Showing posts with label مسلمان. Show all posts
Showing posts with label مسلمان. Show all posts

Tuesday, May 6, 2014

انما المومنون اخوہ

الہی یہ کیسی محبت ہے اور یہ کیسی بے چینی ہے، میں دیکھتا ہوں کہ مصر میں چھے سو تراسی اخوان کو سزائے موت سنائی جاتی ہے اگلے ہی لمحہ پاکستان سے میرے دوستوں کے غم و غصّہ میں بھرے اسٹیٹس دیکھتا ہوں، کچھ لمحوں بعد میں وہی آنسو انڈیا کے ایک مسلمان بھائی کے آنکھوں میں دیکھتا ہوں، اور اگلے ہی لمحے بنگلہ دیش سے میرے دوستوں کے انہی جذبات سے لبریز پیغامات موصول ہوتے ہیں، ترکی میں موجود میرے بھائی بیقرار ہوکر نکل پڑتے ہیں. مشرق سے لے کر مغرب تک، نیل کے ساحل سے لے کے تابہءخاک کاشغر، اس طرح تکلیف جیسے ایک جسم کی مانند ہوں، جسم کے ایک حصّہ پر زخم کے لگنے کی دیر تھی کہ پورا جسم بیقرار ہوچکا ہے. یہ جسم جس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، دل غم و غصّہ سے بے حال ہے، سانسیں بے ربط ہوگئی ہیں، ہاتھ بے بسی سے آپس میں ملتے ہوئے سوچتے ہیں اپنے بھائی کی مدد کیلئے کیا کرجائیں. یہ جسم جس کا ایک حصّہ یورپ میں تو دوسرا عرب میں تیسرا ہند میں تو چہارم مشرق میں. ایک آگ ہے جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھڑک اٹھتی ہے. میں اس محبت کو دیکھتا ہوں، رشک کرتا ہوں سوچتا ہوں کہ دور ایک مسلمان بھائی کے درد میں بیقرار ہونے والے انسان کا اپنے قریبی مسلمان بھائی کا کتنا خیال ہوگا.
مجھے چند آوازیں سنائی دیتی ہیں، کچھ طنز بھرے جملے، تلوار سے تیز الفاظ، جیسے چبھتے ہوئے نشتر ہوں، "پہلے اپنے ملک کی فکر کرلو، پہلے اپنے صوبے کی فکر کرلو، پہلے اپنے شہر محلہ گھر کی فکر کرلو!!" میں اس آواز کی جانب دیکھتا ہوں...سوچتا ہوں کیسے مسلمان ہیں یہ، کیا انہیں اپنے بھائی کا درد نہیں محسوس ہوتا؟ کیا واقعی یہ اس ہی جسم کا حصّہ ہیں؟ میں غور سے دیکھتا ہوں، اس تکرار کو سنتا ہوں، الفاظ بدل کر اور خول میں بند ہوچکے ہیں "اپنی فکر کرو صِرف اپنی فکر کرو" میں مدد کیلئے پکارتا ہوں لیکن جواب آتا ہے، پہلے ہم اپنی فکر کریں گے!
میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے:"مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہ جسم کے ایک حصّہ میں تکلیف ہو تو پورا جسم بیقرار ہوجاتا ہے"
Nu'man b. Bashir reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: The believers are like one person; if his head aches, the whole body aches with fever and sleeplessness.
(Sahi Muslim,H:6260)

ابنِ سیّد

Picture Taken From Here

Thursday, March 6, 2014

پاکستان جیت گیا...

سورہ حجرات آیت گیارہ
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا کے وہ ان سے بہتر ہوں.اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا کے وہ ان سے بہتر ہوں. (القرآن)


آفس سے واپسی پر فِضا میں رنگا رنگ آتش بازی نظر آئی.رنگ برنگ کے دھماکے دیکھ کر سمجھ میں آگیا یقیناً پاکستان جیت گیا ہوگا. راستے میں کئی جگہ نوجوان لڑکوں کے گروپ ٹریفک روک کر سڑک پر ڈانس کرتے اور بھنگڑے ڈالتے نظر آۓ. دل میں خیال آیا پاکستان تو جیت گیا لیکن نظریہ پاکستان ہار گیا.
"اتنا تو چلتا ہے!" اس جملے نے تو جیسے ہر حرام کو حلال کا درجہ دے دیا. کرکٹ میچ کی جیت پر ناچتے، تھرکتے، یونیورسٹی کالج سے میچ کی وجہ سے چھٹّی کرتے،میچ والے دن آفس میں بے دلی سے کام کرتے، اپنے ہر کیے گئے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے یہی جملہ دہرا دینا کافی سمجھ لیتے ہیں ... "اتنا تو چلتا ہے!"
اور دوسری جانب سوشل میڈیا پر اخلاق سے گری ہوئی پوسٹ کرتے ہوئے شاید ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے کہ کیا اس طرح کرنا درست ہے یا غلط. پاکستان انڈیا میچ میں جس بنگلہ دیشی تماشائیوں کو کل خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے. بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان میں آج اُسی قوم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگے. کیا جواز ہے اس قدر تضحیک کے پہلو کا؟ کیا ہم بھول گئے کہ جنہیں ہم حقارت سے "او بنگالیوں ہمارے آفریدی نے کیسا دیا" کہہ رہے ہیں ان ہی بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے شہری بھی ہیں جو بیک وقت دونوں ملکوں کی محبت اپنے دل میں سمیٹے ہوئے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ اُن افراد کے دل میں اس طرح کی باتیں کر کے ہم کس قدر نفرت بو رہے ہیں باوجود اس کے کہ دونوں ممالک مسلمان ممالک ہیں. میرا قلم تو یہ تاب یقیناً نہیں رکھتا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے اس واحیات کمپین کے الفاظ یہاں لکھ سکے، یقیناً آپ مختلف صفحات پر جا کر بیشتر اس طرح کی پوسٹ گزشتہ دنوں سے دیکھ سکتے ہیں جن میں بنگلہ دیشی حضرات کے بارے میں نازیبا الفاظ، تضحیک اور اپنے بارے میں بے انتہا تکبّر جھلک رہا ہے.
بعض افراد کی طرف سے یہ بات بھی آئی کہ شاید آپ نے بنگلہ دیشی عوام کے تاثرات نہیں دیکھے کس قدر نفرت آمیز تھے. تو میرے دوستوں کسی کی زیادتی کی وجہ سے آپکو زیادتی کرنا جائز نہیں ہوجاتی.
بہرحال میرا آج کا پیغام یہی ہے کہ برائی کو برائی سمجھا جائے، اکثریت کے برائی میں ملوث ہونے سے برائی برائی ہی رہتی ہے، کسی کی تضحیک کرتے اور ہنسی اڑاتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ اگر اللہ ہماری ہنسی اڑا دے تو پھر ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا اور اگر اس کا غضب بھڑکا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ہماری فتوحات کو پلٹ دے. لہذا تکبّر کے بجاۓ اللہ کی خدمت میں شکرانے بجا لائے جائیں.
اللہ ہمارا حامی و ناصر رہے. جزاک اللہ
ابنِ سیّد

Friday, February 21, 2014

داڑھی

وقت کے ساتھ ساتھ دین پر عمل کرنے والوں کیساتھ آزمائشوں میں بھی تبدیلیاں آئیں. کس نے سوچا ہوگا کہ ایک مسلمان ہی نیک کام کرنے پر دوسرے مسلمان کے طعنے اور تضحیک کا نشانہ بنے گا.
داڑھی سنّت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، علماء اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں بعض اس کو واجبات میں شامل رکھتے ہیں، بعض کے نزدیک ایک مٹھی سے کم رکھنا گناہ جبکہ بعض کے مطابق مقدار کا تعین نہیں. لیکن عمومی طور پر سب اس کی فرضیت کے حوالے سے متفق ہیں.
اللہ کے رسول نے ایک غیر مسلم وفد کی جانب سے اس لئے منہ پھیر لیا تھا کیوں کہ انکی داڑھیاں مونڈھی ہوئی تھیں.
موجودہ دور میں داڑھی پر تنقید، آئیں صرف مسلمانوں کی بات کریں ہم سب ایک مسلم معاشرے میں رہتے ہیں، اس معاشرے میں داڑھی کوئی عجوبہ نہیں جبکہ اس کے باوجود داڑھی رکھنے والوں کیساتھ تضحیک کا سلسلہ جاری ہے. مُلّا، مولوی، مولانا، طالبان جیسے نام رکھنا. کبھی انہیں بکرے کا لقب دینا تو کبھی ملا نصیر الدین کے نام سے پکارنا. میں ایسے چند افراد کو جانتا ہوں جنہوں نے نوکری کے حصول کی خاطر داڑھیاں منڈوا لیں. یہ سب اسلامی جمہوریہ پاکستان میں! کیا ایسا بھی کوئی مسلمان ہوسکتا ہے جو دینی فریضے کی ادائیگی کرنے پر اپنے مسلمان بھائی کو نوکری پر نہ رکھے،اگر یہ سچ ہے تو تُف ہے ایسے افراد کی ذہنیت پر!
میرے ایک دوست نے ایک جگہ شادی کا پیغام بھیجا جو مسترد ہوگیا. بعد ازاں معلوم ہوا کہ 'ناں' لڑکی کی جانب سے ہوئی ہے کیوں کہ لڑکا باریش جو تھا!
شاید اوپر بتائے واقعات میں کچھ اونچ نیچ ہوگئی ہو مگر یہ ایک معاشرے کا رویہ جس پر مجھے سخت اعتراض ہوا اور میں نے اپنا فرض سمجھا کے سب کو اس سے آگاہ کروں، شاید بعض کے نزدیک اس کی اہمیت نہ ہو مگر جن کے نزدیک اس کی اہمیت ہے اسکا احترام سب پر فرض ہے.
آخر میں ایک لطیفہ عرض ہے، ایک باریش شخص سائیکل پر جارہا تھا کہ ایک خاتون سامنے آگئیں اور ٹکر ہوگئی. خاتون نے کہا اتنی بڑی داڑھی رکھی ہوئی ہے اور ٹکر مار دی. جواب ملا "محترمہ یہ داڑھی ہے! بریکیں نہیں!"
بات تو سچ ہے!

ابنِ سیّد

Thursday, February 6, 2014

لبرلز انتہاپسندی

لبرلزم کا لغوی مطلب تو روشنخیالی یا آزادخیالی ہے لیکن ہر دوسری چیز کی طرح جب یہ چیز پاکستان امپورٹ ہوکر آئی تو اس کا بھی وہی حشر ہوا جو میٹروبس کے ساتھ ہوا. دیکھا جائے تو روشنخیالی کا عمومی مطلب ہے "جیو اور جینے دو" یعنی اپنے نظریات پر چلو اور دوسروں کے کام میں دخل نہ دو لیکن اصل میں ہوا کیا، پاکستان میں اور تقریباً تمام مسلمان ممالک میں لبرلزم کے حامی بزورِ قوت اپنا ایجنڈا نافظ کرانے کے چکر میں رہے اور اس میں عوامی حمایت کا خیال رکھنا تو درکنار آمروں کا ساتھ دینے میں بھی نہ چوکے! اپنے اچھوتے کردار اور منہ پھٹ رویّہ کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں یہ مناسب کوریج پالیتے ہیں. ان کی انہیں کوششوں کی وجہ سے روشنخیالی کو اب خام خیالی کہا جائے تو بہتر رہیگا. آئیں ان کے چند خدّوخال کا جائزہ لیتے ہیں ...
عسکریت پسندی ہمارے ملک کا دیرینہ مسئلہ ہے اگر کسی لبرل سے پوچھا جائے تو وہ سارے تانے بانے افغان جہاد اور ضیاالحق سے جوڑے گا لیکن کیا کسی کو معلوم ہے کہ الذوالفقار نامی عسکری تنظیم کی بنیاد رکھنے والے ہمارے نہایت ہی لبرل اور پروگریسیو جناب بھٹو صاحب تھے،تو صاحبو! ایک نان اسٹیٹ ملٹری ونگ اور اسکی نمود ونما کا شاخسانہ لبرلز سے جا کر ملتا ہے. اور یہ وہی تنظیم ہے جِسکے کامریڈ جناب ٹیپو نے پی آئی اے کے طیارے کی ہائی جیکنگ کا کارنامہ سرانجام دیا تھا. اب ان سے پوچھا جائے تو کہیں گے کہ وہ تنظیم تو ایک آمر کے خلاف بنی تھی لیکن کوئی یہ پوچھے کے کیا ایک فرد کی قانون شکنی کے جواب میں دوسرے کو بھی قانون کی دھجّیاں اڑانا جائز ہوجاتا ہے، شاید اس نام نہاد لبرلزم کے اصول و ضوابط میں وضع ہو!
کیپیٹل پنشمنٹ جس میں ریاست خود ایک فریق بن جاتی ہے. ساری دنیا میں یہ ایک متنازعہ موضوع ہے لہذا اس حوالے سے یہ ہی رائے بہتر ہے کہ کوئی تیسری قوت (تھرڈ پارٹی) ان مقدمات کا فیصلہ کرے جیسے یو این او وغیرہ لیکن بنگلہ دیش کے کیس میں ہم نے دیکھا کہ جب پاکستان میں پارلیمنٹ میں عبدالقادر مولاہ کی سزا کیخلاف قرارداد منظور ہوئی تو اس کی سب سے زیادہ مخالفت لبرلز کی جانب سے آئی جبکہ ساری دنیا میں لبرلز کیپیٹل پنشمنٹ کیخلاف ہیں. دوسری جانب سزائے موت کے قانون کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں لبرلز سزائے موت کے قانون کیخلاف تحاریک چلاتے رہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک کھلا تضاد یہ دِکھنے میں آیا کہ پچھلے دس سالوں میں کسی کو سزائے موت نہیں ملی جس میں بعض جہادی تنظیم کے سرکردہ افراد ہیں اور ایک ان میں ممتاز قادری بھی ہیں ان کے معاملے میں لبرلز کی جانب سے کافی پریشر ڈالا جاتا ہے کہ سزائے موت دی جائے. یعنی سزائے موت والے موقف سے اس صورت میں منہ پھیر لیتے ہیں جب مجرم کسی دائیں بازو کا ہو!
یہی دوہرا رویہ ملٹری آپریشن کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے، جب کوئی اسلام کا نام لے کر قانون کو ہاتھ میں لے تو اس پر ان کا موقف ہوتا ہے کہ ایسے افراد کو جینے کا حق نہیں نہ ہی صفائی پیش کرنے کا حق ہے لہذا آپریشن کردیا جاۓ چاہے اس میں بیگناہ مارے جائیں. لیکن جب یہی قانون کو ہاتھ میں لینے والی حرکت کرنے والا کوئی گروہ اگر قوم پرست، کمیونسٹ یا اشتراکیت کا علم بردار ہو تو یہی لبرلز ملٹری آپریشن کی مخالفت اور مذاکرات کی راہ ہموار کرتے دکھائی دیتے ہیں.
الغرض، چاہے وہ قائداعظم کے اسلامی پاکستان کس تصور ہو، یا نصاب میں اسلامی اسباق کی شمولیت یا پھر حدود آرڈیننس کا معاملہ ہو، ان کی کوششیں ہمیشہ الٹی گنگا بہانے میں صرف ہوتی ہیں.
ایک دفعہ ایک دوست نے دیسی لبرلز کی تعریف ان الفاظ میں واضح کی تھی کہ گھر میں جس بچے پر والدین کم توجہ دیتے ہیں وہ اونگ پٹانگ حرکات کرکے والدین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے. پاکستانی معاشرے میں بھی دیسی لبرلز کا معاملہ اس بچے جیسا ہے!
ابنِ سیّد
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments