Showing posts with label islamiats. Show all posts
Showing posts with label islamiats. Show all posts

Sunday, November 17, 2013

اسلامی نظام تعلیم کیوں ضروری ہے؟

ہمارے ایک نہایت ہی مشفق استاد نوجوان بھی ہیں اور معلومات کے چیمپئن بھی. کلاس میں ہر موضوع پر کھل کر بات ہوتی ہے اور تقریباً تمام طلباء ہی اظہارِ خیال اور اس بحث میں حصہ ضرور لیتے ہیں اور یہی اس کلاس کی خوبی ہے. بہرحال، کچھ دن پہلے اس ہی بحث و مباحثہ کے دوران نہ جانے کس بات پر استاد محترم نے کہا کہ میں اس کے خلاف ہوں کہ جبراً تعلیمی اداروں میں اسلامیات پڑھائی جائے. میرا اور ایک اور لڑکے کا موقف تھا کہ اول تو ایسا ہوتا نہیں جو طلباء اسلامیات نہیں پڑھنا چاہتے انکے لئے Ethics یا Ethical Studies کے نام سے مضمون موجود ہے. دوسرے اس تیزی سے بدلتی دنیا میں لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم کیلئے کچھ الگ انتظام کریں لہذا کچھ نہ ہونے سے یہ اسکول میں حاصل کردہ اسلامیات کی تعلیم  بہتر ہے. مگر سر کا کہنا تھا کہ اسلامیات نہیں بلکہ دینیات یا Ethical Studies  کو فروغ دینا چاہئے.
میں نے سر کی رائے جاننے کیلئے پوچھا کہ کیا مدارس میں کمپیوٹر (ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم) کی تعلیم دی جانی چاہئے جس پر انہوں نے کا بالکل کیوں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے. اس پر میں نے کہا کہ سر اگر آپ کہتے ہیں کہ مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم جبراً ہونی چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ انجینئرنگ میڈیکل یونیورسٹیز میں اسلامیات کی تعلیم لازمی ہونی چاہئے (کمپیوٹر اگر وقت کی ضرورت ہے تو اسلامیات دنیا، معاشرے اور ایک فرد کی آخرت کی کامیابی کی ضرورت ہے).
شاید ہمارے اردگرد جو معاشرے کی تنزلی ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس ہی وجہ سے ہے کہ ہم اچھے ڈاکٹر انجینئر اور مینیجر تو پیدا کر رہے ہیں لیکن اچھے انسان و مسلمان نہیں. یہی وجہ ہے کہ یہ انجینئر غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ہوجاتے ہیں. یہی ڈاکٹر انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں اور یہی پروفیشنلز کرپشن میں ملوث ہوجاتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک ایسا اسلامی نظام تعلیم مرتّب کریں جن سے گزر کر عملی زندگی میں قدم رکھنے والا ہر شخص معاشرے کے اخلاقی عروج کا باعث بنے. پھر شاید ہمیں آڈٹس اور فراڈ کنٹرول کیلئے لاکھوں خرچ کرنے کی ضرورت نہ پڑے.

Tuesday, October 15, 2013

دائیں اور بائیں بازوؤں کا توازن


شاید موضوع آپکو ذرا وکھری ٹائپ کا لگے لیکن بہرحال ایک خیال ہے جسکا میں سمجھتا ہوں کہ اظہار ضروری ہے. کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ شاید غلط اور صحیح کی جنگ جو کہ ازل سے جاری ہے اور بہت ممکن ہے کہ ابد تک جاری رہے. اس جنگ کے دو اہم ٹیمیں ہیں اور کھلاڑی بھی اسی لحاظ سے ہیں. دائیں بازو اور بائیں بازو کے درمیان یہ جنگ معاشرے میں ایک توازن برقرار رکھی ہوئے ہے. دونوں طرف کے افراد علم اور ریسرچ کے حوالے  سے خاصے منجھے ہوئے ہیں. بعض دفعہ لبرلز کچھ ایسے حوالے دیتے ہیں جو ہم نے دیکھے نہیں ہوتے اور بہت دفعہ ایسا بھی ہوا جب دائیں بازو کے اراکین کچھ ایسے اقوال کا حوالہ دے جاتے ہیں کہ مخالف سر کھجاتا رہ جاتا ہے. لیکن ایک چیز دونوں میں مماثل ہے اور وہ یہ کہ دونوں قبیلوں کے افراد ہی نہایت قلیل تعداد میں ہیں. ایک قبیلے کی گرفت معاشرے کے اقتدار اور مواصلات کے اوپر ہے تو دوسرے قبیلے کی رسائی معاشرے کے اندر. اور یہ دونوں انتہاؤں کے درمیان معاشرے کا ایک بڑا حصہ جو کے نہ اِدھر کا ہے نہ اُدھر کا اور اسی طبقے کو اپنے اپنے قبیلوں میں لانے کیلئے دونوں طرف کے لوگ لاتعداد محاذوں پر ان علمی بحثوں میں مشغول ہیں. لیکن بہرحال ان دونوں طبقات کی وجہ سے معاشرے میں ایک توازن ہے.
(ابنِ سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments