Tuesday, October 8, 2013

9 ٹو 5 : نئے دور کی غلامی


ہم دنیا میں غلامی کے خاتمے کیلئے بڑی بڑی تحریکیں چلاتے ہیں لیکن کیا کسی نے اس بات کا بھی بغور جائزہ لیا کہ ہماری موجودہ زندگیاں بھی تو غلامی سے کم نہیں، صبح اٹھ کے آفس جانا، نو دس گیارہ گھنٹے کے بعد واپس آنا،اور اسکے نتیجے میں کھانا رہائش بمشکل پورا ہونا. اور اس ہی شیڈیول کی پابندی کرتے ہوئے اسی ایک چکر میں کولہو کے بیل کی طرح گھومتے رہتے ہوئے بھی ہم خود کو آزاد سمجھتے ہیں. ہم اپنی خواہشات کے برعکس ساری زندگی وہ کام کرتے رہتے ہیں جو ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتا،اس کام سے واپس لوٹنے کے بعد ہم ذہنی طور پر نہ صرف تھکے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ بے اطمینان بھی ہوتے ہیں. یہی تو ذہنی غلامی ہے بیشک ہمارے ہاتھوں اور پاؤوں میں زنجیر نہیں لیکن اس روزانہ کے شیڈیول سے ایک انچ بھی آگے پیچھے ہوتے ہوۓ ہمیں کئی بار سوچنا پڑتا ہے. اس نظامِ غلامی نے ہماری سوچ کو صرف اتنا محدود کر دیا کہ ہماری بات چیت میں صرف اس بات کا ذکر ہوتا ہے کہ کس چیز کی قیمت بڑھی اور کس کی قیمت بڑھنے والی ہے. مگر اس سب کے باوجود بھی ہم اگر خود کو ایک آزاد فرد تصور کریں تو اچنبھے کی بات ہے...
(ابن سیّد)

مل کر بنا رہے ہیں اک روشن پاکستان

یو ایس ایڈ امریکی عوام کی طرف سے!
امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان. اس روشن پاکستان کو بنانے کیلئے جو روشنی مستعار لی جارہی ہے وہ ان ڈرون میزائلوں کی روشنی جو امریکیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں پر کئے جاتے ہیں. اس روشنی سے کئی چراغ بجھ بھی جائیں تو کیا ہوا، وہ چراغ جل بھی جاتے تو اتنی روشنی نہ پیدا کر سکتے جتنی روشنی یہ یو ایس ایڈ کرجاتی. یہ توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام کرینگے. توانائی میں اس لئے کیونکہ ایٹمی توانائی کے باوجود شاید ہم وہ توانائی پیدا نہیں کر پارہے جو یہ یو ایس ایڈ والے چاہتے ہیں. صحت، ہاں اس شعبے میں ضرور کام کریں کیونکہ یہ شعبہ بہت اہم ہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ڈرون باری ہوتی ہے تاکہ ان متاثرہ لوگوں کی مدد کی جاسکے جو اپاہج ہوگئے ڈرون کی بدولت اور جب وہ صحتمند ہوجائیں تو مزید ڈرون مارے جا سکیں اور تعلیم کا شعبہ تو رہ گیا یاد تو ہوگا پہلا ڈرون حملہ باجوڑ میں ایک مدرسے پر ہوا تھا اور قریباً اسّی بچے شھید ہوئے تھے، خیر میں بھی کیا ہر بات میں ڈرون درمیان میں لے آتا ہوں..ہاں تو میں کہہ رہا تھا..
امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان...
(ابن سیّد)

Monday, October 7, 2013

ہماری ترجیحات کیا ہیں

اتفاق سے میرا بھی تعلق کئی تعلیمی اداروں سے رہا. میرے ساتھی کلاس فیلوس مختلف پروگرامات کراتے تھے اور ان میں سے کئی موسیقی سے بھرپور ہوتے تھے. میں نے اور چند دوست جو مذہبی ذہن کے حامل تھے سوچا کہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے کہ دین کی بات کلاس میں کی جائے لیکن جب ہم نے ایسا کرنے کا سوچا تو ہمیں روک دیا گیا. کافی دفعہ یہ سوال کیا جاتا کہ کس تنظیم کے ہو اور تمہیں اتنی کیوں فکر ہے لوگوں کہ ذہنوں میں اسلامی تعلیم انڈیلنے کی،میں سوچتا تھا کہ جب تعلیمی اداروں میں موسیقی کے پروگرام ہوتے ہیں تو ان سے اس پروگرام کا مقصد کیوں نہیں پوچھا جاتا؟ این ای ڈی میں ایک عرصہ گزارا صدی پرانی جامعہ جس میں کئی نئے نویلے ڈپارٹمنٹ بننے کے باوجود قریباً 2009میں مسجد کی توسیع ہوئی. ایک دفعہ Fast یونیورسٹی جانا ہوا مسجد ڈھونڈنے کے بعد گراؤنڈ کے اک کونے میں کچی زمین پر چند جاء نمازیں بچھی دیکھیں اس وقت بھی اسکا شمار اچھے اداروں میں ہوتا تھا اب سنا ہے اچھی بن گئی ہے مسجد. ایک دینی پروگرام Marriot میں ہوا تھا ہوٹل کے باھر ٹوٹی پھوٹی مسجد دیکھ کر شدید دکھ ہوا.
بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں ہم دنیا کے لئے کتنا خرچ کرتے ہیں اور آخرت کے لئے کتنا. ہم آفس کی عمارت کیلئے پلازہ کھڑا کردیتے ہیں لیکن مسجد کے لئے بیسمنٹ کے کونے پر ٹوٹی پھوٹی جگی ہی ملتی ہے. بچوں کی تعلیم او لیولز میں ہونی چاہئے اسکے لئے دس ہزار فیس بھی کم اور گھر پر آنے والے قاری صاحب کی پانچ سو روپے فیس پر بھی تکرار...
(ابن سّید)

شریف آدمی....



کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ایک جگہ سے گزر رہا تھا کہ چند بائیک سواروں نے روکا اور موبائل چھیننے کی کوشش کی،تمہیں تو پتا ہے میں ایک "شریف آدمی" ہوں میں نے مزاحمت نہ کی اور چپ چاپ موبائل دے دیا.
ایک عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں ایک جگہ سے گزر رہا تھا رستے میں دیکھا کہ ایک شخص کسی خاتون کے ساتھ بد تمیزی کر رہا ہے. ایک لمحے کو تو میں رکا لیکن تمہیں تو پتا ہے میں ایک "شریف آدمی" ہوں لہذا میں نے عافیت اسی میں سمجھی کے چپ چاپ گزر جایا جائے.
اور پھر بقر عید کے وہ دن عید کی نماز کے بعد ہم گھر کو آئے کہ اپنی قربانی اللہ کی راہ میں پیش کریں، بڑے چاؤ سے بکرا لیکے آئے تھے کہ اتنے میں چند سیاسی پارٹی کے لوگ آئے کہنے لگے صاحب "خدمتِ خلق" میں آپ بھی حصہ ڈالیں، کھال ہم آ کے لے جائیں یا یونٹ آپ خود پہنچا دینگے؟ تمہیں تو پتا ہے میں ایک "شریف آدمی" ہوں لہذا میں نے خود کھال انہیں پہنچائی.
اکثر میں دیکھتا ہوں لوگ مجھ سے کسی مدد کا مطالبہ کرتے ہیں، کسی زخمی کو سڑک پر پڑا دیکھ لوں، یا کوئی اور پیچیدہ مسئلہ ہو لیکن میں انکی مدد سے قاصر ہوتا ہوں... تمہیں تو پتا ہے میں ایک "شریف آدمی" ہوں ..
(ابن سیّد)

ہماری جنگ؟


اسکا سینہ فخر سے پھلا ہوا تھا آنکھوں میں آنسو مگر دل طمانیت سے لبریز تھے، اور کیوں نہ ہوتے اعزاز ہی ایسا تھا اسکا بیٹا شہید ہوا تھا ،ھمیشہ کی زندگی پاگیا تھا. مگر اسے کیا فکر اِس دن کے لئے تو اس نے پالا تھا ان ہی خطوط پر تو اسکی تربیت کی تھی. وہ بھادر تھا! ہزاروں فٹ بلند پہاڑوں کو پار کرکے کشمیر کی وادیوں میں گم ہوا اس نے دشمن آرمی کے خلاف کاروائیاں کر کے ان کی نیندیں اڑا دیں تھی.
مگر کچھ عرصہ گزرتا ہے ٹی وی پر "میرے عزیز ہم وطنوں" کی آواز گونجتی ہے، اسکے گھر پر ریڈ پڑتی ہے اسکے باپ اور بھائی سے پوچھا جاتا ہے کہ اور کتنے دھشت گردوں کو اس نے تربیت دی ہے، یہ پوچھنے والے اسکے ملک کے ہیں اسکے اپنے، آج تو وہ ڈی ایس پی بھی غائب ھے جو اسکے بیٹے کی شھادت پر مٹھائی لیکے آیا تھا. دشمن ملک میں تو آتنک وادی ہونا انکا فخر تھا مگر اپنے ملک میں اس خطاب کا مِلنا انکے لئے بہت بڑا صدمہ تھا.
وقت گزرتا ہے ٹی وی پر آنے والے نغمے "اے دنیا کے منصفوں.." کی صدا دھیمی ہوتی ہے اور ماضی میں گم ہوجاتی ہے..
آج وہ باپ بھی گُم ھے اور بھائی بھی نہ جانے کدھر ہیں، سنا ہے کچھ دن پہلے اسکی ماں اپنے شوہر اور بیٹوں کی تصاویر لئے گمشدہ افراد کے کیمپ میں بیٹھی دِکھی تھی...
(ابن سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments