| Image from here |
Thursday, October 9, 2014
ردِ عمل
Thursday, February 6, 2014
افغانستان ہی کیوں؟
Tuesday, December 10, 2013
غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟ on Saach.tv
| Image from here: http://www.saach.tv/wp-content/uploads/2013/11/blog173-580x1361.jpg |
یو ٹرن
Monday, December 9, 2013
سمجھ تو آپ گئے ہونگے
بہرحال خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے "دوست ملک" امریکہ کا دورہ کر کے اس سے اپنی شرائط منوا لیں. ایک شرط تو یہ کہ امریکہ پاکستان پر جب بھی ڈرون حملہ کرے پہلے سے بتا دے تاکہ ہم میڈیا کو بتا دیں کہ حملے کے بعد کن دہشتگردوں کی ہلاکت کی خبر جاری کرنی ہے تاکہ وہ اس کو اپنی بریکنگ نیوز بنا سکیں اس طرح پروگرام کی ریٹنگ بڑھے گی اور ملک میں مزید زر مبادلہ آسکےگا.
مزید خوشخبریاں یہ کہ پاکستان نے اب بغیر پائلٹ سے اڑنے والے جہاز بنا لئے ہیں اور پاک فضائیہ کے حوالے کردیے ہیں جس کے بعد امید کی جاتی ہیکہ پی اے ایف میوزیم میں آنے والے بچوں کو دیکھنے کے لئے ایک اور چیز مل جائیگی. اس کے علاوہ اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ فضائیہ کے افراد اس کو اڑا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں. ہے نہ مزیدار...
جیسے کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ امریکہ کو ہم دوست مانتے ہیں اور اسی دوستی کا حق ادا کرنے کیلئے انکل سیم اور انکے رشتہ دار دن رات لگاتار ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک پاکستان کی تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اب آپکو تو پتا ہے ایک بنی ہوئی جگہ کی رینوویشن کتنا مشکل کام ہے اور اس کو آسان بنانے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایک طرف سے ڈرون کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مکان گرایا جائے اور دوسری طرف یو ایس ایڈ کے تعاون سے تعمیر کیا جائے. نہ جانے بعض لوگ اس کو ظلمِ عظیم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. مگر ادرک کیا جانے بندر کا مزہ اور یعنی الٹا کوتوال چور کو ڈانٹے اور آ بھینس مجھے مار، سمجھ تو آپ گئے ہونگے.
فرانس کی ملکہ نے تو روٹی کی جگہ کیک کھانے کی ہدایت کی تھی جبکہ ہمارے سیاست دان اس طرح کے مشورہ دینے میں نہایت سخی واقف ہوئے ہیں لہذا ہو دوسرے دن کوئی ٹرین میں آیت الکرسی پڑھ کے بیٹھنے کا مشورہ دیتا ہے تو کوئی ٹماٹر کی جگہ لیموں استعمال کا مشورہ، اس بات کا تخمینہ بھی لگوایا گیا ہے کہ اگر ان کے مشورہ اسی رفتار سے ملتے رہے تو جلد یہ زبیدہ آپا کاریکارڈ توڑ ڈالیں گے. آپکو تو معلوم ہے عوام کتنے رحم دل ہیں لہذا انہوں نے سیاست دانوں کو چپ رہنے کا عندیہ دے دیا ہے تاکہ زبیدہ آپا کا گھر ہنستا بستا رہے اور روزگار چلتا رہے.
اور آخر میں وہی گھِسا پٹا شعر عرض ہے:
شاید کہ تِرے دل میں اتر جائے مری بات
Monday, November 25, 2013
غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟
ہم اس ملک میں ایک وسیع و عریض امریکی ایمبیسی کی تعمیر کی اجازت دیتے ہیں جس میں سات سو افراد کی رہائش کا انتظام ہے. ہمارے اہلکار اس میں پَر بھی نہیں مار سکتے، ہم انہیں پورا موقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے علاقوں میں پھریں گھومتے رہیں، گاؤں دیہات قبائلی علاقہ جات و مضافات میں مٹرگشت کریں ان علاقوں میں جائیں جہاں ہم نہیں جا سکتے ان افراد سے بات کریں جن سے ہم نہیں مل سکتے اور پھر ہم حیران ہیں کہ ان دہشتگردوں کو "بیرونی مدد" کہاں سے مل رہی ہے. شَک ہم انڈیا پر کرتے ہیں جبکہ اس بیرونی مدد کو ہم نے پناہ دارلحکومت میں غیرملکی ایمبیسیوں میں دے رکھی ہے.
ہم نے صلیبی جنگ میں صلیب کا ساتھ دیا، مسلمان ہوتے ہوئے صلیبیوں کو رسد پہنچائی، افغانستان میں ان کے ہاتھ مضبوط کئے، اور اپنے افغان بھائیوں کے قتلِ عام میں امریکی اور نیٹو کی افواج کا ہاتھ بٹایا. اس کے باوجود ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ افغان عوام ہم پر بھروسہ کرینگے. ہم نے یہ نہ سوچا کہ لاکھوں افغانی اس ملک میں مہاجرانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ہمارے امریکیوں کو مدد کرنے پر وہ بھی بگڑ سکتے ہیں، افغانستان میں اگر انکا رشتہ دار مارا جائے تو انتقامی جذبے میں آکر وہ بھی ملوث ہوسکتے ہیں ہم نے اس بات کو سمجھے بغیر جنگ میں چھلانگ ماری اب اندر باہر ہر طرف سے دشمن مار رہا ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون مار رہا ہے اور ہم حیران ہیں کہ ہم پر حملے کیوں ہوتے ہیں اور ماننے کو تیار نہیں کہ یہ غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور ان غلط پالیسیوں کو سدھارنے کے بجاۓ نئی پالیسی بنانے کو مسئلہ کا حل سمجھ رہے ہیں، نتیجہ صفر!
ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی دنیا کی بڑی فوج ہونے کے باوجود بھی، ہم بحیثیتِ قوم کسی سے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرسکتے. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ ایک وقت آئیگا کہ غیرمسلم اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیںگی جیسے بھوکا دسترخوان پر جبکہ اس وقت افرادی طاقت میں بھی سمندری جھاگ کی مانند ہونگے. شاید وہ وقت آچکا ہے.
وجہ کیا ہے؟ ہم نے اسلام کا سبق بھلا دیا ہم نے ملتِ اسلامیہ کے فلسفہ کو پسِ پردہ ڈال دیا، ہر کام بنا سوچے کیا نتیجہ یہ کہ اللہ نے ہم پر بحیثیت قوم ذِلت مقرر کردی. اب حل صرف یہ ہے کہ اپنی شناخت اپنی بنیاد اسلام کی جانب پلٹنا ہوگا. ہمیں اسلام کے مطابق فیصلے کرنے پڑینگے ہمیں اپنے مسائل کا حل اسلام میں تلاش کرنا پڑیگا جب ہی ممکن ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوگا اور ہمیں عروج کی جانب لیجائیگا.
Friday, November 22, 2013
اور اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈرون حملہ
ایک جانب ہم اپنے ہتھیاروں کی نمائش کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ کے جان سوز حملے ہمارے لوگوں کو شہید کر رہے ہیں. اقبال نے تو کہا تھا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی، مسلمان کو ہتھیار کی نہیں ہمت و مردانگی کی ضرورت ہوتی ہے اور افغان غریب عوام نے امریکہ کے دانت کھٹے کر کہ یہ ثابت بھی کر دیا لیکن ہم شاید ان سی.بھی گئے گزرے نکلے. کاش کہ لوگ جانتے کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں.....
Wednesday, November 13, 2013
کڑوا سچ بولنے پر معذرت
(سیّد اویس مختار)
آئی ایس پی آر کہتی ہے جواب دیں، منور حسن جواب دیں کہ انہیں کس نے حق دیا کہ کسی کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ دیں جبکہ یہ حق تو صرف آئی ایس پی آر، میڈیا اور چند سیاسی جماعتوں کہ پاس ہے. یہ حق تو صرف اس جیو چینل کہ پاس ہے جو کچھ دن پہلے ٹِکر چلاتا ہے کہ "گلشن کے علاقے میں فائرنگ ایک فرد ہلاک اور ذوالجناح شہید"، یہ حق تو ان "سچائی کہ علمبرداروں" کہ پاس ہے کہ اپنی مرضی سے شہادت کا لیبل چسپا کریں.
یہ حق تو شاید صرف ان لسانی سیاسی جماعتوں کے پاس ہے جو ہر ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے کارکن کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیتے ہیں. یہ حق تو صرف حکومتی نمائندوں کہ پاس ہے جو اسلامی قانون کو کالا قانون کہتے ہیں اور جب کوئی جذباتی انسان اس توہین کا ان سے بدلہ لیتا ہے تو جواب میں انکو شہادت کا رتبہ مل جاتا ہے.
اس طرح کے بیان سے تو پاک آرمی کے.مقصد "وار آن ٹیرر" کو ٹھیس پہنچے گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ امداد بند کردے. پھر یہ کرنل جنرل کے بڑے بڑے پروٹوکول کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا...
یہ سوال نہ اٹھتا تو نہ جانے کب تک امریکہ کی مسلط کی گئی جنگ کو ہم نہ جانے کب تک اپنی جنگ سمجھ کر لڑتے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس جنگ میں اور نیٹو سپلائی کا راستہ فراہم کرنے پر اور امریکہ کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ہم اپنے افغان مسلمان بھائیوں کے قتل عام میں مدد فراہم کر رہے ہیں. اور اس جنگ میں کام آنے والے سپاہیوں کا مستقبل کیا ہے یہ اب تک ایک سوالیہ نشان ہے کیوں کہ دونوں جانب مرنے والا مسلمان ہے اور کلمہ گو ہے دونوں جانب صدا نعرہ تکبیر کی ہی بلند ہوتی یے. اس معاملہ کو اب کسی نہ کسی کروٹ بٹھانا ہوگا، ہماری فوج اور عوام کو کھل کر امریکی امداد اور پالیسیوں کا بائیکاٹ کرنا پڑیگا.
اور معافی تو بالکل مانگنی چاہئے کہ ہمیں معاف کرو ہم اب تک اس فوج کو اسلام کا سپاہی سمجھتے رہے جبکہ صد افسوس کہ حقیقت میں یہ امریکہ کے سپاہی نکلے.
Tuesday, October 8, 2013
مل کر بنا رہے ہیں اک روشن پاکستان
یو ایس ایڈ امریکی عوام کی طرف سے!
امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان. اس روشن پاکستان کو بنانے کیلئے جو روشنی مستعار لی جارہی ہے وہ ان ڈرون میزائلوں کی روشنی جو امریکیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں پر کئے جاتے ہیں. اس روشنی سے کئی چراغ بجھ بھی جائیں تو کیا ہوا، وہ چراغ جل بھی جاتے تو اتنی روشنی نہ پیدا کر سکتے جتنی روشنی یہ یو ایس ایڈ کرجاتی. یہ توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کام کرینگے. توانائی میں اس لئے کیونکہ ایٹمی توانائی کے باوجود شاید ہم وہ توانائی پیدا نہیں کر پارہے جو یہ یو ایس ایڈ والے چاہتے ہیں. صحت، ہاں اس شعبے میں ضرور کام کریں کیونکہ یہ شعبہ بہت اہم ہے خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ڈرون باری ہوتی ہے تاکہ ان متاثرہ لوگوں کی مدد کی جاسکے جو اپاہج ہوگئے ڈرون کی بدولت اور جب وہ صحتمند ہوجائیں تو مزید ڈرون مارے جا سکیں اور تعلیم کا شعبہ تو رہ گیا یاد تو ہوگا پہلا ڈرون حملہ باجوڑ میں ایک مدرسے پر ہوا تھا اور قریباً اسّی بچے شھید ہوئے تھے، خیر میں بھی کیا ہر بات میں ڈرون درمیان میں لے آتا ہوں..ہاں تو میں کہہ رہا تھا..
امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنا رہے ہیں ایک روشن پاکستان...
(ابن سیّد)
Monday, October 7, 2013
ہماری جنگ؟
اسکا سینہ فخر سے پھلا ہوا تھا آنکھوں میں آنسو مگر دل طمانیت سے لبریز تھے، اور کیوں نہ ہوتے اعزاز ہی ایسا تھا اسکا بیٹا شہید ہوا تھا ،ھمیشہ کی زندگی پاگیا تھا. مگر اسے کیا فکر اِس دن کے لئے تو اس نے پالا تھا ان ہی خطوط پر تو اسکی تربیت کی تھی. وہ بھادر تھا! ہزاروں فٹ بلند پہاڑوں کو پار کرکے کشمیر کی وادیوں میں گم ہوا اس نے دشمن آرمی کے خلاف کاروائیاں کر کے ان کی نیندیں اڑا دیں تھی.
مگر کچھ عرصہ گزرتا ہے ٹی وی پر "میرے عزیز ہم وطنوں" کی آواز گونجتی ہے، اسکے گھر پر ریڈ پڑتی ہے اسکے باپ اور بھائی سے پوچھا جاتا ہے کہ اور کتنے دھشت گردوں کو اس نے تربیت دی ہے، یہ پوچھنے والے اسکے ملک کے ہیں اسکے اپنے، آج تو وہ ڈی ایس پی بھی غائب ھے جو اسکے بیٹے کی شھادت پر مٹھائی لیکے آیا تھا. دشمن ملک میں تو آتنک وادی ہونا انکا فخر تھا مگر اپنے ملک میں اس خطاب کا مِلنا انکے لئے بہت بڑا صدمہ تھا.
وقت گزرتا ہے ٹی وی پر آنے والے نغمے "اے دنیا کے منصفوں.." کی صدا دھیمی ہوتی ہے اور ماضی میں گم ہوجاتی ہے..
آج وہ باپ بھی گُم ھے اور بھائی بھی نہ جانے کدھر ہیں، سنا ہے کچھ دن پہلے اسکی ماں اپنے شوہر اور بیٹوں کی تصاویر لئے گمشدہ افراد کے کیمپ میں بیٹھی دِکھی تھی...
(ابن سیّد)

