Showing posts with label Cricket Match. Show all posts
Showing posts with label Cricket Match. Show all posts

Wednesday, March 12, 2014

لبرلز کو آفریدی کی ذاتی رائے کیوں نہ ہضم ہوئی

لبرل فسادی بہت ہی دو نمبر مخلوق ہیں (انکی زبان میں آکورڈ بھی کہتے ہیں) ، آفریدی جیسی غیر متنازعہ شخصیت کو بھی متنازعہ بنا دیا.
آفریدی سے ایک انٹرویو میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا آپکو اچھا لگے گا کہ پاکستانی خواتین اسپورٹس میں آگے آئیں. جس کے جواب میں آفریدی نے جواب کو ٹالتے ہوئے موضوع بدلا اور کہا کہ ہماری خواتین کے ہاتھ میں ذائقہ بہت ہے اور کھانے بہت اچھے بناتی ہیں.
اس بات پپر لبرل فسادیوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور اب تک ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون میں کئی بلاگ اور خبریں اس موضوع پر شائع ہوچکی ہیں اور بلاوجہ اس ڈیبیٹ میں اس کو گھسیٹا جارہا ہے جس بحث کو اس نے خوبصورتی سے ٹال دیا تھا.
دیکھا جائے تو ایک جانب ہمارے ملک کے نام نہاد لبرل ایک طرف مذہب کو ایک شخص کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں اور دوسری جانب ایک شخص کو اس کے نظریہ کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں. یہ کہہ رہے ہیں کہ آفریدی چاہتا ہے کہ عورتوں کو گھر میں قید کردیا جائے لیکن انہیں یہ نظر نہیں آرہا کہ وہی بندہ اس عورت کے کھانوں کی تعریف کر رہا ہے اسے عزت دے رہا ہے. شاید ان لبرلز کے نزدیک عورتوں کی بل بورڈز پر تذلیل عزت افضائی ہے، جو چاہے ان کا کرشمہ ساز کرے.
یہ دیسی اور نام نہاد لبرلز ہیں، یہ باتوں سے نہ مانیں گے!

ابنِ سیّد

Thursday, March 6, 2014

پاکستان جیت گیا...

سورہ حجرات آیت گیارہ
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا کے وہ ان سے بہتر ہوں.اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا کے وہ ان سے بہتر ہوں. (القرآن)


آفس سے واپسی پر فِضا میں رنگا رنگ آتش بازی نظر آئی.رنگ برنگ کے دھماکے دیکھ کر سمجھ میں آگیا یقیناً پاکستان جیت گیا ہوگا. راستے میں کئی جگہ نوجوان لڑکوں کے گروپ ٹریفک روک کر سڑک پر ڈانس کرتے اور بھنگڑے ڈالتے نظر آۓ. دل میں خیال آیا پاکستان تو جیت گیا لیکن نظریہ پاکستان ہار گیا.
"اتنا تو چلتا ہے!" اس جملے نے تو جیسے ہر حرام کو حلال کا درجہ دے دیا. کرکٹ میچ کی جیت پر ناچتے، تھرکتے، یونیورسٹی کالج سے میچ کی وجہ سے چھٹّی کرتے،میچ والے دن آفس میں بے دلی سے کام کرتے، اپنے ہر کیے گئے جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے یہی جملہ دہرا دینا کافی سمجھ لیتے ہیں ... "اتنا تو چلتا ہے!"
اور دوسری جانب سوشل میڈیا پر اخلاق سے گری ہوئی پوسٹ کرتے ہوئے شاید ایک بار بھی یہ نہیں سوچتے کہ کیا اس طرح کرنا درست ہے یا غلط. پاکستان انڈیا میچ میں جس بنگلہ دیشی تماشائیوں کو کل خراجِ تحسین پیش کر رہے تھے. بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان میں آج اُسی قوم کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے لگے. کیا جواز ہے اس قدر تضحیک کے پہلو کا؟ کیا ہم بھول گئے کہ جنہیں ہم حقارت سے "او بنگالیوں ہمارے آفریدی نے کیسا دیا" کہہ رہے ہیں ان ہی بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کے شہری بھی ہیں جو بیک وقت دونوں ملکوں کی محبت اپنے دل میں سمیٹے ہوئے ہیں لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ اُن افراد کے دل میں اس طرح کی باتیں کر کے ہم کس قدر نفرت بو رہے ہیں باوجود اس کے کہ دونوں ممالک مسلمان ممالک ہیں. میرا قلم تو یہ تاب یقیناً نہیں رکھتا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے اس واحیات کمپین کے الفاظ یہاں لکھ سکے، یقیناً آپ مختلف صفحات پر جا کر بیشتر اس طرح کی پوسٹ گزشتہ دنوں سے دیکھ سکتے ہیں جن میں بنگلہ دیشی حضرات کے بارے میں نازیبا الفاظ، تضحیک اور اپنے بارے میں بے انتہا تکبّر جھلک رہا ہے.
بعض افراد کی طرف سے یہ بات بھی آئی کہ شاید آپ نے بنگلہ دیشی عوام کے تاثرات نہیں دیکھے کس قدر نفرت آمیز تھے. تو میرے دوستوں کسی کی زیادتی کی وجہ سے آپکو زیادتی کرنا جائز نہیں ہوجاتی.
بہرحال میرا آج کا پیغام یہی ہے کہ برائی کو برائی سمجھا جائے، اکثریت کے برائی میں ملوث ہونے سے برائی برائی ہی رہتی ہے، کسی کی تضحیک کرتے اور ہنسی اڑاتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ اگر اللہ ہماری ہنسی اڑا دے تو پھر ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا اور اگر اس کا غضب بھڑکا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ہماری فتوحات کو پلٹ دے. لہذا تکبّر کے بجاۓ اللہ کی خدمت میں شکرانے بجا لائے جائیں.
اللہ ہمارا حامی و ناصر رہے. جزاک اللہ
ابنِ سیّد

Sunday, March 2, 2014

جیت کا جشن...؟

اندھیرا ہے، عشاء کی نماز ہو رہی ہے، امام مسجد کی تلاوت کی آواز ابھرتی ہے، اور اس تلاوت کے دوران گونجنے والی فائرنگ کی آواز، کبھی بھاری اسلحہ اور کبھی ہلکہ اسلحہ، اطراف سے شور کی آواز، خوشی اور حیرت کا ملا جلا سا شور، جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جائے، امام مسجد سجدہ ریز ہے اور یہ منظر جاری ہے.
یہ پڑھنے کے بعد شاید کچھ لوگ سمجھیں یہ کسی جہاد کے میدان کی منظر کشی ہے لیکن نہیں، یہ منظرکشی اس وقت کی ہے جب پاکستان کرکٹ کی بازی میں اپنے روایتی حریف بھارت کو شکست دے دیتا ہے.
شاید نہیں بلکہ یقیناً بہت سے قارئین آگے کے الفاظ پڑھ کر منہ بنائیں گے اور کہیں گے کہ اِن نقادوں کو بھی چین نہیں قوم کو دو پل خوشی کے میسر آجائیں تو انہیں اچھا نہیں لگتا. لیکن ایسا نہیں کہ میں خوش نہیں ہوں، ہاں میں بھی خوش ہوں کہ میرا ملک جیت گیا، میں خوش ہوں کہ پاکستان نے ایک روایتی حریف کو شکست دی اور ہر بار کی طرح ایک اور جیت اپنے نام کر لی. لیکن میں کیا کروں میں ایک غریب قوم کا غریب شخص ہوں، اور بحیثیت انسان محروموں کے مزار پر دھماچوکڑی مچانا میرے نزدیک صحیح نہیں.
چاروں طرف جیت کا جشن جاری ہے، ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کی آواز گونج رہی ہے. میں مسجد سے باہر نکلتا ہوں مگر ایک آواز میرے قدم جکڑے دیتی ہے یہ ایک باپ کی فریاد ہے ایک خوش لباس شخص ہے جو کچھ دیر قبل میرے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا مگر اب فریاد کر رہا ہے کہ کوئی مدد کرے کہ اس کے بچے کھانا کھا سکیں. یہ کہتا ہے کہ کوئی تو اللہ کا بندہ ہو جو میری غربت کا خیال کرے میرے گھر کی حالت دیکھ لے.
میں مسجد سے نکل جاتا ہوں چند قدم چلتا ہوں کہ راستہ میں ایک پکار پھر میرا راستہ روکے دیتی ہے یہ ایک بزرگ ہیں باریش اور سفید لباس میں ملبوس، ہاتھ میں لاٹھی تھامے میرا راستہ روک کر راشن دلانے کا سوال کرتے ہیں. میں وقت کی کمی کا بہانہ کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں میں انتظار کر لوں گا!
میں آگے بڑھ جاتا ہوں، دل میں احساس زور پکڑتا ہے کہ دو سوال رَد کر چکا ہوں، کیا جواب دوں گا اللہ کو. فائرنگ کی آوازیں مسلسل آرہی ہیں چند کلو میٹر دور سے آتش بازی دکھائی دے رہی ہے. کئی ہزار روپے فضا میں رنگوں کی صورت بلند ہوتے ہیں دھماکے کی آواز کے ساتھ اطراف کے ماحول کو رنگ میں نچھاور کرجاتے ہیں. گلیوں میں نوجوان خوش ہیں، چورنگی پر آتش بازی اور بھنگڑے ڈَل رہے ہیں. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جیت کا جشن زور پکڑ رہا ہے.
میں گھر کا سودا سلف لیتا ہوں، گھر کی جانب چل پڑتا ہوں. بزرگ کی آواز پھر میرا راستہ روکتی ہے. میں نظرانداز کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں. کِن انکھیوں سے دیکھتا، اُن سے بچتا بچاتا گھر کی راہ لیتا ہوں جہاں ٹی وی پر ہوائی فائرنگ اور اس کے زخمیوں کی خبر چل رہی ہے. جیت کی خبر چل رہی ہے. نوجوانوں کے بھنگڑوں کی خبریں چل رہی ہیں. ہاں میں بھی خوش ہوں، میرا وطن ایک بار پھر جیت گیا، خوشیاں مناؤ! جیت کا جشن بڑھتا جاتا ہے، بزرگ کی آواز، فائرنگ کی آوازیں، بھنگڑوں کی آوازیں، ڈھولک کی تھاپ، سب گُڈمڈ ہوتے جاتے ہیں.

ابنِ سیّد
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments