Tuesday, December 10, 2013

غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟ on Saach.tv

This blog can also be seen here http://www.saach.tv/2013/11/30/ghaltiyan-latadad-lakin-hal-keya-hai/

Image from here: http://www.saach.tv/wp-content/uploads/2013/11/blog173-580x1361.jpg


یو ٹرن

یو ٹرن لینا خطرناک ہو سکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب رفتار ہلکی نہ کی جائے، اس کے نتیجہ میں سواری میں سوار افراد کو نا صرف جھٹکا لگتا ہے بلکہ بعض اوقات گاڑی الٹ بھی سکتی ہے اور جانوں کا زیاں ہو سکتا ہے.
یہی کچھ ہم نے کیا، ہم نہایت تیز رفتار سے ایک جانب چلے جارہے تھے کہ یکایک یو ٹرن لے لیا گیا اور تو اور اسکے نتیجہ میں پیش آنے والے جھٹکے کو سمبھالا دینے کیلئے نہ رفتار ہلکی کی بلکہ اور تیز کردی. جس کی وجہ سے گاڑی میں بیٹھے افراد کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا. ہم اسلام پسندی کی گاڑی میں سوار تھے یہ رفتار گو کہ کچھ زیادہ نہیں لیکن مناسب ضرور تھی، ہم افغانستان میں کشمیر میں جہاد میں مصروف تھے، ہم کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے کہ یکایک امریکہ کی ایک کال پر یوٹرن لے لیا گیا. تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی. اسلام کا نام لینا اور اسلام پسند ہونا ایک جرم بنا دیا گیا. یہی نہیں اس یوٹرن لینے کے باوجود گاڑی الٹی سمت چلائی جانے لگی وہ ایسے کہ میڈیا کا منہ کھول دیا گیا اور فحاشی کا سیلاب اُمڈ آیا. اسلامی شعائر کا کھلے عام مذاق بنایا گیا، حدود اللہ کو پامال کیا گیا، حدود آرڈیننس ختم ہوا اور بے راہ روی عام ہوئی.
اور پھر اس یوٹرن کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ہر اکائی میں کئی گروہ بن گئے ہماری حکومت امریکہ کی وفادار بنی ہماری فوج دو حصوں میں بٹی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں گروہ بنے اور لوگوں نے امریکہ کے ساتھ جنگ کو چُنا اور.ہماری فوج نے انکو روکا اس طرح ہماری فوج اور ان افراد میں لڑائی ٹھن گئی. پورا ملک جنگ کی لپیٹ میں آگیا، ایک کہ بعد ایک آپریشن ہوتا رہا کبھی راہ نجات تو کبھی راہِ فرار لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے گئے. شاید غلطیوں کو سدھارا جاتا تو ملک ان حالات سے نکل سکتا تھا لیکن ان غلطیوں کو سدھارنے کے بجاۓ ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی. بیماری کے خاتمہ کے بجاۓ بیمار کو ختم کرنے کی ناقص پالیسی اختیار کی گئی.
اب بھی اس بھنور سے نکلا جا سکتا ہے لیکن گاڑی کو صحیح ٹریک (صراط مستقیم) پر لانا ضروری ہے ورنہ نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں.

ابنِ سیّد

Monday, December 9, 2013

سمجھ تو آپ گئے ہونگے

(نیچے لکھی گئی بیشتر باتیں بے بنیاد ہیں اپنی ذمہ داری پر پڑھیں)
نہایت ہی خوشی کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ آخر کار پاکستانی قوم نے پتہ لگا لیا کہ انکا اصل دشمن کون "نہیں" ہے یہ نہ ہی انڈیا ہے جس کہ بارے میں ہم چہ مگوئیاں کرتے ہیں اور اسکو پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور نہ ہی امریکہ ہے جو پاکستان کے سرحدی علاقوں پر ڈرون گراتا ہے. یہ تو اندازہ ہم نہیں لگا سکے کہ اصل دشمن کون ہے البتہ یہ اندازہ لگا لیا کہ کون "نہیں ہے" لہذا ان دونوں سے اعلانِ برأت کرنے کے بعد باجماعت اپنے دشمن کو تلاش کیا جارہا ہے امید ہے مل ہی جائیگا، بچ کے کہاں جائیگا ..
بہرحال خوشی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے "دوست ملک" امریکہ کا دورہ کر کے اس سے اپنی شرائط منوا لیں. ایک شرط تو یہ کہ امریکہ پاکستان پر جب بھی ڈرون حملہ کرے پہلے سے بتا دے تاکہ ہم میڈیا کو بتا دیں کہ حملے کے بعد کن دہشتگردوں کی ہلاکت کی خبر جاری کرنی ہے تاکہ وہ اس کو اپنی بریکنگ نیوز بنا سکیں اس طرح پروگرام کی ریٹنگ بڑھے گی اور ملک میں مزید زر مبادلہ آسکےگا.
مزید خوشخبریاں یہ کہ پاکستان نے اب بغیر پائلٹ سے اڑنے والے جہاز بنا لئے ہیں اور پاک فضائیہ کے حوالے کردیے ہیں جس کے بعد امید کی جاتی ہیکہ پی اے ایف میوزیم میں آنے والے بچوں کو دیکھنے کے لئے ایک اور چیز مل جائیگی. اس کے علاوہ اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ فضائیہ کے افراد اس کو اڑا کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں. ہے نہ مزیدار...
جیسے کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ امریکہ کو ہم دوست مانتے ہیں اور اسی دوستی کا حق ادا کرنے کیلئے انکل سیم اور انکے رشتہ دار دن رات لگاتار ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک پاکستان کی تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اب آپکو تو پتا ہے ایک بنی ہوئی جگہ کی رینوویشن کتنا مشکل کام ہے اور اس کو آسان بنانے کیلئے ڈرون کا استعمال کیا جاتا ہے یعنی ایک طرف سے ڈرون کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مکان گرایا جائے اور دوسری طرف یو ایس ایڈ کے تعاون سے تعمیر کیا جائے. نہ جانے بعض لوگ اس کو ظلمِ عظیم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. مگر ادرک کیا جانے بندر کا مزہ اور یعنی الٹا کوتوال چور کو ڈانٹے اور آ بھینس مجھے مار، سمجھ تو آپ گئے ہونگے.
فرانس کی ملکہ نے تو روٹی کی جگہ کیک کھانے کی ہدایت کی تھی جبکہ ہمارے سیاست دان اس طرح کے مشورہ دینے میں نہایت سخی واقف ہوئے ہیں لہذا ہو دوسرے دن کوئی ٹرین میں آیت الکرسی پڑھ کے بیٹھنے کا مشورہ دیتا ہے تو کوئی ٹماٹر کی جگہ لیموں استعمال کا مشورہ، اس بات کا تخمینہ بھی لگوایا گیا ہے کہ اگر ان کے مشورہ اسی رفتار سے ملتے رہے تو جلد یہ زبیدہ آپا کاریکارڈ توڑ ڈالیں گے. آپکو تو معلوم ہے عوام کتنے رحم دل ہیں لہذا انہوں نے سیاست دانوں کو چپ رہنے کا عندیہ دے دیا ہے تاکہ زبیدہ آپا کا گھر ہنستا بستا رہے اور روزگار چلتا رہے.
اور آخر میں وہی گھِسا پٹا شعر عرض ہے:
 
اندازِ بیاں گرچہ مِرا شوخ نہیں ہے
شاید کہ تِرے دل میں اتر جائے مری بات

ابنِ سیّد

Because IJT stood against injustice!



Those who stand for the truth have to face consequences, this is the reason Jamiat is paying price of being firm against an unjust decision which was made by university administration as they cancelled allotment of the whole one boy’s hostel. Emptying a hostel means minimum of 5000 students will be homeless, and this was done by using force without the will of students. At this point Jamiat stand for justice, they are recognized as a student power and representatives of students of Punjab university, on behalf of the students they recorded their protest for not emptying the hostel, but against their will the police was called in the campus and the hostel was evacuated from boys by using force. If this is democracy then every student individual must have the right to protest and Jamiat was protesting in the campus on which again police was used to sabotage this peaceful protest, the resultant of which we are seeing, chaos.
By the analysis of the above situation we can clearly state that university administration is at fault. Students are the future of nation, using force on students can not be tolerated, in a democratic environment one must solve issues through talks and negotiations, but when strength is used then the first person to use it is guilty, and in this case the university administration is!
The role of media was surprising, seems like they were waiting for some news against Jamiat, so this time they break the news without any confirmation, the police did not identified who torched the bus, but the same media who use every violent news related to Karachi with the title of "unidentified armed men" this time they are publishing a fake story blaming Jamiat, without any proof without any evidence.
Every person can have differences on the concepts and ideology of the organization, but even those who are against Jamiat can endorse them for their trustworthy behavior and their pure character, even the strongest opponent can not blame Jamiat for corruption & vulgarity. But this time the media have shown a different story "wine"... do you ever drunk a wine with your party badge in it? This certainly prove how foolishly the story was cultivated, I wonder they did not get the idea of putting a Jamiat sticker on the bottle. Remember what they say, “Naqal Kay Liye Bhi Aqal Ki Zarurat Hoti Hai.”
And don’t forget vice chancellor and teachers who are been sued for doing bad with the students, the administration (vice chancellor) is creating this issue to hide his negligence in performing his duty but media is not showing this side, which shows true face of media. Media is not neutral but playing a part of a rival party.
In a talk show, the people from Jamaat Islami and Muslim League defended the character of Islami Jamiat Talba, because every person know this world is mortal, we have to answer on day in front of Allah, all lies will be exposed there. So be careful while giving your honest opinion about Islami Jamiat Talba.

Wednesday, December 4, 2013

دین میں کوئی جبر نہیں



بعض لوگوں کا مذہبی بحثوں میں پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ڈنڈے کے زور پر لوگوں کو اسلام کی جانب نہیں مائل کر سکتے. یہ غلط ہے وہ غلط ہے اور درپردہ اس کے بعد اس کی آڑ میں اسلامی احکامات کو لتاڑنا شروع کردیتے ہیں.
اسلام کبھی بھی اس چیز کا حمایتی نہیں رہا کہ ایک اسلامی حکومت بھی چلتی رہے اور اس کے نیچے لوگ گناہ میں مبتلا زندگیاں گزاریں. اسلام کا تصوّر حکومت وہی سسٹم ہے جہاں تمام افراد اسلامی احکامات و قوانین کی پابندی کر کے زندگی گزاریں یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ گناہ کے کاروبار بھی آباد رہیں اور اس کو آزاد خیالی کا نام دیا جائے بہرحال لیبل لگانے سے ہیئت نہیں بدل جاتی. جہاں پر شریعت کے منافی کام ہوگا اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے.
اور اسی سے بات آگے بڑھا کر لوگ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اس آیت کے مخالف قرار دے کر باطل قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں.
سب جانتے ہیں کوئی بھی معاشرہ قوانین کے بغیر نہیں چلتا اور ان قوانین کی پابندی کرانے کیلئے ایک فورس ضروری ہے. اب چاہے وہ پولیس ہو یا فوج یا ایف سی وغیرہ کام انکا قوانین کو لاگو کرانا ہے اور اگر کوئی ان قوانین کے مخالف جائے تو یقیناً اس پر الزام عائد ہوگا اور عدالت میں ثابت ہونے پر اس کو سزا دی جائیگی. یقیناً یہاں تک کسی کا اختلاف نہیں.
یہی چیز تو طالبان نے کی اقتدار انکے پاس تھا لہذا اسلامی اور قرآنی قوانین کے حساب سے جو اس کے خلاف جاتا تو اس کو اس ہی حساب سے جرم ثابت ہونے پر سزا دی جاتی. اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک ملک میں جرائم کی روک تھام اگر پولیس کرے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن جب یہی کام افغانستان میں منصبِ اقتدار پر فائز طالبان کریں تو اسے "لا اکراہ فی الدین" کے منافی گردانا جان کر اس پر جبر اور ظلم کا لیبل چسپا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
ابنِ سیّد
(درج بالا مضمون ایک اسلامی احکام کے بارے میں ہے، اگر اس میں کوئی بات غلط لکھ دی گئی ہے تو ضرور تصحیح فرمادیں. جزاک اللہ)

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments