Showing posts with label اسلامی تعلیم، دینیات، نظام تعلیم. Show all posts
Showing posts with label اسلامی تعلیم، دینیات، نظام تعلیم. Show all posts

Friday, May 23, 2014

ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں

Picture from here
یونیورسٹی کے زمانے میں لوگ کہا کرتے تھے کے یہاں سے ماسٹرز نہیں کرنا یہاں کے ماسٹرز کی کوئی حیثیت نہیں. ماسٹرز تو صرف باہر کا ہی قابلِ قبول ہے. عملی زندگی میں نکلے تو معلوم ہوا کہ حیثیت نہ بیچلرز کی ہے نہ ماسٹرز کی نہ باہر سے ماسٹرز کر کے آنے میں، حیثیت ہے تو صرف اس بات کی ہے کے بندہ کیسا ہے بھلے وہ میٹرک ہی کیوں نہ ہو.
بہت سے کم تعلیم یافتہ افراد کو اعلی عہدوں پر اپنی محنت کے بل بوتے پر دیکھا تو دوسری جانب بہت سے اعلی تعلیم یافتہ (یا ڈگری یافتہ) افراد کو بیروزگار بھی دیکھا اور معمولی ملازمتوں پر بھی دیکھا. انجینئرز اور ایم بی اے'ز کو جاب کیلئے دھکّے کھاتے دیکھا تو ناخواندہ افراد کو بڑے بڑے کاروباروں میں پیسا کماتے دیکھا.
ہمیں شروع سے ہی یہ تربیت کی جاتی ہے کہ بیٹا پڑھو گے نہیں تو اچھی جاب کیسے ملے گی اور اچھی جاب نہیں ہوگی تو پیسے کیسے کماؤ گے. یعنی شروع سے ہی یہ ذہن میں ڈال دیا گیا کہ اچھی تعلیم مطلب اچھا پیسہ لیکن کیا تعلیم کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے؟
اوپر کی مثالوں سے واضح کرچکا ہوں کہ اگر مقصد صرف پیسہ کا حصول ہے تو واضح رہے کہ پیسہ کمانے کیلئے تعلیم ضروری نہیں. پھر کیوں پیسے کو ہمیشہ تعلیم سے جوڑا جاتا ہے.
ہمارے یہاں بہت سے ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہوں نے اعلی تعلیم حاصل کی پھر مزید تعلیم حاصل کرنے باہر چلے گئے، باہر گئے تو پتا چلا کہ یہاں تو چھوٹے کاموں کے بھی اچھے پیسے مل رہے ہیں لہذا چھوٹی نوکریاں جنہیں آڈجابز بھی کہا جاتا ہے جیسے پیٹرول پمپ میں کام، ٹیکسی چلانا اور ہوٹلوں میں کام کاج وغیرہ، بہرحال ایک بار ان آڈجابز میں لگ کر بقیہ ساری زندگی یہی کام کرتے گزر جاتی ہے پھر کدھر گئی انجینئرنگ اور ڈاکٹری کی ڈگری ... ؟ اس ڈگری کا کیا اور کس حد تک استعمال ہوا؟
تعلیم کا مقصد تو یہ ہے کہ ایک اچھا مسلمان اور اچھا انسان بنا جائے. ایک تعلیم یافتہ شخص سے دنیا یہ توقع کرتی ہے کہ وہ اچھے اخلاق کا مالک ہوگا. لیکن کیوں کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام صرف پیسہ بنانے کے گرد گھومتا ہے لہذا ہمارے تعلیمی اداروں کی ترجیہات بھی یہی ہیں اور اس ہی لحاظ سے یہ ادارے ایسے ڈاکٹر، انجینئر، اکاؤنٹنٹ وغیرہ پیدا کر رہے ہیں جو اپنے پیشے کے ذریعہ پیسہ کما کر دینے میں ماہر ہیں مگر دوسری جانب یہی ادارے اچھے انسان پیدا کرنے میں ناکام ہیں.
انکے شعور میں کیوں کہ یہ بات بیٹھی ہوتی ہے کہ تمہارا اصل مقصد پیسہ کمانا ہے لہذا جب ملک سے باہر جاکر معمولی نوکریوں میں زیادہ پیسہ ملنے لگتا ہے تو پھر اس بات کی فکر نہیں رہتی کے پیسہ انجینئرنگ سے آرہا ہے یا ٹیکسی ڈرائیونگ سے، آج ہمارے ایک اور بڑے مسئلہ (برین ڈرین) کا تعلق بھی براہ راست تعلیمی نظام سے ہے. اس موضوع پر بھی انشاءاللہ بہت جلد بات ہوگی.
ابنِ سیّد

Sunday, November 17, 2013

اسلامی نظام تعلیم کیوں ضروری ہے؟

ہمارے ایک نہایت ہی مشفق استاد نوجوان بھی ہیں اور معلومات کے چیمپئن بھی. کلاس میں ہر موضوع پر کھل کر بات ہوتی ہے اور تقریباً تمام طلباء ہی اظہارِ خیال اور اس بحث میں حصہ ضرور لیتے ہیں اور یہی اس کلاس کی خوبی ہے. بہرحال، کچھ دن پہلے اس ہی بحث و مباحثہ کے دوران نہ جانے کس بات پر استاد محترم نے کہا کہ میں اس کے خلاف ہوں کہ جبراً تعلیمی اداروں میں اسلامیات پڑھائی جائے. میرا اور ایک اور لڑکے کا موقف تھا کہ اول تو ایسا ہوتا نہیں جو طلباء اسلامیات نہیں پڑھنا چاہتے انکے لئے Ethics یا Ethical Studies کے نام سے مضمون موجود ہے. دوسرے اس تیزی سے بدلتی دنیا میں لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم کیلئے کچھ الگ انتظام کریں لہذا کچھ نہ ہونے سے یہ اسکول میں حاصل کردہ اسلامیات کی تعلیم  بہتر ہے. مگر سر کا کہنا تھا کہ اسلامیات نہیں بلکہ دینیات یا Ethical Studies  کو فروغ دینا چاہئے.
میں نے سر کی رائے جاننے کیلئے پوچھا کہ کیا مدارس میں کمپیوٹر (ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم) کی تعلیم دی جانی چاہئے جس پر انہوں نے کا بالکل کیوں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے. اس پر میں نے کہا کہ سر اگر آپ کہتے ہیں کہ مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم جبراً ہونی چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ انجینئرنگ میڈیکل یونیورسٹیز میں اسلامیات کی تعلیم لازمی ہونی چاہئے (کمپیوٹر اگر وقت کی ضرورت ہے تو اسلامیات دنیا، معاشرے اور ایک فرد کی آخرت کی کامیابی کی ضرورت ہے).
شاید ہمارے اردگرد جو معاشرے کی تنزلی ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس ہی وجہ سے ہے کہ ہم اچھے ڈاکٹر انجینئر اور مینیجر تو پیدا کر رہے ہیں لیکن اچھے انسان و مسلمان نہیں. یہی وجہ ہے کہ یہ انجینئر غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ہوجاتے ہیں. یہی ڈاکٹر انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں اور یہی پروفیشنلز کرپشن میں ملوث ہوجاتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک ایسا اسلامی نظام تعلیم مرتّب کریں جن سے گزر کر عملی زندگی میں قدم رکھنے والا ہر شخص معاشرے کے اخلاقی عروج کا باعث بنے. پھر شاید ہمیں آڈٹس اور فراڈ کنٹرول کیلئے لاکھوں خرچ کرنے کی ضرورت نہ پڑے.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments