Showing posts with label Pakistan army. Show all posts
Showing posts with label Pakistan army. Show all posts

Friday, April 18, 2014

پاک فوج کو سلام

پاک فوج کو سلام
ہائی وے پر دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ ہر دوسرے ٹرک کے پیچھے یہ جملہ لکھا ہے، "پاک فوج کو سلام". میرا دل بھی کہتا ہے میری پاک فوج کو سلام، پاک فوج زندہ باد. یقیناً آپ سوچ رہے ہونگے کے فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے والے شخص کو آج فوج پر اتنا پیار کیسے آرہا ہے؟ تو جناب سن لیجئے تنقید برائے اصلاح انہی کیلئے کی جاتی ہے جن سے محبت ہوتی ہے اور جن لوگوں کے بارے میں بھلائی کی چاہت ہوتی ہے، یہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح ہے. میری اور میرے جیسے بیشتر نوجوانوں کی تربیت اس ہی پیرائے میں ہوئی ہے، پاک فوج سے محبت ہماری تربیت کا خاص جز ہے. چھوٹا سا لڑکا، جو ٹھیک سے بول بھی نہیں پاتا لیکن جب سوال کیا جائے کہ بیٹا کیا بنو گے؟ تو جواب آتا ہے "فوجی جوان"، یقیناً اس طرح کا جواب سن کر ماں باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہوجاتا ہے. آرمی، نیوی، ایئرفورس ہمارے بچپن کے آئیڈیل! کینٹ کے علاقوں سے گزرتے ہوئے ایک تحفظ کا احساس، ہڑتال اور خراب حالات جب پولیس بھی سڑکوں پر نہ نکلے ایسے میں رینجرز کی گاڑی ہمیں حوصلہ دلاتی ہے.
لیکن اتنی محبت کے باوجود یہ فاصلے پیدا کیسے ہوئے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس سب معاملے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہم سب کا فرض ہے، نہیں تو کم از کم یہ ضرور جانیں کہ اس خلیج کو پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہے!
فاصلے کبھی یوں نہیں پیدا ہوتے بلکہ افراد کا عمل فاصلے پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے. قائد اعظم کانگریس کے لیڈران میں سے تھے لیکن فاصلے پیدا ہوئے اور انکو الگ ہونا پڑا، "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" کا ترانہ لکھنے والا قلم اقبال کا ہی تھا پھر اس ہی ذہن نے علحدہ پاکستان کا تصور دیا، چند افراد کے رویّوں نے بنگال کے عوام کو اتنا متنفر کردیا کہ وہ سرزمین جہاں سے مسلم لیگ کا آغاز ہوا تھا وہاں کے باسیوں نے اعلان بغاوت کردیا... کیا یہ سب شروع سے پلان کا حصہ تھا؟ نہیں! بلکہ انکے نظریات کی تبدیلی میں حالات، واقعات اور سب سے بڑھ کر افراد کے رویّوں کا ایک بڑا ہاتھ ہے.
آج پاکستان کی افواج، عوام اور دوسرے اداروں کے درمیان جو خلیج حائل ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یقیناً ہم سب جانتے ہیں کہ ایک فرد واحد کی بزدلی اور کم ہمّتی نے بحیثیت قوم ہمیں اس پستی اور گہرائی میں دھکیل دیا جہاں سے واپس اپنے سابقہ مقام تک آنے میں ہمیں دہائیاں لگ سکتی ہیں. وہ ایک شخص جس کے ظلم و جبر کے رویّہ، نفرت آمیز بیانات اور انا پرستی نے اداروں کو آپس میں لڑوایا. یہاں تک کہ ہمارے عوام اور افواج کے درمیان دوریاں پیدا ہونی شروع ہوگئیں،باہم دست و گریباں کی کیفیت پیدا ہوگئی اور ایک وقت ایسا آیا کہ اپنی ہی زمین ہماری افواج اور ہمارے عوام پر تنگ ہوتی گئی، یہ سب کچھ صرف اُس ایک شخص کی وجہ سے جس نے اس قومی ادارے کو اپنی انا کی تسکین کی بھینٹ چڑھا دیا.
ایک شخص پورا دن روزہ رکھے لیکن وقتِ افطار سے قبل روزہ توڑ دے تو نہ صرف اس کا روزے کا ثواب جاتا رہتا ہے بلکہ الٹا کفارہ بھی واجب ہوجاتا ہے. یہی کچھ پرویز مشرف نے کیا اور اس کا خمیازہ بھگتا، چالیس سال کی ملک و قوم کیلئے فوجی خدمات کو بیشک سلام لیکن آخر وقت میں اقتدار کی بھوک میں آئین کی پامالی، اداروں کی تذلیل اور افواج کے مورال کو گرانے والے شخص کیلئے سب سے اچھا انصاف صرف یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کو اس ملک کی عدالت کے ذریعہ سزا دلوائی جائے تاکہ آنے والے دور کیلئے یہ ایک عبرتناک مثال بن کر سامنے آئے، لیکن اگر اس کے برعکس مقتدر اداروں کی جانب سے ان سب کے ذمہ دار جناب مشرف کو سہارا دیا گیا اور کلین چٹ دے دی گئی، تو آنے والے دور میں تاریخ ایک نیا نوشتہ لکھے گی، لیکن اس دفعہ کہانی میں ہمارا نام نہ ہوگا.

ابنِ سیّد

Tuesday, December 10, 2013

یو ٹرن

یو ٹرن لینا خطرناک ہو سکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب رفتار ہلکی نہ کی جائے، اس کے نتیجہ میں سواری میں سوار افراد کو نا صرف جھٹکا لگتا ہے بلکہ بعض اوقات گاڑی الٹ بھی سکتی ہے اور جانوں کا زیاں ہو سکتا ہے.
یہی کچھ ہم نے کیا، ہم نہایت تیز رفتار سے ایک جانب چلے جارہے تھے کہ یکایک یو ٹرن لے لیا گیا اور تو اور اسکے نتیجہ میں پیش آنے والے جھٹکے کو سمبھالا دینے کیلئے نہ رفتار ہلکی کی بلکہ اور تیز کردی. جس کی وجہ سے گاڑی میں بیٹھے افراد کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا. ہم اسلام پسندی کی گاڑی میں سوار تھے یہ رفتار گو کہ کچھ زیادہ نہیں لیکن مناسب ضرور تھی، ہم افغانستان میں کشمیر میں جہاد میں مصروف تھے، ہم کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے کہ یکایک امریکہ کی ایک کال پر یوٹرن لے لیا گیا. تمام جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی. اسلام کا نام لینا اور اسلام پسند ہونا ایک جرم بنا دیا گیا. یہی نہیں اس یوٹرن لینے کے باوجود گاڑی الٹی سمت چلائی جانے لگی وہ ایسے کہ میڈیا کا منہ کھول دیا گیا اور فحاشی کا سیلاب اُمڈ آیا. اسلامی شعائر کا کھلے عام مذاق بنایا گیا، حدود اللہ کو پامال کیا گیا، حدود آرڈیننس ختم ہوا اور بے راہ روی عام ہوئی.
اور پھر اس یوٹرن کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ہر اکائی میں کئی گروہ بن گئے ہماری حکومت امریکہ کی وفادار بنی ہماری فوج دو حصوں میں بٹی ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں گروہ بنے اور لوگوں نے امریکہ کے ساتھ جنگ کو چُنا اور.ہماری فوج نے انکو روکا اس طرح ہماری فوج اور ان افراد میں لڑائی ٹھن گئی. پورا ملک جنگ کی لپیٹ میں آگیا، ایک کہ بعد ایک آپریشن ہوتا رہا کبھی راہ نجات تو کبھی راہِ فرار لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے گئے. شاید غلطیوں کو سدھارا جاتا تو ملک ان حالات سے نکل سکتا تھا لیکن ان غلطیوں کو سدھارنے کے بجاۓ ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی. بیماری کے خاتمہ کے بجاۓ بیمار کو ختم کرنے کی ناقص پالیسی اختیار کی گئی.
اب بھی اس بھنور سے نکلا جا سکتا ہے لیکن گاڑی کو صحیح ٹریک (صراط مستقیم) پر لانا ضروری ہے ورنہ نام بھی نہ ہوگا داستانوں میں.

ابنِ سیّد

Sunday, November 17, 2013

جماعت اسلامی نے اس ملک کو کیا دیا؟

پچھلے کچھ دنوں سے بعض لوگوں کی جانب سے سوال آیا کہ جماعت اسلامی نے اس ملک کیلئے کیا خدمات انجام دیں. اگر یہ لوگ اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں اور اپنے ذہن کو تعاصب سے پاک کریں تو انہیں کئی مثالیں مل جائیں گی. لیکن اس کیلئے تعصب کی پٹی آنکھوں سے ہٹانا شرط ہے.
جماعت اسلامی ہی کی وجہ سے اس ملک کو اسلامی تشخص ملا. قرارداد مقاصد جس نے پاکستان کو ایک اسلامی شناخت دی اس کا سہرہ جماعت اسلامی کے سر ہی جاتا ہے. شاید کوئی اور جماعت تمام سیاسی قوتوں کو ایک ایشو پر اکھٹا نہ کر سکتی، لیکن جماعت کی محب وطن قیادت نے اس کام کو بھی سر انجام دیا.
ملک کی ضروریات اور وسائل کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے جماعت اسلامی نے ملک کے طول و عرض میں الخدمت کے نام سے فلاحی کاموں کا بیڑا اٹھایا اور اس پلیٹ فارم سے غریبوں کی مالی مدد کی، یتیموں کے لئے یتیم خانوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اسکا نظام چلایا. قدرتی آفات میں یہ جماعت اسلامی ہی ہے جو  قوم کی مدد میں ہر اول دستہ تشکیل دیتی ہے. بیواؤں کی کفالت سے لیکر غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادی کیلئے مالی مدد فراہم کرنا.
کراچی سے لے کر خیبر تک مستحق طلبا کیلئے مدارس اور اسکول کے مضبوط ادارے قائم کرنا تاکہ ہر بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنے مستقبل کو بہتر بنا کر اس ملک کے کام آسکے.
اکھتّر کی جنگ میں جب مشرقی پاکستان میں انڈیا کی ملی بھگت سے انارکی برپا ہوئی تو اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے کارکنان فوج کی مدد کیلئے 'البدر' کے نام سے ہر اول دستہ بنے، جن علاقوں میں فوج نہیں جاسکی ان علاقوں میں کاروائیاں کرکے انڈیا کی بالادستی کو کم کیا اور پاک فوج کیلئے راہ ہموار کی اور اس کوشش میں جمعیت اور جماعت کے دس ہزار سے زیادہ کارکنان نے ملک و ملت اور اسلام کی خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا. آج بھی اس ہی پاداش میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کو سزائے موت سنائیں جارہی ہیں.
افغان جھاد میں بھی اس ہی روایت کو برقرار رکھا اور اپنے مسلمان افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ روس سے جنگ کی، اور اسکو گرم پانیوں تک نہ آنے دیا، یہ سب کچھ اسلام اور پاکستان کے دفاع کی خاطر کیا.
اس ملک میں اگر افراد کو کتاب سے شغف ہے تو اس تعلق کو برقرار رکھنے میں بھی جماعت اسلامی کا ایک بڑا کردار ہے، جماعت اسلامی پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی جماعت ہے اور تعلیم کا فروغ جماعت کی اساس میں سے ہے.
جہاں بہت سی سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنے دامن پر جعلی ڈگری کا تمغہ سجائے ہوئے ہیں اس اندھیر نگری میں جماعت کے امیدواران روشنی کی کرن بن کر ابھرے. الیکشن میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت رہی جس کا ہر امیدوار اعلی تعلیم یافتہ تھا.
جماعت اسلامی نے سابقہ حکومت میں صوبہ سرحد کی حکومت کا نظام بہتر طور پر چلا کر اپنی اہلیت ثابت کی.
جماعت اسلامی کے نامزد کردہ سٹی ناظم جناب نعمت اللہ خان کی کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانے کی کوشش کسی سے چھپی نہیں. سڑکوں اور فلائی اوور کی تعمیر، ہر علاقے میں پارک کی مخصوص جگہوں پر قیام، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام اور اس کے علاوہ کئی سو بڑے پراجیکٹس کا افتتاح اور بجٹ پاس کیا جو آنے والی سٹی گورنمنٹ نے اپنے حصہ میں لکھوالیا لیکن بہرحال شہر کراچی کی تعمیر مقصد تھی جس کو جماعت نے بااحسن وخوبی انجام کیا.
قادیانی مسئلہ ایک بہت بڑا اور پیچیدہ مسئلہ تھا جس کو جمعیت نے اٹھایا اور جماعت نے اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے ذریعہ حل کروایا، اس موقع پر ملک کی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد بھی جماعت اسلامی نے ہی کیا.
ملکی سلامتی کے معاملات پر جماعت نے بڑے بڑے اتحاد قائم کئے.اکھتّر کے آئین پر تمام سیاسی قوتوں کو جماعت نے متحد کیا. جو قوم مختلف انداز میں بٹی ہوئی تھی اس قوم کو اور بیشتر اسلامی قوتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر متحد کیا. ملک کے دفاع کی خاطر دفاع پاکستان کونسل کے نام سے اکھٹا کیا.
اس ملک کے عوام لاکھ دوسری جماعتوں کو ووٹ دیں لیکن جب ملک کے لئے حساس معاملات میں فیصلے کرنے کا وقت آتا ہے یا جس وقت کسی ملکی معاملے میں عوام کو کسی ایک راۓ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو رہنمائی کیلئے سب کی نگاہیں جماعت اسلامی کی قیادت کی جانب ہی اٹھتیں ہیں کیوں کہ جماعت اسلامی ووٹوں پر اور نہ ہی سیٹوں پر بلکہ اس ملک کی عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتی ہے.
جہاں اس ملک میں کرپشن کے قصے عام ہیں ان سب میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جس کا دامن ہر طرح کی عصبیت اور کرپشن سے پاک ہے، جماعت کے مخالفین بھی اسکا اعتراف کرتے ہیں. ..
عربی کا ایک مشہور محاورہ ہے
"والحق ماشھدت بہ الاعدآء" یعنی "سچائی تو وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے".
یہ تو چند ملکی خدمات ہیں، جماعت اسلامی ملک و ملت کی خدمت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے، شاید جماعت کی خدمات ایک کالم میں پوری نہ لکھ سکوں لیکن  اگر اس قدر تفصیل کے بعد بھی کوئی سوال کرے کہ "یہ تو ٹھیک ہے لیکن جماعت نے ملک کو کیا دیا؟" تو ایسے افراد کے سوال کا جواب ہے: "السلام علیکم و رحمتہ اللہ"

Friday, July 12, 2013

Our Policy OR American Policy - War on Terror OR War on Pakistan

This has been about a decade since the Pakistan took its first step into the War on Terror, since then Pakistan is been immersed into the mud from which it is hard to come out, but its not impossible. The below text is written inspired by a member of JI Bakhtiar Maani who speak on this topic in the national assembly a decade is now passing since this speech but this is still effective. 



11 years have passed since we are involved in war on terror, war on terror really; we are all amazed to see that why this war is not expanded to those countries which have larger part of non-Muslim community, why this war is only imposed to those countries which have above 90% Muslim population. We are not complaining to America, who we are, we are not Americans we don’t have a right to complain them, but we are Pakistanis and we have right to complain to our government and our security institutes, we must question what happened since Pakistan is a part of this so called war on terror, did the terrorism stopped? Did the drone attacks stopped? Did our economy boosted? Are we in peace? Can we move in our country with surety of our lives? No. Then what is the point to keep ourselves the part of this so called war on terror?
What is being said here is not a part of counter politics, and we don’t want to make it a part of our politics. But this must be discussed for Pakistan, for security and peace, for the lives of the people living in Pakistan. This war was begin with north western Pakistan and now each and every Pakistani is under death threat, involving our army and our soldiers they are also dying while becoming a part of this war.
It started when there was a attack which was done in a madarsa in Bajour, this was done in the Sehri time before Fajar, before the rise of the sun. Around 82 students were killed, these students include children from all age group, they were learning Quran, they were studying Quran, and some of them have learned about half of Quran while some of them have learned more of it. They were not terrorist, from among them there were 5 boys who belong to the same family, no one sends there own blood for terrorism, not all of them. We must clarify ourselves and not mix up different situations.
Then after some time it happened to have an attack in Dargai, it was at 8:30 in the morning, and there were about 35 soldiers which were killed in the start and some of them after that which makes it about a total of 42. The people rescued their own people; they were standing by side for any type of help which can be done for these injured people. After namaz e Zuhar a lot of people gathered for the funeral and prayed for those who were killed in this attack.
While some people are trying to co-relate these two incidents, no certainly not, there is no relation between the two. There is no such thing happened that some one might take revenge of Bajour incident from Dargai. These two incidents are the result of those policies on which we are acting upon. Please! Don’t make your army fight your own people and vice versa.
If we are against those who attack on madarsas we are also against those who attack on our own army, we condemn both of them. Those who were killed are the lovers of Pakistan they lived for Pakistan and they want to die for Pakistan, but sadly they don’t know that they became a victim of American policy. They didn’t knew that its Bush regime which is governing Pakistan.
Speaker, I talk about Bajour, this is said wrongly by Mr. Sher Afgan that there is no home where this attack is done. I will tell you there is are homes, there are mosques, there are people living there, if you don’t believe then we can make a committee which goes to Bajour and see at how much distance there are homes. BBC said that this madarsa is not even able to provide terrorism education to any one, it is such a small one, we can see only Quran there. You can say us criminal, but please don’t speak lies on the situations. Don’t say that they are terrorist they are students who were there to learn Quran. Please speak the truth. This attack is not done by Pakistani army (this speech was done when Pakistan took the responsibility of the drone attack by not telling the reality to own people, instead some official have said that this attack has been done by army on information that there are some terrorist which are hiding in that madarsa.) no person who have Faith in Quran can ever attack a madarsa. Because if they say that this attack has been done by American they we have to take actions against USA, certainly we can not do this so government is taking this responsibility on themselves, which is a lie.  No, this can’t be done, this matter can not be kept under files and closed, this is a matter to talk, and someone must have to answer it. I tell you, those 80 students funeral prayer has been done by the senior minister Mr Siraj Ul Haq, and he has resigned form his seat on this issue, Haroon Rasheed has also resigned from his membership of national assembly.
I know that most of the government official and parliamentarians are against this policy, even army officials are against this and want to get rid of this policy. Some said America is a so called super power, we can not take any actions against it, but till what time, we are being killed by them, we are still under attack in both the situations we have to die, then we have to choose to die in a good way, in the way which Islam tell us, not in that way in which America wants us.

I also ask our government and our army to revise this policy which is killing us each day. I know you are going that way in which you don’t even want to go, so take the right way. Revise the policy.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments