Showing posts with label india. Show all posts
Showing posts with label india. Show all posts

Monday, March 17, 2014

وادی کا بیٹا‏


وہ ان وادیوں کا بیٹا تھا، لمبے درختوں جیسا اونچا، پہاڑوں جیسا مضبوط سراپا اور حوصلہ. لیکن ہمیشہ سے وہ ایسا نہیں تھا وہ تو ایک کمزور اور کم عمر سا لڑکا تھا جو کچھ نہ بتائے بھی اپنی غلامی محسوس کرچکا تھا، وہ اس طرح فوجیوں کا گھر گھر تلاشی لینا، لوگوں سے نفرت آمیز انداز میں بات کرنا، وہ بتائے بن بتائے کی روک ٹوک اور تلاشیاں، کسی کے نہ بتائے بھی وہ سمجھ گیا کہ یہی غلامی ہے.
 وہ اور اس کے ساتھی اِس غلامی کیخلاف سراپا احتجاج تھے، اپنی تحریک کی خاطر لوگوں سے رابطے رکھنا، جلسے جلوس کانفرنس کروانا، کبھی ہڑتال، اور کبھی کبھار تصادم بھی ہوجاتا. لیکن وہ اس تحریک کو لیکر بڑھتے رہے، پھر وہ وقت بھی آیا جب اس کے انہی دوستوں میں سے کچھ غائب ہوئے اور پھر ان کی لاشیں ملیں، کتنا رویا تھا وہ، نہ جانے کب وہ بھی استعمار سے دو دو ہاتھ کرنے نکل پڑا پہلے پہل پتھر اور غلیل اور بالآخر آتشی ہتھیار، کب تک ظلم سہتا؟ کب تک جبر پر روتا.
 کشمیر بنے گا پاکستان، اس کی ڈائری کے ہر صفحہ کی شروعات انہی الفاظ سے ہوتی. اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اس کے مجاہدانہ کردار کی بدولت ان پر ہونے والی بدسلوکیاں کم ہوگئیں. وہ وادی کا سب سے جری کمانڈر بن کے سامنے آیا، اس نے قابض فوج کو پیچھے ہٹنے اور دھول چاٹنے پر مجبور کردیا. اس کے قصّے اخبارات اور میڈیا میں آنے لگے. وہ دونوں اطراف کے عوام کا ہیرو بن چکا تھا.
 سرحد کے اس پار پاکستان کی پاک فضاؤں سے اسے عشق تھا، جب بھی آتا تو شکرانے کے نفل ضرور پڑھتا. وہ اس وقت کے بارے میں سوچتا جب وادی بھی انہی پاک فضاؤں کا حصہ بنے گی. اس ہی مقصد کی خاطر تو اس کی جانباز جدوجہد جاری تھی.
 مگر پھر کچھ یوں ہوا کہ اسکے لئے زمین تنگ سےتنگ ہوتی گئی، دم گھٹنے لگا اس کا ان فضاؤں میں جہاں وہ آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا، حالات کچھ اس نہج پر آگئے کہ مجبوراً اسے سرحد پار آنا پڑا مگر یہاں آکر اندازہ ہوا کہ یہ فضائیں بھی اجنبی سی لگ رہی ہیں، نہ جانے کیوں وہ اپنوں میں بھی اجنبی بن کے رہ گیا تھا. جو دروازے اس کیلئے کھلے رہتے تھے وہ آج بند ہوچکے تھے، جو لب اس کی تعریف کرتے نہیں تھکتے تھے آج خاموش تھے.
 وقت بدل چکا تھا، ان پاک فضاؤں کیلئے اس کا وجود ناپاک ٹھہرا، وہ یہاں بھی اجنبی بن چکا تھا. گھر گھر تلاشیاں، وہی روک ٹوک، راستے میں تلاشیاں اور ہتک آمیز رویہ. اس کے ہر نام اور کام کےساتھ لفظ کالعدم لگ چکا تھا. وہ اس کے اپنے تھے، شاید، وہ ان کی بے رخی بے وفائی کی تاب نہ لا سکا، وہ ٹوٹ چکا تھا. پھر وہی ہوا جو سرحد پار ہوا کرتا تھا قید و بند کی صعوبتیں اس کے حصے میں آئیں، اس کے "جرائم" کی فہرست بھی تو بہت لمبی تھی.
 بالآخر وہ دن بھی آیا جب اپنوں کی بندوقوں کا رخ اُس کی جانب ہوگیا، یہی جرم ٹھہرا اسکا کہ وہ اپنے لوگوں کو آزادی دلانا چاہتا تھا، مگر اس کے مقاصد "امن کی آشاء" سے متصادم ہوتے تھے. اتنا بڑا جرم! عسکریت پسندی، شدت پسندی، دہشتگردی، کراس بارڈر ٹیررسم، یہ تمام القاب اس کیلئے استعمال ہوئے مگر وہ تو ایک مجاہد تھا، وادی کا بیٹا، استعمار کیلئے خوف کی علامت. آج بھی اس کی ڈائری کے ہر صفحہ کی پہلی سطر پر یہی لکھا ہوتا تھا، "کشمیر بنے گا پاکستان". اپنے بھائیوں کی جانب سے بیوفائی نے اس کو ٹھیس پہنچائی لیکن اس نے صبر کیا. وادی کے لوگوں کیلئے وہ آج بھی ہیرو ہے. یہ اس کے وجود کا پہلا حصہ تھا جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہوگیا اور گوشہ نشینی میں چلا گیا.
 مگر اس کے وجود کا ایک اور حصہ بھی ہوا جو کہ وادی کے لوگوں کی پکار پر لبیک کہتا ہوا اپنی ساری جدوجہد وادی کیلئے صرف کرنے لگا.
 لیکن تیسرا حصہ وہ تھا کہ جب اپنوں کی بندوقوں کا رخ اس کی جانب ہوا تو نہ چاہتے ہوئے بھی جواباً اس نے بھی اپنے ہتھیاروں کا رخ انکی طرف کردیا.
 یہ وادی کا بیٹا کون تھا، اور اس کے وجود کے تین حصے کون تھے. یہ اگر ایک فرد کی کہانی ہوتی تو شاید کہانی مکمل بیان ہوپاتی لیکن کیوں کہ یہ وادی کا بیٹا وادی کے بلکہ سرحد پار بھی کئی لاتعداد کرداروں میں سے ایک ہے لہذا اس کہانی کو ان ہی کرداروں کی بنیاد پر پرکھا جائے تو ٹھیک رہے گا. یہ کردار اب بھی موجود ہیں، یہ کہانیاں اب بھی جا بجا بکھری پڑی ہیں جرأت، بہادری، جذبہ، محبت، بیوفائی، فخر کا ملا جلا سا رویہ ان تمام کہانیوں میں ملے گا. ضرورت ہے تو اس بات کی کہ کوئی ان کہانیوں کو پڑھے ان کی روداد کو سمجھے، ان کی زندگیوں میں جھانکے، ان کرداروں کے جذبات کو محسوس کرے اور پھر اپنی رائے قائم کرے کہ کون مجاہد ہے کون عسکریت پسند، کون ہیرو بنا اور کون معتوب ٹھہرا. یہ کہانیاں اب بھی زندہ ہیں کوئی تو پڑھے... 

ابنِ سیّد

Sunday, March 2, 2014

جیت کا جشن...؟

اندھیرا ہے، عشاء کی نماز ہو رہی ہے، امام مسجد کی تلاوت کی آواز ابھرتی ہے، اور اس تلاوت کے دوران گونجنے والی فائرنگ کی آواز، کبھی بھاری اسلحہ اور کبھی ہلکہ اسلحہ، اطراف سے شور کی آواز، خوشی اور حیرت کا ملا جلا سا شور، جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جائے، امام مسجد سجدہ ریز ہے اور یہ منظر جاری ہے.
یہ پڑھنے کے بعد شاید کچھ لوگ سمجھیں یہ کسی جہاد کے میدان کی منظر کشی ہے لیکن نہیں، یہ منظرکشی اس وقت کی ہے جب پاکستان کرکٹ کی بازی میں اپنے روایتی حریف بھارت کو شکست دے دیتا ہے.
شاید نہیں بلکہ یقیناً بہت سے قارئین آگے کے الفاظ پڑھ کر منہ بنائیں گے اور کہیں گے کہ اِن نقادوں کو بھی چین نہیں قوم کو دو پل خوشی کے میسر آجائیں تو انہیں اچھا نہیں لگتا. لیکن ایسا نہیں کہ میں خوش نہیں ہوں، ہاں میں بھی خوش ہوں کہ میرا ملک جیت گیا، میں خوش ہوں کہ پاکستان نے ایک روایتی حریف کو شکست دی اور ہر بار کی طرح ایک اور جیت اپنے نام کر لی. لیکن میں کیا کروں میں ایک غریب قوم کا غریب شخص ہوں، اور بحیثیت انسان محروموں کے مزار پر دھماچوکڑی مچانا میرے نزدیک صحیح نہیں.
چاروں طرف جیت کا جشن جاری ہے، ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کی آواز گونج رہی ہے. میں مسجد سے باہر نکلتا ہوں مگر ایک آواز میرے قدم جکڑے دیتی ہے یہ ایک باپ کی فریاد ہے ایک خوش لباس شخص ہے جو کچھ دیر قبل میرے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا مگر اب فریاد کر رہا ہے کہ کوئی مدد کرے کہ اس کے بچے کھانا کھا سکیں. یہ کہتا ہے کہ کوئی تو اللہ کا بندہ ہو جو میری غربت کا خیال کرے میرے گھر کی حالت دیکھ لے.
میں مسجد سے نکل جاتا ہوں چند قدم چلتا ہوں کہ راستہ میں ایک پکار پھر میرا راستہ روکے دیتی ہے یہ ایک بزرگ ہیں باریش اور سفید لباس میں ملبوس، ہاتھ میں لاٹھی تھامے میرا راستہ روک کر راشن دلانے کا سوال کرتے ہیں. میں وقت کی کمی کا بہانہ کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں میں انتظار کر لوں گا!
میں آگے بڑھ جاتا ہوں، دل میں احساس زور پکڑتا ہے کہ دو سوال رَد کر چکا ہوں، کیا جواب دوں گا اللہ کو. فائرنگ کی آوازیں مسلسل آرہی ہیں چند کلو میٹر دور سے آتش بازی دکھائی دے رہی ہے. کئی ہزار روپے فضا میں رنگوں کی صورت بلند ہوتے ہیں دھماکے کی آواز کے ساتھ اطراف کے ماحول کو رنگ میں نچھاور کرجاتے ہیں. گلیوں میں نوجوان خوش ہیں، چورنگی پر آتش بازی اور بھنگڑے ڈَل رہے ہیں. ہر گزرتے لمحے کے ساتھ جیت کا جشن زور پکڑ رہا ہے.
میں گھر کا سودا سلف لیتا ہوں، گھر کی جانب چل پڑتا ہوں. بزرگ کی آواز پھر میرا راستہ روکتی ہے. میں نظرانداز کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوں. کِن انکھیوں سے دیکھتا، اُن سے بچتا بچاتا گھر کی راہ لیتا ہوں جہاں ٹی وی پر ہوائی فائرنگ اور اس کے زخمیوں کی خبر چل رہی ہے. جیت کی خبر چل رہی ہے. نوجوانوں کے بھنگڑوں کی خبریں چل رہی ہیں. ہاں میں بھی خوش ہوں، میرا وطن ایک بار پھر جیت گیا، خوشیاں مناؤ! جیت کا جشن بڑھتا جاتا ہے، بزرگ کی آواز، فائرنگ کی آوازیں، بھنگڑوں کی آوازیں، ڈھولک کی تھاپ، سب گُڈمڈ ہوتے جاتے ہیں.

ابنِ سیّد

Wednesday, April 11, 2012

Top Ten Viewers



Well, as you can see in the stats that viewers from many areas of world are visiting this blog. The top viewers are of course from Pakistan, as I also belong to Pakistan, mostly posts are on the topic of Pakistan and issues related to Pakistan which I think to be highlighted. I am surprise to see USA and UK on second and third number on the rating, well, people form USA and UK are interested in a blog about the issues in Pakistan. However this is not a very surprising situation if you see the International Affairs :) The strategic location of our country is some sort of this. Fourth is India, I was expecting it to be on second number, because of my articles written on Hafiz Saeed. Saudi Arabia is on fifth. Thanks for the people of Australia, Germany, Russia, UAE and Canada for visiting this blog. I have received many comments and suggestion through email also, your advise is valuable to me. If you guys want to write in this blog. You are most welcome, and your writings will be published with your name in this blog.

Saturday, March 24, 2012

Kashmir, A question Unanswered


20th March 2010, Faizan Ansari, a young boy from Karachi, ex member of an Islamic organisation of students, Islami Jamiat Talba, got martyred by the Indian Army while crossing the line of control. Well, in this era when most of the youth are busy in the demolition of the religious structure of Pakistan, it is surprising that there are some youngsters who still think for the benefit of the country.
Kashmir Movement is still under the siege of the Indian Army, everyday someone boy, girl, women or even children got martyred on the streets of Indian occupied Kashmir in several operations conducted by the Indian forces. Well, the terrorism was initiated by India the moment when they refused to accept the United Nations Resolution passed for the Right of Decision for the people of the Kashmir to align either with India or Pakistan. But despite carrying the elections, Indian government entered army in Kashmir.
Pakistan can not enter its army as a counter because Pakistan can not deny the United Nations Resolution, but at the same time Pakistan was unable to stop the passionate youth of Pakistan, who crosses borders everyday and fight at the other side.
Along-with many organisations working and fighting with Indian army in the Kashmir, Hizb ul Mujahideen and Jaish e Muhammad are the most prominent organisations. Faizan belonged to Hizb ul Mujahideen. His body was shown along with some other militants in the Indian media as a news of victory and good news. But at the same time Faizan's belongings and his organisation members greeting each other with the slogan of, "Shahadat Mubarak" (Congratulations on the Martyrdom), this was a big slap on the opponents faces. Well, I strongly beleive that seeing this reaction from the Mujahideen side India might be shocked, but the fact is that every person who crosses border from Pakistan to India knows that he will become a Ghazi or a Shaheed.
This belief is a biggest hurdle in the eyes of Indian Nation, Army and Government, at last, "They can kill a person, but they can't kill a vision!."
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments