Thursday, October 31, 2013

"The Leadership of Muhammad Morsi" - By Syed Owais Mukhtar

Abtract: This article covers reviews and focuses the certain aspects of leadership of the president of Egypt Mr. Muhammad Morsi, the member of the most influential organization Ikhwan ul Muslimoon (Muslim Brotherhood), who ran election campaign from the platform of Freedom and Justice Party, and got successful.

Muhammad Morsi the newly elected president of Egypt, previously the president of Freedom and Justice Party since April 30, 2011, participated in the elections from the platform of Freedom and Justice Party and elected as the president of Egypt. He joined the office of president on June 30, 2012. He was a loyal member of the Muslim Brotherhood (Al Ikhwan ul Muslimoon) the biggest and the most influential Islamic movement in the Arab world. He is associated with Muslim Brotherhood since his youth.
Ikhwan ul Muslimoon, the Muslim Brotherhood is the most influential Islamist group in the Arab world, it is perhaps the biggest movement of its kind, the members of Brotherhood are well known for their honesty, loyalty and discipline. Although certain criticism on their movement and way of working they are still growing in numbers and are widely supported by the local population. The movement is based on Quran and Sunnah and mostly the activist of Brotherhood is tend to follow the vision, but in this entire scenario we can not neglect the presence, motivation and leadership of the leaders of Brotherhood without which they might it seemed impossible to reach the destination. Similarly Muhammad Moris worked a lot in order to develop himself, along with the God-gifted skills he got.
Introduction: Muhammad Morsi was born in the village of Edwa in the northern Egypt Al Sharqia Governorate (translated as Eastern Governorate) in August 20, 1951. He got his early education in Edwa [2] which is a small undeveloped area, then for higher education he came to Cairo where he completed his graduation in 1974 and post-graduation degree in 1978 [3] from the Cairo University. He then traveled to United States and got his Ph.D. degree from the University of Southern California in 1982 [4]. He joined California State University as an Assistant Professor in 1982 up to 1985. After 1985 he came back to Egypt and joined Zaqaziq University as a professor [5] where he remained until his presidency.
Leadership of Morsi: Just like the founder of the Muslim Brotherhood Hassan al-Banna, Muhammad Morsi also selected teaching as his profession. [6]. He looks like a typical worker of Muslim Brotherhood and an ordinary man. Though being an ordinary person his character and loyalty for his organization makes him respectable in the eyes of other members of the organization. The charisma in his personality brings a common man of Egypt near the vision of Brotherhood, and this charisma urged them in order to get attached with the personality as well.
Verbal and Nonverbal Communication Skills: Muhammad Morsi has dynamic communication skills, verbal and nonverbal both. This can be seen from his interview which was taken by Al Jazeera [7] shows his preparation for the interview as well the answering to the cross questioning in an excellent manner. His show of nonverbal communication was shows when he had a speech in the Tehrir Square after elected as president, where he opened his chest showing no bullet proof jacket [8] which is the contrast to the former president Hosni Mubarak who used to take a large security squad with him. [9]
Muhammad Morsi opening and showing his chest to a public gathering in the celebration ceremony at Tehrir Square. [10]

Problem solving: Muhammad Moris just like the other brothers solve the problems and tasks related to the organization through the mutual understanding of the respected members of the organization. He used to tackle all such problem through mutual agreement with his fellow Brotherhood workers. This is the reason the organization was able to tackle some very difficult situations in the past, few cases which include the involvement of army in the presidential election procedure which was fought through public power, after his success he was facing opposition from certain political parties this situation was resolved through giving proper representation of all political parties in the parliament.

References:
[1] [3] [4] [5] http://www.sis.gov.eg/En/Story.aspx?sid=62578
[2] http://www.economist.com/node/21557803
[6] http://www.islamtimes.org/vdcd.j0s2yt0jfme6y.html
[7] http://www.aljazeera.net/home/print/0353e88a-286d-4266-82c6-6094179ea26d/ec1af614-ab8b-4f33-9e16-b7969e03e175
[8] http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/africaandindianocean/egypt/9367022/Nazir-Ali-How-Mohammed-Morsi-Egypts-first-Islamist-president-interprets-Sharia-law-will-be-a-crucial-test.html
[9] JOHN DANISZEWSKI | TIMES STAFF WRITER, Los Angeles Times, http://articles.latimes.com/1999/sep/07/news/mn-7572
[10] Picture from Dispatch.com

داخلہ ٹیسٹ: فائدہ یا نقصان؟ (پہلا حصہ)

داخلہ ٹیسٹ: فائدہ یا نقصان؟
آج کل تقریباً تمام جامعات میں داخلہ سے پہلے داخلہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے. لیکن یہ لیا کیوں جاتا ہے؟ تاکہ ان افراد کو لسٹ سے خارج کیا جاۓ جو غیرقانونی طریقے سے نمبر لیکر آئے ہیں. پرائیوٹ جامعات سے ابھی لاتعلق رہیں پہلے ان اداروں کی بات کی جائے جو حکومت چلا رہی ہے جیسے جامعہ کراچی، جامعہ این ای ڈی، داؤد کالج، جامعہ اردو وغیرہ، ان میں سے تمام جامعات میں داخلہ کیلئے آپکو داخلہ ٹیسٹ دینا پڑیگا شاید ان کے نزدیک آپکا انٹر کا رزلٹ مشکوک ہے. یعنی ایک حکومتی ادارے (مثلاً جامعہ کراچی) کو دوسرے حکومتی ادارے (مثلاً انٹر بورڈ) پر اعتبار نہیں؟ اب اگر جامعات سے بات کی جائے تو جواب یہ ہوگا کہ ہم ان درخواست گزاروں کو خارج کرنا چاہ رہے ہیں جو معیار پر پورے نہیں اترتے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ "معیار" کیا ہے؟ اگر معیار اس ہی کا نام ہے جو جامعات کے انٹری ٹیسٹ میں شامل ہے تو پھر بجاۓ اسکے کہ ان سے انٹر کی مشقّت لی جاۓ جب انکو آگے انٹری ٹیسٹ میں ہی پرکھنا ہےتو انکو اس کی ہی کیوں نہ تیاری کرائی جائے؟
مسئلہ کا حل صرف اتنا سا ہیکہ انٹر کی تعلیم کو معیاری بنایا جائے اور اس کو اس نہج پر لیجایا جائے کے وہ سرٹیفیکیٹ جامعات کیلئے قابل قبول ہوجائے. لیکن مسئلہ کی جڑ کو ختم کرنے کے بجاۓ سب مسئلہ کے حل کی کوشش میں طلبہ کیلئے مشکلات کھڑی کئے جارہے ہیں!
جب ایک چیز میں پیسے کی فراوانی آجائے تو وہ خود ہی مشکوک ہوجاتی ہے اور یہی حساب انٹری ٹیسٹ کا ہے اس میں کئی کے مالی مفاد موجود ہیں اور اس ہی لئے اس سسٹم کو مزید تقویت دی جارہی ہے. سب سے پہلا فائدہ تعلیمی ادارے کا ہے. ایک تعلیمی ادارہ یا جامعہ جب داخلوں کا اعلان کرتا ہے تو اس نتیجہ میں اسکو ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی ہیں. ہر درخواست کی ایک مخصوص فیس ہوتی ہے قطع نظر اسکے کہ وہ درخواست قبول ہوتی ہے کہ ردی کا حصہ بنے. اس طرح داخلہ سے پہلے سیٹوں کی تعداد سے کہیں زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں جس کی وجہ سے جامعہ کو ایک بھاری رقم ملتی ہے. ٹیسٹ کی مخصوص رقم بھی ہر سال سو دو سو روپے کے حساب سے بڑھ رہی ہے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ایک طالبعلم کے ٹیسٹ میں بیٹھنے کا اتنا خرچہ آتا ہے؟ یا یہ سب جامعہ کے اکاؤنٹ کی زینت بنتا ہے؟
اس ٹیسٹ سے دوسرا مفاد ان اداروں کا ہے جو پورا پورا سال طلبہ کو ٹیسٹ کی تیاری کراتے ہیں. ان میں سے ہر ادارہ طلبہ کو ایڈمیشن ٹیسٹ پاس کرنے اور داخلہ کی گارنٹی دیتا نظر آتا ہے. جبکہ اکثر اوقات جامعات کی راہ پر چلتے یہ ادارے مخصوص نشستوں سے بھی زیادہ طلبہ کو انرول کرلیتے ہیں. ظاہر ہے ان میں سے کئی کا دعوی فیل ہوتا ہوگا مگر آڈٹ کون کرے ان سے پوچھنے والا کون؟ بہتی گنگا میں سب نہا رہے ہیں!
واللہاعلم
(ابنِ سیّد)
نوٹ: پہلا پارٹ ہے، انشاءاللہ تحقیق کے ساتھ ساتھ اگلی معلومات کا تبادلہ کرتا رہوںگا.

Thursday, October 24, 2013

بچوں پر کارٹون کے اثرات!

بچوں پر کارٹونز کے اثرات:
کچھ دن پہلے ایک صاحب کی پوسٹ  پڑہی جس میں وہ بتارہے تھے کے کس طرح "ہم" ٹی وی پر آنے والے ڈراموں میں اخلاق سے گرے ہوئے ڈائیلاگ نئی نسل پر برا اثر ڈال سکتے ہیں.
میں اس میں تھوڑا مزید اضافہ کرنا چاہتا ہوں، ڈرامے دیکھنے والے نوجوان پھر بھی ذرا میچور ہوتے ہیں اور اچھے برے میں تمیز کر سکتے ہیں لیکن ایک بچّہ شاید اس میں تمیز نہ کرپاۓ. اگر آپ ان کارٹون پر نظر دوڑائیں جو آج کا بچہ دیکھ رہا ہے تو آنے والا وقت اخلاقی طور پر مزید بھیانک دکھے گا. مثلاً:
-ایک کارٹون میں دکھایا جا رہا ہے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ریلیشن، جس میں لڑکا اسکو ڈنر پر مدعو  کرنے میں ہچکچا رہا ہے، وغیرہ
-تُو تڑاپ کا استعمال بچوں کی زبان.خرابی کا باعث
-ٹپُوری زبان کا استعمال
-"تمہاری ماں کی آنکھ" ایک کارٹون کا دوسرے کارٹون سے مکالمہ
یہ تو صرف چند مثالیں ہیں جبکہ جو معصوم ذہن سارا سارا دن کارٹون دیکھتے ہیں انکے ذہنوں میں کیا کیا جاتا ہوگا اور آنے والے دور میں کیا گُل کھلا سکتا ہے! بہرحال یہ ایک لمحہِ فکریہ ہے.
(ابنِ سیّد)

Tuesday, October 22, 2013

قیامِ پاکستان اور علماء کا کردار

قیام پاکستان کے وقت علماء کے دو گروہ ہوگئے تھے. ایک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بننا مسلمانوں کی طاقت کا بٹوارہ ہے کیوں کہ اس طرح دور کی وہ ریاستیں پاکستان میں شامل نہ ہو پائیں گی. نتیجہ کہ مسلمانوں کے درمیان ایک خلیج حائل ہوجاۓ گی.
اسکے ساتھ ہی دوسرے گروہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہتر طور پر اسلام کی کھل کر ترویج و اشاعت  ہو سکتی ہے. اپنے اپنے لحاظ اور عقل علم و سمجھ کی بنیاد پر دونوں گروہ ٹھیک ہوسکتے ہیں.
اور جب پاکستان بنا تو علماء کے دونوں گروہوں نے اس کو دل سے تسلیم کیا. انکا کہنا تھا کہ مسجد بنائی جاۓ یا نا بنائی جائے اس پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جب مسجد بن جاۓ تو مسلمان پر اسکی حفاظت لازم ہوجاتی ہے. انہوں نے اس طرح پاکستان کو مسجد کا درجہ دیا.
دونوں گروہوں نے آپس کے اختلاف ختم کئے اور مل کر پاکستان کی خدمت اور اسلام کی اشاعت میں زندگیاں کھپا دیں.
آج کے دور میں اگر بعض افراد جن کا تعلق ان دونوں علماء کے ساتھ رہا ہو یا غیرتعلق رہے ہوں اگر اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر اسکی بنأ پر رنجشیں پیدا کریں تو یہ نری جہالت ہوگی اور گڑے مردے اکھاڑنے سے مترادف ہے.
(مولانا مسعود اظہر کی ایک کتاب میں کچھ اس بارے میں پڑھا تھا اسکو اپنے الفاظ میں لکھ دیا مختصراً، امید ہے کچھ لکھنے میں غلطی ہو تو احباب تصحیح فرمادیں گے. جزاک اللہ)
(ابنِ سیّد)

Saturday, October 19, 2013

آبادی: کیا یہ "مسئلہ" ہے یا "مسائل کا حل"؟

عابدہ حسین  جنگ کی معروف کالم نویس ہیں لکھتی ہیں کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آبادی ہے(کالم آبادی کا بم پھٹ چکا ہے)،انکے مطابق انسان کو یہ سوچنا چاہئے کہ اپنے بچوں کا کھانا پینا رہائش تعلیم کر بھی سکے گا کہ نہیں اور نہیں کر سکتا تو فُل اسٹاپ.جبکہ ہم جانتے ہیں اس دنیا میں ہر شخص کا رزق نہ اسکے ماں باپ فراہم کرسکتے ہیں نہ حکومت بلکہ اللہ اسکا رزق مقرر کرتا ہے. جن ممالک نے آبادی کو مسئلہ سمجھ کر روکا آج وہ پچھتا رہے ہیں وہاں معمر افراد بڑھ رہے ہیں اولڈ ہوم  بھر رہے ہیں کیوں کہ بوڑھوں کو سنبھالنے والی اولاد موجود نہیں. اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ ہر شخص اس دنیا میں اپنا رزق خود لاتا ہے،اللہ ہر جاندار کو رزق پہنچاتا ہے.
اسکے علاوہ انکے کالم کا دوسرا نکتہ جس پر مجھے تشویش ہے کہتی ہیں شادی تیس سال سے پہلے نہ کریں.جبکہ یہ تو معاشرہ جس اخلاقی تنزلی کی جانب جا رہا ہے اسکی رفتار دوگنی کرنے کے مترادف ہے.
(ابنِ سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments