بات اپنے پڑوسیوں کے حقوق کا ہر ممکن خیال رکھیں. اللہ ہمیں اس کی ہمت و توفیق دے.
ابنِ سیّد

Thursday, March 6, 2014

یوں تو سیّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

بچپن میں ایک دفعہ کسی نے سوال کیا "تمہاری قومیت کیا ہے؟"، میں نے جواب میں کہا "مہاجر" اس نے کہا "یہ تو تم بتا رہے ہو کہ تم نے ہجرت کی ہے تم پہلے کسی اور علاقے کے باشندے تھے اب کہیں اور کے ہو لیکن تمہاری "قومیت" کیا ہے؟". میں نے حیرت سے کہا، "قومیت ہی تو بتائی ہے بھلے آدمی!" میری کم فہمی دیکھ کر وہ مزید سمجھانے لگا، کہنے لگا "جیسے میں راجپوت ہوں راجپوت ایک قوم ہے ، تمہاری قوم کیا ہے..."
بہرحال جب میں نے دیکھا کہ یہ کافی پیچیدہ مسئلہ ہے اس وقت سے مجھے قومیت، زبان، طبقات سے نفرت سی ہوگئی تھی، کوئی پوچھتا قومیت کیا ہے تو جواب دیتا "پاکستانی"! بعد میں اسلامی لحاظ سے بھی اس مسئلہ کی اہمیت واضح ہوئی تو اس کا اصل نقصان سمجھ آیا، اس سوال سے مزید نفرت بڑھی.
بعد ازاں مسلک کے حوالے سے بھی میں نے یہی رویہ اپنایا کوئی پوچھتا مسلک کیا ہے تو اسے ایک ہی جواب ملتا "مسلمان" ، مگر بعض افراد کا اس سلسلہ میں اصرار جاری رہتا کہ مسلک واضح کیا جائے لہذا بالغُ النّظر افراد کو بتا دیا کرتا اور فتنہ گیر کیلئے وہی جواب.
افسوس مجھے صرف اس بات کا ہوا کہ اپنے تئیں میں نے ایک بھلا کام کیا تھا، میرے خیال سے اگر سب ہی یہی رویہ رکھیں تو سارے اختلافات پرے رکھ کر سب ایک ہوجائیں لیکن نہ جانے کیوں اس رویہ کی بہت سے افراد نے تائید بھی نہیں کی اور نہ اس طرز عمل پر عمل پیرا ہوئے.
شاید اپنے منفرد مسلک، قومیت، تعصب کے سائے میں پناہ لیتے لوگ یہ نہیں جان رہے کہ وہ دراصل اپنے خول میں بند ہو رہے ہیں، اپنے گرد نظر نہ آنے والی ایسی دیواریں تعمیر کر رہے ہیں جو ان کی سوچ پر پہرے ڈال دیگی اور ان کی یہی سوچ ان کی نظر کو بہت محدود کر دے گی، اور دوسری جانب یہ رویہ انہیں آپس میں گروہ در گروہ تقسیم کرکے واپسی کے راستے بند نہیں تو مشکل ضرور بنا دیگا!
اللہ ہمیں ہر قسم کے تعصب سے بچائے اور اس کے نقصانات کا ادراک کرنے کی توفیق عطا فرمائے. جزاک اللہ

یوں تو سیّد بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
(اقبال)

ابنِ سیّد

پاکستان جیت گیا...

سورہ حجرات آیت گیارہ
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا کے وہ ان سے بہتر ہوں.اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا کے وہ ان سے بہتر ہوں. (القرآن)


آفس سے واپسی پر فِضا میں رنگا رنگ آتش بازی نظر آئی.رنگ برنگ کے دھماکے دیکھ کر سمجھ میں آگیا یقیناً پاکستان جیت گیا ہوگا. راستے میں کئی جگہ نوجوان لڑکوں کے گروپ ٹریفک روک کر سڑک پر ڈانس کرتے اور بھنگڑے ڈالتے نظر آۓ. دل میں خیال آیا پاکستان تو جیت گیا لیکن نظریہ پاکستان ہار گیا.
"اتنا تو چلتا ہے!" اس جملے نے تو جیسے ہر حرام کو حلال کا درجہ دے دیا. کرکٹ میچ کی جیت پر ناچتے، تھرکتے، یونیورسٹی کالج سے میچ کی وجہ سے چھٹّی کرتے،میچ والے دن آفس میں بے دلی سے کام کرتے، اپنے ہر کیے گئے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے یہی جملہ دہرا دینا کافی سمجھ لیتے ہیں ... "اتنا تو چلتا ہے!"
اور دوسری جانب سوشل میڈیا پر اخلاق سے گری ہوئی پوسٹ کرتے ہوئے شاید ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے کہ کیا اس طرح کرنا درست ہے یا غلط. پاکستان انڈیا میچ میں جس بنگلہ دیشی تماشائیوں کو کل خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے. بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان میں آج اُسی قوم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگے. کیا جواز ہے اس قدر تضحیک کے پہلو کا؟ کیا ہم بھول گئے کہ جنہیں ہم حقارت سے "او بنگالیوں ہمارے آفریدی نے کیسا دیا" کہہ رہے ہیں ان ہی بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے شہری بھی ہیں جو بیک وقت دونوں ملکوں کی محبت اپنے دل میں سمیٹے ہوئے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ اُن افراد کے دل میں اس طرح کی باتیں کر کے ہم کس قدر نفرت بو رہے ہیں باوجود اس کے کہ دونوں ممالک مسلمان ممالک ہیں. میرا قلم تو یہ تاب یقیناً نہیں رکھتا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے اس واحیات کمپین کے الفاظ یہاں لکھ سکے، یقیناً آپ مختلف صفحات پر جا کر بیشتر اس طرح کی پوسٹ گزشتہ دنوں سے دیکھ سکتے ہیں جن میں بنگلہ دیشی حضرات کے بارے میں نازیبا الفاظ، تضحیک اور اپنے بارے میں بے انتہا تکبّر جھلک رہا ہے.
بعض افراد کی طرف سے یہ بات بھی آئی کہ شاید آپ نے بنگلہ دیشی عوام کے تاثرات نہیں دیکھے کس قدر نفرت آمیز تھے. تو میرے دوستوں کسی کی زیادتی کی وجہ سے آپکو زیادتی کرنا جائز نہیں ہوجاتی.
بہرحال میرا آج کا پیغام یہی ہے کہ برائی کو برائی سمجھا جائے، اکثریت کے برائی میں ملوث ہونے سے برائی برائی ہی رہتی ہے، کسی کی تضحیک کرتے اور ہنسی اڑاتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ اگر اللہ ہماری ہنسی اڑا دے تو پھر ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا اور اگر اس کا غضب بھڑکا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ہماری فتوحات کو پلٹ دے. لہذا تکبّر کے بجاۓ اللہ کی خدمت میں شکرانے بجا لائے جائیں.
اللہ ہمارا حامی و ناصر رہے. جزاک اللہ
ابنِ سیّد

Wednesday, March 5, 2014

کیا آئین اسلامی ہے؟

ہر جانب شور مچ گیا، لوگ بد حواس ہیں کہ یہ کیا بحث چھیڑ دی. اتنی مشکلوں سے تو مولویوں کو اس آئین پر چپ کرایا تھا. کہیں پھر سے کوئی تحریک نہ اٹھ کھڑی ہو اس لئے ہر جانب سے بیک وقت ایک ہی صدا اٹھی، "ارے آئین تو اسلامی ہے"، اتنے جیّد علماء کے ہاتھوں تشکیل پانے والا آئین کیا غیر اسلامی ہو سکتا ہے؟ اس آئین کو تو سب مانتے ہیں، اس آئین کے حوالے سے کوئی بات مذاکرات میں نہیں ہوگی، وغیرہ وغیرہ. اور پھر ایک بڑی میڈیا کمپین صرف اس معاملے سے جڑے لوگوں اور مضطرب عوام کو تھپک تھپک کر یقین دلانے کیلئے کہ فکر کی ضرورت نہیں آئین تو اسلامی ہے!
مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے، کیا آئین اسلامی ہے؟ جناب صرف اس لئے کہ یہ آئین "اسلامی" جمہوریہ پاکستان کا آئین ہے اس بنیاد پر اسے اسلامی نہیں کہا جا سکتا. کسی عمارت کی پیشانی پر کلمہ لکھ دینے سے یا کسی عمارت کو مسجد کہنے سے یا کسی عمارت کے باہر نماز کے اوقات لکھ دینے سے وہ عمارت مسجد نہیں بن جاتی بلکہ مسجد کہلوانے کیلئے ضروری ہے کہ اس عمارت کے اندر پانچ وقت نماز باجماعت کا نظام قائم ہو.
رہا یہ سوال کہ جیّد علماء کرام کے دستخط اس آئین کے مسوّدہ پر موجود ہیں تو یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ ان علماء کرام کی کوششوں سے قوم ایک آئین پر متفق ہوئی اور اس آئین کے اندر ان علماء کی کوششوں سے بیشتر اسلامی قوانین کو شامل کیا گیا، قرارداد مقاصد اس آئین کا حصّہ بنی. یہ بہرحال اپنی جگہ ان بزرگوں کی ایک عظیم خدمت ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن کیا یہ کام مکمل ہے اور آئین مکمل اسلامی ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ اس کو مکمل اسلامی بنانے کی اب بھی ضرورت باقی ہے.
اب آتے ہیں آئین کے نفاذ کی جانب، اس آئین کو جسے کوئی نہ ماننے کا دعوی کرے تو تمام اینکرز اور پروگرامات کے شرکاء جھاگ بہاتے باتیں بنانے لگتے ہیں، کیا پاکستان کے ایک انچ پر بھی اس آئین کی عملی رٹ موجود ہے؟ بزورِ قوت اور جیٹ طیاروں کے زور پر قبائلی علاقوں میں آئین کے نفاذ کے متمنّی تو بہت ہیں لیکن دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں پارلیمنٹ میں ایک بڑی تعداد خود ان نمائندگان کی ہے جو آئین کی دفعہ باسٹھ تریسٹھ کو روند کر یہاں تک پہنچے ہیں، کئی ایک پر مقدمات قائم ہیں، شراب و شباب کی داستانیں بھی میڈیا پر آچکی ہیں، کرپشن کے اسکینڈل بھی زبان زدِعام ہیں. خود ہمارے قوم کے محافظ کئی بار بیباک انداز میں اس آئین کی نفی کرچکے ہیں. اگر دیکھا جائے تو سب سے بڑا مسئلہ اس آئین کا نفاذ نہ ہونا ہی ہے جو کہ اگر صحیح طور پر انصاف کے ساتھ کیا جائے تو اس ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہوجائیں.
ابنِ سیّد

Sunday, March 2, 2014

جیت کا جشن...؟

اندھیرا ہے، عشاء کی نماز ہو رہی ہے، امام مسجد کی تلاوت کی آواز ابھرتی ہے، اور اس تلاوت کے دوران گونجنے والی فائرنگ کی آواز، کبھی بھاری اسلحہ اور کبھی ہلکہ اسلحہ، اطراف سے شور کی آواز، خوشی اور حیرت کا ملا جلا سا شور، جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جائے، امام مسجد سجدہ ریز ہے اور یہ منظر جاری ہے.
یہ پڑھنے کے بعد شاید کچھ لوگ سمجھیں یہ کسی جہاد کے میدان کی منظر کشی ہے لیکن نہیں، یہ منظرکشی اس وقت کی ہے جب پاکستان کرکٹ کی بازی میں اپنے روایتی حریف بھارت کو شکست دے دیتا ہے.
شاید نہیں بلکہ یقیناً بہت سے قارئین آگے کے الفاظ پڑھ کر منہ بنائیں گے اور کہیں گے کہ اِن نقادوں کو بھی چین نہیں قوم کو دو پل خوشی کے میسر آجائیں تو انہیں اچھا نہیں لگتا. لیکن ایسا نہیں کہ میں خوش نہیں ہوں، ہاں میں بھی خوش ہوں کہ میرا ملک جیت گیا، میں خوش ہوں کہ پاکستان نے ایک روایتی حریف کو شکست دی اور ہر بار کی طرح ایک اور جیت اپنے نام کر لی. لیکن میں کیا کروں میں ایک غریب قوم کا غریب شخص ہوں، اور بحیثیت انسان محروموں کے مزار پر دھماچوکڑی مچانا میرے نزدیک صحیح نہیں.
چاروں طرف جیت کا جشن جاری ہے، ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کی آواز گونج رہی ہے. میں مسجد سے باہر نکلتا ہوں مگر ایک آواز میرے قدم جکڑے دیتی ہے یہ ایک باپ کی فریاد ہے ایک خوش لباس شخص ہے جو کچھ دیر قبل میرے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا مگر اب فریاد کر رہا ہے کہ کوئی مدد کرے کہ اس کے بچے کھانا کھا سکیں. یہ کہتا ہے کہ کوئی تو اللہ کا بندہ ہو جو میری غربت کا خیال کرے میرے گھر کی حالت دیکھ لے.
میں مسجد سے نکل جاتا ہوں چند قدم چلتا ہوں کہ راستہ میں ایک پکار پھر میرا راستہ روکے دیتی ہے یہ ایک بزرگ ہیں باریش اور سفید لباس میں ملبوس، ہاتھ میں لاٹھی تھامے میرا راستہ روک کر راشن دلانے کا سوال کرتے ہیں. میں وقت کی کمی کا بہانہ کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں میں انتظار کر لوں گا!
میں آگے بڑھ جاتا ہوں، دل میں احساس زور پکڑتا ہے کہ دو سوال رَد کر چکا ہوں، کیا جواب دوں گا اللہ کو. فائرنگ کی آوازیں مسلسل آرہی ہیں چند کلو میٹر دور سے آتش بازی دکھائی دے رہی ہے. کئی ہزار روپے فضا میں رنگوں کی صورت بلند ہوتے ہیں دھماکے کی آواز کے ساتھ اطراف کے ماحول کو رنگ میں نچھاور کرجاتے ہیں. گلیوں میں نوجوان خوش ہیں، چورنگی پر آتش بازی اور بھنگڑے ڈَل رہے ہیں. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جیت کا جشن زور پکڑ رہا ہے.
میں گھر کا سودا سلف لیتا ہوں، گھر کی جانب چل پڑتا ہوں. بزرگ کی آواز پھر میرا راستہ روکتی ہے. میں نظرانداز کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں. کِن انکھیوں سے دیکھتا، اُن سے بچتا بچاتا گھر کی راہ لیتا ہوں جہاں ٹی وی پر ہوائی فائرنگ اور اس کے زخمیوں کی خبر چل رہی ہے. جیت کی خبر چل رہی ہے. نوجوانوں کے بھنگڑوں کی خبریں چل رہی ہیں. ہاں میں بھی خوش ہوں، میرا وطن ایک بار پھر جیت گیا، خوشیاں مناؤ! جیت کا جشن بڑھتا جاتا ہے، بزرگ کی آواز، فائرنگ کی آوازیں، بھنگڑوں کی آوازیں، ڈھولک کی تھاپ، سب گُڈمڈ ہوتے جاتے ہیں.

ابنِ سیّد

Monday, February 24, 2014

ریاست کی رِٹ

مبارک ہو میرے ہم وطنو! ریاست کی رِٹ قائم ہوگئی، کل تک جہاں سبزہ تھا وہاں اب راکھ ہے کل تک جہاں آبادی تھی وہاں اب ویرانی کا راج ہے. مبارک ہو ریاست کی رِٹ قائم ہوگئی. اب یہاں کوئی روکنے والا نہیں ہوگا، گانے بجانے ہونگے، رقص ہوگا سرور ہوگا، شراب ہوگی شباب ہوگا. مبارک ہو ریاست کی رِٹ جو قائم ہوگئی!
مبارک ہو میرے ہم وطنو! آج کے بعد کسی مجرم کو سرِعام سزا نہیں ملے گی، کوئی عبرت کا نشان نہ بنے گا، آج کے بعد سب مرضی سے جی سکیں گے، ملاوٹ کر سکیں گے، کرپشن کر سکیں گے، قتل و غارت کی کھلی چھوٹ ہوگی لیکن انہیں کوئی سزا دینے والا نہ ہوگا! عدالتیں ہوں گی مگر عدل نہ ہوگا، مبارک ہو ریاست کی رِٹ قائم ہوگئی!
مبارک ہو دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا، راہ نجات مل گئی، یہ دیکھو کسی کا جگر کا گوشہ شیلنگ میں چل بسا، یہ ایک اور خاندان ڈرون کا نشانہ بن گیا، یہ نوجوان کرفیو میں گھر سے کیوں نکلا، مارا گیا ناں آخر... لیکن ...بہرحال ریاست کی رِٹ تو قائم ہوگئی!
یہ کس کا گاؤں ہے جو اجڑ گیا؟ یہ کس کے کھیت ہیں جو جل چکے؟ یہ بارود کی بارش کیوں؟ یہ ڈرون یہ حملے کیوں؟ یہ گھروں کی لرزتی دیواریں... یہ ہجرت کرتے ہزاروں خاندان ... یہ بھوک سے بلکتے بچے... یہ بیمار ٹھٹھرتے بوڑھے... یہ سب اپنی جگہ لیکن ... مبارک ہو ریاست کی رِٹ قائم ہوگئی! مبارک ہو! مبارک ...

ابنِ سیّد

Saturday, February 22, 2014

Collateral Damage

Collateral Damage

سننے میں کتنا بے ضرر سا لگنے والا لفظ مگر معانی میں پنہاں ظلم و جبر کی ڈھیروں کہانیاں! ایسا نقصان کہ شاید جس کا ازالہ بھی ممکن نہیں، انسانی جانوں کا زیاں، چاہے وہ جانیں ڈرون حملوں میں ضائع ہوں یا بم دھماکوں میں یا پھر آپریشن میں یا جیٹ فائٹر کی آتش بازی سے یا کسی اور وجہ سے. شاید اس طرح کہنے والوں کے نزدیک انسانی جان کی قیمت چند روپے ہوں یا پھر انکے نزدیک یہ ایک فضول معاملہ ہو جس پر اظہار خیال کرنے سے ان کا وقت ضائع ہوتا ہے، یا پھر "اتنا تو چلتا ہے" والا معاملہ. اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جس کا پیارا کولیٹرل ڈیمیج کا شکار نہ ہوا ہو وہ شاید اس تکلیف کو محسوس نہیں کرسکتا اور اس معاملہ کی اہمیت کو نہیں سمجھ پاتا. لہذا ان افراد کی طرف ہی رجوع کیا جاسکتا ہے جن کے پیارے کولیٹرل ڈیمیج سجھ لئے گئے اور اس معاملہ میں ان متاثران کی رائے کی اہمیت ہی ہونی چاہیے نہ کہ ان کی رائے کو اہمیت دی جائے جو ڈرائنگ روم کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کا حل جنگ ہے جس کا مشورہ وہ دے رہے ہیں اور اس دوران ہونے والی جانوں کا زیاں کولیٹرل ڈیمیج ...
کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اتنے آرام سے کسی انسانی جان کے زیاں کو کولیٹرل گردان کر معاملہ دبا دیا جائے جبکہ دوسری جانب مرنے والے کسی کے ماں، باپ، بھائی، بیٹا وغیرہ ہی کیوں نہ ہو یا پھر وہ اس گھر کا واحد کفیل ہو. کیا فاٹا میں رہنے والے مسلمانوں کی جان اس قدر کم قیمت ہے کہ جب چاہے ان پر ڈرون سے بم گرا دیا جائے، یا جہاز سے بم برسا دئے جائیں، یا ان پر آپریشن کیا جائے یا اندرون ملک ہجرت پر مجبور کردیا جائے.
سوچئے گا ضرور!

ابنِ سیّد

Sunday, February 9, 2014

پاکستان کو جینے دو

مذاکرات کا فیصلہ کیا ہوا بعض جگہ تو صف ماتم بچھ گئی. شاید بعض افراد امن گولی سے لانا چاہتے ہیں لیکن انکا مقصد کیسے پورا ہو جبکہ گولی کا استعمال ہی خود مزید جنگ کو فروغ دیتا ہے. تقریباً تمام میڈیا اینکرز مذاکرات کا فیصلہ ہونے کے بعد سیاست دانوں سے یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ "جب پوری قوم آپریشن کا فیصلہ توقع کر رہی تھی تو یہ مذاکرات کیسے بیچ میں آگئے" جبکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ حیران و پریشان ہیں کہ اتنی بڑی اور آپریشن کے حق میں بھاری انویسٹمنٹ کرنے کے بعد بھی انہیں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے اور حکومت نے مذاکرات کا دانشمندانہ فیصلہ کرلیا. اس سوال کے جواب میں حکومت کے ایک عہدیدار نے جواب دیا کہ "یہ آپکی سوچ ہوگی کہ آپریشن کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ حکومت کے پاس موجود دونوں راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کیا گیا". دوسری جانب عوام کے نمائندگان اے پی سی میں جب مذاکرات کو واحد حل قرار دے چکے ہیں تو پھر میڈیا اور دوسرے حلقوں کو آپریشن کی توقع کیوں رہی. دوسری جانب ہم نے دیکھا کہ مذاکرات کے فیصلہ کے ساتھ ہی تمام چینلز حکومتی کمیٹی اور مذاکرات کے اندر معاونت کرنے والی مذہبی شخصیات کے کردار پر پروگرام شروع ہوگئے اور بعض چینل اس میں اتنے آگے بڑھ گئے کے صحافت کے کوڈ آف کنڈکٹ کو بھی ایک جانب رکھ دیا، بیشتر ٹی وی چینل پر سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ان رہنماؤں کو جن کو معاونت کیلئے طالبان نے نامزد کیا تھا ان کو ببانگ دہل طالبان کمیٹی کا نام دیا جارہا ہے جبکہ اصلاً یہ ایک ثالثی کمیٹی ہے جو دونوں فریقین (حکومت و طالبان) میں رابطہ کا کام دیگی اور ان مذاکرات میں معاونت کریگی لیکن میڈیا کا کردار سوالیہ نشان ہے.
میرا خیال یہی ہے کہ اب عوام کو اس اسکرین سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا اور اس جانب دیکھنا ہوگا کہ کس کی ایماء پر عوام کا ذہن دوسری جانب منتقل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں. میڈیا کا کردار کھل کر سامنے آچکا ہے اور مختلف چینلز کی جانب سے جانبدارانہ رویہ اب انکے کردار کو مشکوک بنا رہا ہے.
ابنِ سیّد
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments