Showing posts with label american terrorism. Show all posts
Showing posts with label american terrorism. Show all posts

Thursday, October 9, 2014

ردِ عمل

Image from here
ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈک سے پورا کانفرنس روم ڈیپ فریزر جیسا ہورہا تھا، ٹیبل کے گرد آرام دہ کرسیوں پر اَکڑے تھری پیس سوٹ پہنے ایگزیکٹیوز ہمہ تن گوش تھے، جبکہ دوسری جانب وہ اپنی رَو میں سب سے مخاطب تھا، اس کا انداز دلفریب اور دلائل مضبوط تھے، اس وقت وہ ملک کے مشرقی حصے کی صورتحال پر اظہار ِخیال کررہا تھا، سب دم سادھے اس کی باتیں سن رہے تھے، سوالات کی ممانعت نہ تھی پھر بھی بیچ میں اِکا دکا سا محتاط سا ہاتھ اٹھتا اور وہ اس پر سوال کرنے والے کے سوال کا مدلل جواب دیتا جو کہ ممکنہ اگلے کئی سوالوں کا بھی جواب ہوتا ، اس کی آواز میٹنگ روم کے آخر تک پہنچ رہی تھی،      "سر اِس خطہ میں ہمارے اندازے کے مطابق ایک لاکھ کے قریب دہشت گرد چھپے ہیں ، یہ ہمارے ملک کے لئے ہندوستان کے بعد دوسرا بہت بڑا خطرہ ہیں، بلکہ میں تو اپنے پیش روؤں سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہنا چاہوں گا کہ اس وقت پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ یہی ہے، بحیثیت ایک اسٹریٹیجیک دفاعی تجزیہ کار اپنی گورنمنٹ اور سیکیورٹی اداروں کو میرا یہی مشورہ ہوگا کہ تمام ملٹری اس علاقہ میں لگا دی جائے۔۔۔" مزید کچھ دیر تک اس کی آواز گونجتی رہی، ۔۔۔"ہم ڈرون حملوں سے بھی بہت مدد حاصل کرسکتے ہیں!۔۔" اتنا کہہ کر وہ مسکرانے لگا، "لیکن سر!۔۔۔۔" ایک ہاتھ سوال کیلئے بلند ہوا۔۔۔  "جناب! کیا اس صورت میں سویلین اموات جنہیں ہم  کولیٹرل ڈیمیج کے نام سے پکارتے ہیں ، کیا  ان کی تعداد نہیں بڑھ جائے گی؟ اور کیا ہم عرصہ دراز سے اس کے نتائج نہیں بھگت رہے؟"۔۔۔ "اچھا سوال ہے!"۔۔ وہ گویا ہوا،"دیکھیں ! قومیں قربانی دیتی ہیں ، جب ملک حالت ِجنگ میں ہو، تو دو طرفہ حملوں سے کولیٹرل ڈیمیج اور سویلین  کی اموات ناگزیرہیں، لہذا میں اس سلسلے میں اتنا ہی کہوں گا جہاں سو دہشتگرد مارے جائیں اور وہاں بیس سویلین اموات ہوں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے" ۔۔۔۔۔۔ "ایک منٹ سر!" وہ بولنے ہی لگا تھا کہ کسی نے اس کی بات کاٹ دی، "وہ پیچھے دیکھے بغیر گویا ہوا،  "ہمیں اس پریزنٹیشن کو مکمل کرنا ہے،لہذا مختصر سوال کریں۔۔"
"جی سر لیکن میری بات مکمل ہوجائے"، یہ کوئی اور نہیں بلکہ چائے سرو کرنے والا بوڑھا تھا، جو اس میٹنگ کے شرکاء کو چائے دینے کیلئے کمرے میں آیا تھا،  "سر جی! ان ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر، نرم کرسیوں کے درمیان، یہ سو پر بیس اموات کی منظوری دینا آسان ہے۔۔۔سر ہمارے کچے گھروں میں تپتی دھوپ میں آ کر دیکھو، سر جس سویلین اموات کی آپ بات کررہے ہیں وہ میرا پورا خاندان تھا، میری بیوی ،معصوم بچّے اور میرا بوڑھا باپ، سر جس سویلین اموات کی آپ بات کررہے ہیں وہ ہمارے جرگہ کہ سرکردہ افراد تھےیہ وہ بزرگ تھے جن کی عزت پورا علاقہ کرتا تھا، ہمارے علاقہ کے نمائندگان  ، سر جس سویلین اموات کی آپ اجازت دے رہے ہیں وہ ہمارے مدرسے میں پڑھنے والے معصوم طلباء اور ان کے اساتذہ تھے۔۔۔ سر !ہم موت سے نہیں ڈرتے ، وہ تو برحق ہے ایک دن آجائے گی، اور جو مرگئے اُن کی اُس ہی دن لکھی تھی، لیکن سر !مرنے کے بعد ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ ہم پر دہشتگرد کا لیبل چسپاں کیا جائے، ہمیں غیر ملکی کہا جائے، ہمیں ہندوستان کے ایجنٹ ہونے کا تمغہ ملے ، سر ۔۔۔ موت برحق ہے، اور جیسے مجھے اپنی موت کا یقین ہے، ویسے آپ سب کی موت کا بھی یقین ہے، اور جیسے اِدھر ناانصافی پر مایوس ہوں، میں آخرت میں مکمل انصاف پر پُر امید ہوں۔۔۔!!"
اتنا کہہ کر وہ اپنی ٹرے اٹھا کر پلٹ گیا، روم سے باہر  نکلتے ہوئے اس نے ایک بار پلٹ کر دیکھا، سب کے سر جھُکے ہوئے تھے۔کسی میں سوال کی ہمت نہ تھی، نہ جواب کا حوصلہ ، شاید ۔۔۔۔سب کو اپنے سوالوں کا جواب مِل چکا تھا! یا پھر وہ سب کے ذہن میں ہزاروں کُلبلاتے سوال چھوڑ گیا تھا!
ابن ِسید

Thursday, February 6, 2014

افغانستان ہی کیوں؟

افغانستان میں ایسا کیا ہے جو اس کو دوسرے ممالک سے منفرد کرتا ہے، میدانی علاقے، پتھریلے پہاڑ، غربت، لیکن پھر بھی عالمی طاقتوں کی اس پر نظر رہی برطانیہ کے بعد رشیا اور اب امریکہ کی بربادی اسے یہاں تک لے آئی. یہ صرف اسلام اور کفر کی جنگ ہے جس کے ایک سرے پر طالبان اور دوسری جانب امریکہ کھڑا ہے اور باقی دنیا والوں کو ان میں سے ایک فریق کا ساتھ دینا ہے. افغانستان کی بنجر زمین میں امریکہ کو سوائے موت کے کیا ملا لیکن اسکے آنے کی وجہ صرف اور صرف یہاں اسلام کے لیواؤں کا ہونا ہے جو نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی باطل سے ٹکرانے اور اس کو پاش پاش کرنے پر اکساتے ہیں اور یہی بات امریکیوں کے گلے کا کانٹا ہے.
لیکن یہ بات امریکیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گلے میں بھی اٹک گئی ہے جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور افغانستان میں امریکی مداخلت کو افغانستان کا ذاتی مسئلہ کہتے ہیں لیکن جب امریکہ کیساتھ یا اسکے خلاف ساتھ دینے کا سوال آتا ہے تو یہی افراد اس "اندرونی معاملہ" کو اپنے گلے کا ہار بنا کر امریکہ کی صفوں میں جا کھڑے ہوتے ہیں اور اس جنگ کو "اپنی" جنگ کہہ کر ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں تاکہ یو ایس ایڈ کے خزانوں سے مستفید ہو سکیں اور انکا یہی کردار ان کو سب کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، لیکن صدقے جائیں ڈھٹائی کے..
ہاں بالکل یہ ہماری جنگ ہے لیکن ہم اس میں غلط جانب کھڑے ہیں ہم صلیبی جنگ میں صلیبیوں کے شانہ بشانہ ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے. ہم نے خدا سے کئے اس عہد کی پاسداری نہ کی اور یہی وجہ ہے کہ ہم پر ذلت مسلط کردی گئی. دو بروں میں سے کم برے کا انتخاب مشکل ہوسکتا ہے لیکن ہم نے حق اور باطل واضح ہوتے ہوئے بھی باطل کا ساتھ دیا. اور اگر کوئی اسکی ذمہ داری حکمرانوں پر ڈالتا ہے تو یہ بھی سوچ لے کہ اس سب کا ذمہدار حکمرانوں کو ٹھہرانا ہماری ذمہ داری مکمل نہیں کرتا کیوں کہ حکمران بھی ہم ہی میں سے ہیں.
ابنِ سیّد

Tuesday, December 10, 2013

غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟ on Saach.tv

This blog can also be seen here http://www.saach.tv/2013/11/30/ghaltiyan-latadad-lakin-hal-keya-hai/

Image from here: http://www.saach.tv/wp-content/uploads/2013/11/blog173-580x1361.jpg


یو ٹرن

یو ٹرن لینا خطرناک ہو سکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب رفتار ہلکی نہ کی جائے، اس کے نتیجہ میں سواری میں سوار افراد کو نا صرف جھٹکا لگتا ہے بلکہ بعض اوقات گاڑی الٹ بھی سکتی ہے اور جانوں کا زیاں ہو سکتا ہے.
یہی کچھ ہم نے کیا، ہم نہایت تیز رفتار سے ایک جانب چلے جارہے تھے کہ یکایک یو ٹرن لے لیا گیا اور تو اور اسکے نتیجہ میں پیش آنے والے جھٹکے کو سمبھالا دینے کیلئے نہ رفتار ہلکی کی بلکہ اور تیز کردی. جس کی وجہ سے گاڑی میں بیٹھے افراد کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا. ہم اسلام پسندی کی گاڑی میں سوار تھے یہ رفتار گو کہ کچھ زیادہ نہیں لیکن مناسب ضرور تھی، ہم افغانستان میں کشمیر میں جہاد میں مصروف تھے، ہم کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے کہ یکایک امریکہ کی ایک کال پر یوٹرن لے لیا گیا. تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی. اسلام کا نام لینا اور اسلام پسند ہونا ایک جرم بنا دیا گیا. یہی نہیں اس یوٹرن لینے کے باوجود گاڑی الٹی سمت چلائی جانے لگی وہ ایسے کہ میڈیا کا منہ کھول دیا گیا اور فحاشی کا سیلاب اُمڈ آیا. اسلامی شعائر کا کھلے عام مذاق بنایا گیا، حدود اللہ کو پامال کیا گیا، حدود آرڈیننس ختم ہوا اور بے راہ روی عام ہوئی.
اور پھر اس یوٹرن کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ہر اکائی میں کئی گروہ بن گئے ہماری حکومت امریکہ کی وفادار بنی ہماری فوج دو حصوں میں بٹی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں گروہ بنے اور لوگوں نے امریکہ کے ساتھ جنگ کو چُنا اور.ہماری فوج نے انکو روکا اس طرح ہماری فوج اور ان افراد میں لڑائی ٹھن گئی. پورا ملک جنگ کی لپیٹ میں آگیا، ایک کہ بعد ایک آپریشن ہوتا رہا کبھی راہ نجات تو کبھی راہِ فرار لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے گئے. شاید غلطیوں کو سدھارا جاتا تو ملک ان حالات سے نکل سکتا تھا لیکن ان غلطیوں کو سدھارنے کے بجاۓ ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی. بیماری کے خاتمہ کے بجاۓ بیمار کو ختم کرنے کی ناقص پالیسی اختیار کی گئی.
اب بھی اس بھنور سے نکلا جا سکتا ہے لیکن گاڑی کو صحیح ٹریک (صراط مستقیم) پر لانا ضروری ہے ورنہ نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں.

ابنِ سیّد

Monday, December 9, 2013

سمجھ تو آپ گئے ہونگے

(نیچے لکھی گئی بیشتر باتیں بے بنیاد ہیں اپنی ذمہ داری پر پڑھیں)
نہایت ہی خوشی کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ آخر کار پاکستانی قوم نے پتہ لگا لیا کہ انکا اصل دشمن کون "نہیں" ہے یہ نہ ہی انڈیا ہے جس کہ بارے میں ہم چہ مگوئیاں کرتے ہیں اور اسکو پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور نہ ہی امریکہ ہے جو پاکستان کے سرحدی علاقوں پر ڈرون گراتا ہے. یہ تو اندازہ ہم نہیں لگا سکے کہ اصل دشمن کون ہے البتہ یہ اندازہ لگا لیا کہ کون "نہیں ہے" لہذا ان دونوں سے اعلانِ برأت کرنے کے بعد باجماعت اپنے دشمن کو تلاش کیا جارہا ہے امید ہے مل ہی جائیگا، بچ کے کہاں جائیگا ..
بہرحال خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے "دوست ملک" امریکہ کا دورہ کر کے اس سے اپنی شرائط منوا لیں. ایک شرط تو یہ کہ امریکہ پاکستان پر جب بھی ڈرون حملہ کرے پہلے سے بتا دے تاکہ ہم میڈیا کو بتا دیں کہ حملے کے بعد کن دہشتگردوں کی ہلاکت کی خبر جاری کرنی ہے تاکہ وہ اس کو اپنی بریکنگ نیوز بنا سکیں اس طرح پروگرام کی ریٹنگ بڑھے گی اور ملک میں مزید زر مبادلہ آسکےگا.
مزید خوشخبریاں یہ کہ پاکستان نے اب بغیر پائلٹ سے اڑنے والے جہاز بنا لئے ہیں اور پاک فضائیہ کے حوالے کردیے ہیں جس کے بعد امید کی جاتی ہیکہ پی اے ایف میوزیم میں آنے والے بچوں کو دیکھنے کے لئے ایک اور چیز مل جائیگی. اس کے علاوہ اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ فضائیہ کے افراد اس کو اڑا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں. ہے نہ مزیدار...
جیسے کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ امریکہ کو ہم دوست مانتے ہیں اور اسی دوستی کا حق ادا کرنے کیلئے انکل سیم اور انکے رشتہ دار دن رات لگاتار ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک پاکستان کی تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اب آپکو تو پتا ہے ایک بنی ہوئی جگہ کی رینوویشن کتنا مشکل کام ہے اور اس کو آسان بنانے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایک طرف سے ڈرون کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مکان گرایا جائے اور دوسری طرف یو ایس ایڈ کے تعاون سے تعمیر کیا جائے. نہ جانے بعض لوگ اس کو ظلمِ عظیم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. مگر ادرک کیا جانے بندر کا مزہ اور یعنی الٹا کوتوال چور کو ڈانٹے اور آ بھینس مجھے مار، سمجھ تو آپ گئے ہونگے.
فرانس کی ملکہ نے تو روٹی کی جگہ کیک کھانے کی ہدایت کی تھی جبکہ ہمارے سیاست دان اس طرح کے مشورہ دینے میں نہایت سخی واقف ہوئے ہیں لہذا ہو دوسرے دن کوئی ٹرین میں آیت الکرسی پڑھ کے بیٹھنے کا مشورہ دیتا ہے تو کوئی ٹماٹر کی جگہ لیموں استعمال کا مشورہ، اس بات کا تخمینہ بھی لگوایا گیا ہے کہ اگر ان کے مشورہ اسی رفتار سے ملتے رہے تو جلد یہ زبیدہ آپا کاریکارڈ توڑ ڈالیں گے. آپکو تو معلوم ہے عوام کتنے رحم دل ہیں لہذا انہوں نے سیاست دانوں کو چپ رہنے کا عندیہ دے دیا ہے تاکہ زبیدہ آپا کا گھر ہنستا بستا رہے اور روزگار چلتا رہے.
اور آخر میں وہی گھِسا پٹا شعر عرض ہے:
 
اندازِ بیاں گرچہ مِرا شوخ نہیں ہے
شاید کہ تِرے دل میں اتر جائے مری بات

ابنِ سیّد

Monday, November 25, 2013

غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟

غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟

مجھے اچھی طرح یاد ہے پہلا ڈرون حملہ ہوا تھا، یہ باجوڑ کا ایک مدرسہ تھا. اس میں تقریباً اسّی طلباء تھے جو موقع پر شہید ہوئے جبکہ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہوئی. اس موقع پر بعض افراد نے یہ کہہ کر غلط بیانی کی کہ اس علاقہ میں آبادی نہیں لیکن باجوڑ کے ایک رکن قومی اسمبلی نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا کہ وہاں آبادی ہے اور اس آبادی کے قریب ہی مدرسہ ہے جس کو نشانہ بنایا گیا اور بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا ہے. اس وقت مذہبی اور محب وطن جماعتوں نے "گو امریکہ گو" اور "جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے" کا نعرہ بلند کیا جس کا ابتداء میں چند افراد و جماعتوں نے استہزاء اڑایا مگر آج یہ نعرہ ہماری قومی بقا کا نعرہ بن گیا ہے. جب ہمارے ملک کے ایک بڑے شہر سے ایک امریکی شہری نے چند افراد کا قتل کیا لیکن افسوس اس قاتل کو راہِ فرار دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انکی ہمت بڑھی اور انہوں نے ہمارے ملک میں کھلے عام کاروائیاں شروع کردیں. ایبٹ آباد کا واقعہ ہوا جس پر ہمارے حکمرانوں نے کہا "گریٹ وکٹری"، مگر بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ وہ "گریٹ ڈیفیٹ" تھی. اس کے بعد ملک میں کھلے عام غیر ملکی ایجنٹ گھومتے رہے مگر ہم ان سے سوال نہ کر سکے. اسلام آباد کی سڑک پر تین چار امریکی ایک جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی میں پکڑے جاتے ہیں مگر سفارت خانے کی ایک کال پر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے. ممکن ہے وہی امریکی کہیں حملہ یا دھماکہ کردیں اور بھاگ جائیں تو ہم اس کیس کو طالبان سے منسوب کردیتے ہیں تاکہ فائل بھی دب جائے اور کیس بھی انجام کو پہنچ جائے، ہم ممکنات کی نفی نہیں کرسکتے.
ہم اس ملک میں ایک وسیع و عریض امریکی ایمبیسی کی تعمیر کی اجازت دیتے ہیں جس میں سات سو افراد کی رہائش کا انتظام ہے. ہمارے اہلکار اس میں پَر بھی نہیں مار سکتے، ہم انہیں پورا موقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے علاقوں میں پھریں گھومتے رہیں، گاؤں دیہات قبائلی علاقہ جات و  مضافات میں مٹرگشت کریں ان علاقوں میں جائیں جہاں ہم نہیں جا سکتے ان افراد سے بات کریں جن سے ہم نہیں مل سکتے اور پھر ہم حیران ہیں کہ ان دہشتگردوں کو "بیرونی مدد" کہاں سے مل رہی ہے. شَک ہم انڈیا پر کرتے ہیں جبکہ اس بیرونی مدد کو ہم نے پناہ دارلحکومت میں غیرملکی ایمبیسیوں میں دے رکھی ہے.
ہم نے صلیبی جنگ میں صلیب کا ساتھ دیا، مسلمان ہوتے ہوئے صلیبیوں کو رسد پہنچائی، افغانستان میں ان کے ہاتھ مضبوط کئے، اور اپنے افغان بھائیوں کے قتلِ عام میں امریکی اور نیٹو کی افواج کا ہاتھ بٹایا. اس کے باوجود ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ افغان عوام ہم پر بھروسہ کرینگے. ہم نے یہ نہ سوچا کہ لاکھوں افغانی اس ملک میں مہاجرانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ہمارے امریکیوں کو مدد کرنے پر وہ بھی بگڑ سکتے ہیں، افغانستان میں اگر انکا رشتہ دار مارا جائے تو انتقامی جذبے میں آکر وہ بھی ملوث ہوسکتے ہیں ہم نے اس بات کو سمجھے بغیر جنگ میں چھلانگ ماری اب اندر باہر ہر طرف سے دشمن مار رہا ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون مار رہا ہے اور ہم حیران ہیں کہ ہم پر حملے کیوں ہوتے ہیں اور ماننے کو تیار نہیں کہ یہ غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور ان غلط پالیسیوں کو سدھارنے کے بجاۓ نئی پالیسی بنانے کو مسئلہ کا حل سمجھ رہے ہیں، نتیجہ صفر!
ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی دنیا کی بڑی فوج ہونے کے باوجود بھی، ہم بحیثیتِ قوم کسی سے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرسکتے. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ ایک وقت آئیگا کہ غیرمسلم اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیںگی جیسے بھوکا دسترخوان پر جبکہ اس وقت افرادی طاقت میں بھی سمندری جھاگ کی مانند ہونگے. شاید وہ وقت آچکا ہے.
وجہ کیا ہے؟ ہم نے اسلام کا سبق بھلا دیا ہم نے ملتِ اسلامیہ کے فلسفہ کو پسِ پردہ ڈال دیا، ہر کام بنا سوچے کیا نتیجہ یہ کہ اللہ نے ہم پر بحیثیت قوم ذِلت مقرر کردی. اب حل صرف یہ ہے کہ اپنی شناخت اپنی بنیاد اسلام کی جانب پلٹنا ہوگا. ہمیں اسلام کے مطابق فیصلے کرنے پڑینگے ہمیں اپنے مسائل کا حل اسلام میں تلاش کرنا پڑیگا جب ہی ممکن ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوگا اور ہمیں عروج کی جانب لیجائیگا.

ابنِ سیّد

Friday, November 22, 2013

اور اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈرون حملہ

امریکہ نے اپنے ڈرون حملوں کا احاطہ بڑھا کر اب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ ھنگو میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا. اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور تقریباً اتنے ہی زخمی ہوئے. یہ بات نہ جانے کس طرح میڈیا نے پتا لگا لی کہ ان میں سے شہید ہونے والوں کا جرم انکا حقانی نیٹورک سے تعلق ٹھہرا، لیکن پھر شہید اور زخمی ہونے والے طلباء کا جرم کیا تھا. اس ڈرون حملے کی مزمت تو مذہبی حلقوں اور چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے تو آئی لیکن حکومتی ادارے اور قومی دفاع کے ادارے اب تک خاموش ہیں. یہ وہی دفاعی ادارے ہیں جو چند ہفتے پہلے ایک سیاسی جماعت کے قائد کے بیان پر پریس کانفرنس کر رہے تھے. لیکن اس حملے نے سب کے منہ پر تالے لگا دئے. سب امریکہ کے خوف کا شکار ہیں.
ایک جانب ہم اپنے ہتھیاروں کی نمائش کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ کے جان سوز حملے ہمارے لوگوں کو شہید کر رہے ہیں. اقبال نے تو کہا تھا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی، مسلمان کو ہتھیار کی نہیں ہمت و مردانگی کی ضرورت ہوتی ہے اور افغان غریب عوام نے امریکہ کے دانت کھٹے کر کہ یہ ثابت بھی کر دیا لیکن ہم شاید ان سی.بھی گئے گزرے نکلے. کاش کہ لوگ جانتے  کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں.....
ابنِ سیّد

Wednesday, November 13, 2013

کڑوا سچ بولنے پر معذرت


کڑوا سچ بولنے پر معذرت؟
(سیّد اویس مختار) 

منور حسن جواب دیں، انہیں سچ بولنے کا حق کس نے دیا اور وہ بھی اتنا بڑا اور کھرا سچ جس نے امریکہ، اسٹیبلیشمنٹ اور امریکہ نواز تمام اتّحادیوں کو ہِلا کہ رکھ دیا اور نہ صرف جھنجوڑا بلکہ انہیں حقِ نمک ادا کرنے کا فریضہ یاد دلا دیا. منور حسن جواب دیں کہ کس نے انہیں حق دیا کہ وہ یہ معاملہ اس وقت اٹھائیں جب سب اتحادی امریکہ کی گود میں بیٹھے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کے یک دم کس نے انکی کرسیوں کو ہلا دیا، جب سب جماعتیں اور حکومتی اتحادی امریکہ کی ہاں میں ہاں کو ہی کامیابی سمجھ رہے تھے تو اس وقت کس نے کہا تھا کہ کلمہِ حق کہیں!
آئی ایس پی آر کہتی ہے جواب دیں، منور حسن جواب دیں کہ انہیں کس نے حق دیا کہ کسی کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ دیں جبکہ یہ حق تو صرف آئی ایس پی آر، میڈیا اور چند سیاسی جماعتوں کہ پاس ہے. یہ حق تو صرف اس جیو چینل کہ پاس ہے جو کچھ دن پہلے ٹِکر چلاتا ہے کہ "گلشن کے علاقے میں فائرنگ ایک فرد ہلاک اور ذوالجناح شہید"، یہ حق تو ان "سچائی کہ علمبرداروں" کہ پاس ہے کہ اپنی مرضی سے شہادت کا لیبل چسپا کریں.
یہ حق تو شاید صرف ان لسانی سیاسی جماعتوں کے پاس ہے جو ہر ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے کارکن کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیتے ہیں. یہ حق تو صرف حکومتی نمائندوں کہ پاس ہے جو اسلامی قانون کو کالا قانون کہتے ہیں اور جب کوئی جذباتی انسان اس توہین کا ان سے بدلہ لیتا ہے تو جواب میں انکو شہادت کا رتبہ مل جاتا ہے.
اس طرح کے بیان سے تو پاک آرمی کے.مقصد "وار آن ٹیرر" کو ٹھیس پہنچے گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ امداد بند کردے. پھر یہ کرنل جنرل کے بڑے بڑے پروٹوکول کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا...
یہ سوال نہ اٹھتا تو نہ جانے کب تک امریکہ کی مسلط کی گئی جنگ کو ہم نہ جانے کب تک اپنی جنگ سمجھ کر لڑتے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس جنگ میں اور نیٹو سپلائی کا راستہ فراہم کرنے پر اور امریکہ کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ہم اپنے افغان مسلمان بھائیوں کے قتل عام میں مدد فراہم کر رہے ہیں. اور اس جنگ میں کام آنے والے سپاہیوں کا مستقبل کیا ہے یہ اب تک ایک سوالیہ نشان ہے کیوں کہ دونوں جانب مرنے والا مسلمان ہے اور کلمہ گو ہے دونوں جانب صدا نعرہ تکبیر کی ہی بلند ہوتی یے. اس معاملہ کو اب کسی نہ کسی کروٹ بٹھانا ہوگا، ہماری فوج اور عوام کو کھل کر امریکی امداد اور پالیسیوں کا بائیکاٹ کرنا پڑیگا.
اور معافی تو بالکل مانگنی چاہئے کہ ہمیں معاف کرو ہم اب تک اس فوج کو اسلام کا سپاہی سمجھتے رہے جبکہ صد افسوس کہ حقیقت میں یہ امریکہ کے سپاہی نکلے.

Tuesday, October 8, 2013

مل کر بنا رہے ہیں اک روشن پاکستان

یو ایس ایڈ امریکی عوام کی طرف سے!
امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان. اس روشن پاکستان کو بنانے کیلئے جو روشنی مستعار لی جارہی ہے وہ ان ڈرون میزائلوں کی روشنی جو امریکیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں پر کئے جاتے ہیں. اس روشنی سے کئی چراغ بجھ بھی جائیں تو کیا ہوا، وہ چراغ جل بھی جاتے تو اتنی روشنی نہ پیدا کر سکتے جتنی روشنی یہ یو ایس ایڈ کرجاتی. یہ توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام کرینگے. توانائی میں اس لئے کیونکہ ایٹمی توانائی کے باوجود شاید ہم وہ توانائی پیدا نہیں کر پارہے جو یہ یو ایس ایڈ والے چاہتے ہیں. صحت، ہاں اس شعبے میں ضرور کام کریں کیونکہ یہ شعبہ بہت اہم ہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ڈرون باری ہوتی ہے تاکہ ان متاثرہ لوگوں کی مدد کی جاسکے جو اپاہج ہوگئے ڈرون کی بدولت اور جب وہ صحتمند ہوجائیں تو مزید ڈرون مارے جا سکیں اور تعلیم کا شعبہ تو رہ گیا یاد تو ہوگا پہلا ڈرون حملہ باجوڑ میں ایک مدرسے پر ہوا تھا اور قریباً اسّی بچے شھید ہوئے تھے، خیر میں بھی کیا ہر بات میں ڈرون درمیان میں لے آتا ہوں..ہاں تو میں کہہ رہا تھا..
امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان...
(ابن سیّد)

Monday, October 7, 2013

ہماری جنگ؟


اسکا سینہ فخر سے پھلا ہوا تھا آنکھوں میں آنسو مگر دل طمانیت سے لبریز تھے، اور کیوں نہ ہوتے اعزاز ہی ایسا تھا اسکا بیٹا شہید ہوا تھا ،ھمیشہ کی زندگی پاگیا تھا. مگر اسے کیا فکر اِس دن کے لئے تو اس نے پالا تھا ان ہی خطوط پر تو اسکی تربیت کی تھی. وہ بھادر تھا! ہزاروں فٹ بلند پہاڑوں کو پار کرکے کشمیر کی وادیوں میں گم ہوا اس نے دشمن آرمی کے خلاف کاروائیاں کر کے ان کی نیندیں اڑا دیں تھی.
مگر کچھ عرصہ گزرتا ہے ٹی وی پر "میرے عزیز ہم وطنوں" کی آواز گونجتی ہے، اسکے گھر پر ریڈ پڑتی ہے اسکے باپ اور بھائی سے پوچھا جاتا ہے کہ اور کتنے دھشت گردوں کو اس نے تربیت دی ہے، یہ پوچھنے والے اسکے ملک کے ہیں اسکے اپنے، آج تو وہ ڈی ایس پی بھی غائب ھے جو اسکے بیٹے کی شھادت پر مٹھائی لیکے آیا تھا. دشمن ملک میں تو آتنک وادی ہونا انکا فخر تھا مگر اپنے ملک میں اس خطاب کا مِلنا انکے لئے بہت بڑا صدمہ تھا.
وقت گزرتا ہے ٹی وی پر آنے والے نغمے "اے دنیا کے منصفوں.." کی صدا دھیمی ہوتی ہے اور ماضی میں گم ہوجاتی ہے..
آج وہ باپ بھی گُم ھے اور بھائی بھی نہ جانے کدھر ہیں، سنا ہے کچھ دن پہلے اسکی ماں اپنے شوہر اور بیٹوں کی تصاویر لئے گمشدہ افراد کے کیمپ میں بیٹھی دِکھی تھی...
(ابن سیّد)

Sunday, August 4, 2013

Controversial Burqa Avenger



Few days ago I came to know about the anime series which is been made in Pakistan Burrqa Avenger is the project of a old singer Haroon, two things were shocking for me, ok an animated cartoon series of Pakistan for its own, the second and the more shocking thing is that this project started and completed and we didn’t knew, why this is so much secrecy, but as I looked into the depth I came to know that this secrecy is the strategic planning of the production team to avoid the people from opposition and to avoid any attempts to stop the project.
Now the question arise why anyone would try to stop the project or why they will oppose this innocent children cartoon, the answer is so simple, it is against our Islamic culture. Since so long we have seen that media have done things which are always opposite of the Islamic culture of Pakistan, whether it is some projects like “Aman ki Asha”, “Khuda Kay Liye”, “Chal Parha” and similar stuff. We have seen that all these projects are not according to the culture.
So this time they knew that people are wise and they will reject any attempt to attack the faith of people, so they came up with a slight different idea which seems innocent from the bird eye view but a horrible reality when closely monitored.
First of all Burqa or Hijab is a religious identity, it is respectful for Muslims, it is an Islamic way of life, but in this cartoon it is being used by the girl Jiya with a different perspective which is to hide her identity.
Jiya is normally a non-Muslim name, it is a famous name in the Hindu culture and you can see this in most of the Hindi movies girls are named Jiya. This is another aspect; I wonder if they are showing a Pakistani culture why cant they able to choose a name more mainstream or more Islamic. Strange!
In another seen of the trailer the Jiya who is teacher is shown writing on the Black Board the word “Basant”, if they are advertising this in the trailer, you can surely expect what they might be communicating in the whole series, and once our children will go through the whole process, we can easily expect what they will become.
Second and the most shocking, it is being released with a game called “Burqa Madness”, can you imagine that a religious respectful thing been attached with the word “Madness” in my opinion this is an open blasphemy of an Islamic principle “Hijab”. I still wonder why they did not thought about this while making this game didn’t they did a brainstorming session on the names, or all this stuff was planned in order to do a mockery of the Islamic fundamentals so that slowly people can be used to such stuff and later they come up with a bigger thing.
The girl Jiya seen in this cartoon fighting with the help of books and pens, non sense, again talking about the Pakistani or an Islamic culture books is a religious element, we used to respect books and equipment of education, we used to give respect and touch it to eyes if mistakenly we drop any of our book. But in this cartoon, the girl is shown throwing away books. Children do what they see, I remember we used to jump like Thunder cats and make fake swords like them after seeing the carton, so if this project will be on-air we will be expecting our kids to throw away the respect of books and pens and they will be using it as fighting equipment from now on.
Last, I would like to suggest all parents to boycott these anime series in case it gets on aired, and also all those who want to see a better Islamic culture in Pakistan must oppose this series in the forums, there is so much in the trailer what will you expect when the whole series might got released. I also want to give a message to these flop singer like Haroon & Shahzad Roy that try to do good for the nation rather becoming a selfless puppet been funded by the enemies of Islam.

Friday, July 12, 2013

Our Policy OR American Policy - War on Terror OR War on Pakistan

This has been about a decade since the Pakistan took its first step into the War on Terror, since then Pakistan is been immersed into the mud from which it is hard to come out, but its not impossible. The below text is written inspired by a member of JI Bakhtiar Maani who speak on this topic in the national assembly a decade is now passing since this speech but this is still effective. 



11 years have passed since we are involved in war on terror, war on terror really; we are all amazed to see that why this war is not expanded to those countries which have larger part of non-Muslim community, why this war is only imposed to those countries which have above 90% Muslim population. We are not complaining to America, who we are, we are not Americans we don’t have a right to complain them, but we are Pakistanis and we have right to complain to our government and our security institutes, we must question what happened since Pakistan is a part of this so called war on terror, did the terrorism stopped? Did the drone attacks stopped? Did our economy boosted? Are we in peace? Can we move in our country with surety of our lives? No. Then what is the point to keep ourselves the part of this so called war on terror?
What is being said here is not a part of counter politics, and we don’t want to make it a part of our politics. But this must be discussed for Pakistan, for security and peace, for the lives of the people living in Pakistan. This war was begin with north western Pakistan and now each and every Pakistani is under death threat, involving our army and our soldiers they are also dying while becoming a part of this war.
It started when there was a attack which was done in a madarsa in Bajour, this was done in the Sehri time before Fajar, before the rise of the sun. Around 82 students were killed, these students include children from all age group, they were learning Quran, they were studying Quran, and some of them have learned about half of Quran while some of them have learned more of it. They were not terrorist, from among them there were 5 boys who belong to the same family, no one sends there own blood for terrorism, not all of them. We must clarify ourselves and not mix up different situations.
Then after some time it happened to have an attack in Dargai, it was at 8:30 in the morning, and there were about 35 soldiers which were killed in the start and some of them after that which makes it about a total of 42. The people rescued their own people; they were standing by side for any type of help which can be done for these injured people. After namaz e Zuhar a lot of people gathered for the funeral and prayed for those who were killed in this attack.
While some people are trying to co-relate these two incidents, no certainly not, there is no relation between the two. There is no such thing happened that some one might take revenge of Bajour incident from Dargai. These two incidents are the result of those policies on which we are acting upon. Please! Don’t make your army fight your own people and vice versa.
If we are against those who attack on madarsas we are also against those who attack on our own army, we condemn both of them. Those who were killed are the lovers of Pakistan they lived for Pakistan and they want to die for Pakistan, but sadly they don’t know that they became a victim of American policy. They didn’t knew that its Bush regime which is governing Pakistan.
Speaker, I talk about Bajour, this is said wrongly by Mr. Sher Afgan that there is no home where this attack is done. I will tell you there is are homes, there are mosques, there are people living there, if you don’t believe then we can make a committee which goes to Bajour and see at how much distance there are homes. BBC said that this madarsa is not even able to provide terrorism education to any one, it is such a small one, we can see only Quran there. You can say us criminal, but please don’t speak lies on the situations. Don’t say that they are terrorist they are students who were there to learn Quran. Please speak the truth. This attack is not done by Pakistani army (this speech was done when Pakistan took the responsibility of the drone attack by not telling the reality to own people, instead some official have said that this attack has been done by army on information that there are some terrorist which are hiding in that madarsa.) no person who have Faith in Quran can ever attack a madarsa. Because if they say that this attack has been done by American they we have to take actions against USA, certainly we can not do this so government is taking this responsibility on themselves, which is a lie.  No, this can’t be done, this matter can not be kept under files and closed, this is a matter to talk, and someone must have to answer it. I tell you, those 80 students funeral prayer has been done by the senior minister Mr Siraj Ul Haq, and he has resigned form his seat on this issue, Haroon Rasheed has also resigned from his membership of national assembly.
I know that most of the government official and parliamentarians are against this policy, even army officials are against this and want to get rid of this policy. Some said America is a so called super power, we can not take any actions against it, but till what time, we are being killed by them, we are still under attack in both the situations we have to die, then we have to choose to die in a good way, in the way which Islam tell us, not in that way in which America wants us.

I also ask our government and our army to revise this policy which is killing us each day. I know you are going that way in which you don’t even want to go, so take the right way. Revise the policy.

Thursday, August 2, 2012

Our Future ???


This is an article which I have written about an year ago, depending on the situation please provide your valuable comments on the said issue of American war on terrorism.

Monday, June 4, 2012

Who is better? “You?” or, “the insects”?


Dr. Afia the daughter of the nation was kidnapped from streets of Pakistan with her children, kept in prison and brutally tortured and victimized later convicted without any proven crime. What we saw is the Islamic organizations all over Pakistan started protesting against the decision. We have also seen that he human rights activists and organization, the organization and NGOs for the women rights were silent on the issue, maybe every act by USA is not a crime / not a violation of human rights to them. But on the whole the nation didn’t take any action against the government policies and the corrupt leaders.
An American CIA agent Raymond Davis murdered 3 Pakistanis in the streets of Pakistan. Being arrested by Pakistani security personnel but later he was released, this was also not a crime in the eyes of the human rights organization and NGOs. He was released and now he is living peacefully in his country, may be he might be designated to some other country to spread crime whatsoever. The Islamic organization and some rightist political parties screamed, protested but as a whole nation we kept silent. Maybe this is what we should suffer as a punishment from Allah, as for not raising our voices.
A decade has been passed various innocent people are being killed in the Drone attacks. See who is screaming on the issue? Who is burning their blood? Where are the human rights commissions? Where is the nation? The PAF Chief said that we have the capability of stopping drone attacks but we are waiting for a decision from parliament (the puppet show). Is there anyone to ask them who are they to decide the fate of the life and death of innocents! I am a Pakistani and if I have been killed here by oppressors the responsible is the government bodies and the security agencies that are not performing their duties and still getting the salaries by our taxes.
But what have they done when their own are killed? When American soldiers passed the border and killed several Pakistani army men, maybe the government is still silent maybe they were militants too. This is not happened once this is happened several times in the government of dictatorship and the government of democracy. But who raised the voices? 
Who is out there to act upon the blasphemy of the Holy Book, it is done in Afghanistan and in various part of the world. Where is the unity of the Ummah? Where are we as a nation?
The corrupt politician are playing their dirty games, they are making this country worse, they are playing their part in breaking the country in several pieces by spreading hate on the basis of nation, race, language, color, etc. and we are following their orders. Who is speaking against he policies of his organization? Who is raising the voice and performing his moral duty?
Sadly, the whole nation is united, one the issue of load shedding, when the weather is hot, the electricity is off, they get exhausted and get out of their homes and start breaking stuff and protesting, burning the tyres, etc. An insect will also leave his home when get exhausted by the weather… 
Who is better? “You?” or, “the insects”? Think! Think again…

Sunday, April 29, 2012

Increase in fuel price - Pakistan

 The fuel prices affect directly the economy of everyone; this is only factor which affects irrespective of his economic condition; however, the low economy person will be affected more than the higher / stabled economy persons.
There is a large fluctuation seen in the prices of fuel in the international market but more fluctuation has been noted in the domestic fuel prices in Pakistan. We know since the attack of USA on Iraq, the war on terrorism has been converted into war for oil, and ever since the petrol price is not constant. Instead of correction for the root cause the people and critics are criticizing the after effects. 
If we take a look at the international oil prices, we can see a constant increase in the price; take a look at the graph below. The oil prices graph trends upward; the price loses its stability at the start of 2005, which shows a distinct upwards increase in the graph. The graph is based on the data gathered from 2002 to 2008 of the oil price in the international market.


The main cause is the world political situation which has a direct effect on the oil prices, the Iranian foreign policy as well as American invasion in Iraq are the two main reason, also the stake holders policy not seem to be on the right path.



The Pakistani fuel price trends look a little more aggressive in nature, the graph trend shows a constant increase but at the last of graph we can see the severity of price increase.


The data for the above graph is given below; we can see this April, 2012 the Rs. 100 limit has finally crossed! There was a perception that how much the price will increase it can’t exceed Rs. 100, but this April this barrier has been crossed. The prices are still on the move!


The impact of fuel price increase directly hits the economy, the most prominent is the increase in transport rates, just after the fuel price increase the transporters increase their rates a series of protests will be announced if they are not allowed to do so, due to the increase in the transport rates the daily household products also increases as they also include transport charges in their costs, thus they also have to increase their costs as well. The food prices increase along with an increase in the agriculture and machinery stuff.

Another cause of fluctuation in the product price is the increase in the cost of electricity, the major fuel used in the generation of electricity is the furnace oil. Thus the increase in fuel also affects the per unit cost of the power generated, this is a chain reaction which also increase all the stuff prices involved power which is obviously almost everything!

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments