Monday, November 25, 2013

غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟

غلطیاں لاتعداد، مگر حل کیا ہے؟

مجھے اچھی طرح یاد ہے پہلا ڈرون حملہ ہوا تھا، یہ باجوڑ کا ایک مدرسہ تھا. اس میں تقریباً اسّی طلباء تھے جو موقع پر شہید ہوئے جبکہ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہوئی. اس موقع پر بعض افراد نے یہ کہہ کر غلط بیانی کی کہ اس علاقہ میں آبادی نہیں لیکن باجوڑ کے ایک رکن قومی اسمبلی نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا کہ وہاں آبادی ہے اور اس آبادی کے قریب ہی مدرسہ ہے جس کو نشانہ بنایا گیا اور بے گناہ افراد کو شہید کیا گیا ہے. اس وقت مذہبی اور محب وطن جماعتوں نے "گو امریکہ گو" اور "جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے" کا نعرہ بلند کیا جس کا ابتداء میں چند افراد و جماعتوں نے استہزاء اڑایا مگر آج یہ نعرہ ہماری قومی بقا کا نعرہ بن گیا ہے. جب ہمارے ملک کے ایک بڑے شہر سے ایک امریکی شہری نے چند افراد کا قتل کیا لیکن افسوس اس قاتل کو راہِ فرار دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انکی ہمت بڑھی اور انہوں نے ہمارے ملک میں کھلے عام کاروائیاں شروع کردیں. ایبٹ آباد کا واقعہ ہوا جس پر ہمارے حکمرانوں نے کہا "گریٹ وکٹری"، مگر بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ وہ "گریٹ ڈیفیٹ" تھی. اس کے بعد ملک میں کھلے عام غیر ملکی ایجنٹ گھومتے رہے مگر ہم ان سے سوال نہ کر سکے. اسلام آباد کی سڑک پر تین چار امریکی ایک جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی میں پکڑے جاتے ہیں مگر سفارت خانے کی ایک کال پر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے. ممکن ہے وہی امریکی کہیں حملہ یا دھماکہ کردیں اور بھاگ جائیں تو ہم اس کیس کو طالبان سے منسوب کردیتے ہیں تاکہ فائل بھی دب جائے اور کیس بھی انجام کو پہنچ جائے، ہم ممکنات کی نفی نہیں کرسکتے.
ہم اس ملک میں ایک وسیع و عریض امریکی ایمبیسی کی تعمیر کی اجازت دیتے ہیں جس میں سات سو افراد کی رہائش کا انتظام ہے. ہمارے اہلکار اس میں پَر بھی نہیں مار سکتے، ہم انہیں پورا موقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ہمارے علاقوں میں پھریں گھومتے رہیں، گاؤں دیہات قبائلی علاقہ جات و  مضافات میں مٹرگشت کریں ان علاقوں میں جائیں جہاں ہم نہیں جا سکتے ان افراد سے بات کریں جن سے ہم نہیں مل سکتے اور پھر ہم حیران ہیں کہ ان دہشتگردوں کو "بیرونی مدد" کہاں سے مل رہی ہے. شَک ہم انڈیا پر کرتے ہیں جبکہ اس بیرونی مدد کو ہم نے پناہ دارلحکومت میں غیرملکی ایمبیسیوں میں دے رکھی ہے.
ہم نے صلیبی جنگ میں صلیب کا ساتھ دیا، مسلمان ہوتے ہوئے صلیبیوں کو رسد پہنچائی، افغانستان میں ان کے ہاتھ مضبوط کئے، اور اپنے افغان بھائیوں کے قتلِ عام میں امریکی اور نیٹو کی افواج کا ہاتھ بٹایا. اس کے باوجود ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ افغان عوام ہم پر بھروسہ کرینگے. ہم نے یہ نہ سوچا کہ لاکھوں افغانی اس ملک میں مہاجرانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ہمارے امریکیوں کو مدد کرنے پر وہ بھی بگڑ سکتے ہیں، افغانستان میں اگر انکا رشتہ دار مارا جائے تو انتقامی جذبے میں آکر وہ بھی ملوث ہوسکتے ہیں ہم نے اس بات کو سمجھے بغیر جنگ میں چھلانگ ماری اب اندر باہر ہر طرف سے دشمن مار رہا ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون مار رہا ہے اور ہم حیران ہیں کہ ہم پر حملے کیوں ہوتے ہیں اور ماننے کو تیار نہیں کہ یہ غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں اور ان غلط پالیسیوں کو سدھارنے کے بجاۓ نئی پالیسی بنانے کو مسئلہ کا حل سمجھ رہے ہیں، نتیجہ صفر!
ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی دنیا کی بڑی فوج ہونے کے باوجود بھی، ہم بحیثیتِ قوم کسی سے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرسکتے. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا جس کا مفہوم ہے کہ ایک وقت آئیگا کہ غیرمسلم اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیںگی جیسے بھوکا دسترخوان پر جبکہ اس وقت افرادی طاقت میں بھی سمندری جھاگ کی مانند ہونگے. شاید وہ وقت آچکا ہے.
وجہ کیا ہے؟ ہم نے اسلام کا سبق بھلا دیا ہم نے ملتِ اسلامیہ کے فلسفہ کو پسِ پردہ ڈال دیا، ہر کام بنا سوچے کیا نتیجہ یہ کہ اللہ نے ہم پر بحیثیت قوم ذِلت مقرر کردی. اب حل صرف یہ ہے کہ اپنی شناخت اپنی بنیاد اسلام کی جانب پلٹنا ہوگا. ہمیں اسلام کے مطابق فیصلے کرنے پڑینگے ہمیں اپنے مسائل کا حل اسلام میں تلاش کرنا پڑیگا جب ہی ممکن ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوگا اور ہمیں عروج کی جانب لیجائیگا.

ابنِ سیّد

میری بنائی ہوئی ویبسائٹ - Error 404

 میری بنائی ہوئی ویبسائٹ
Erorr-404
 
یہ لکھتے ہوئے مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے لیکن شاید یہ پڑھ کر کسی کی اصلاح ہوجائے لہذا اس نیت سے بیان کئے دے رہا ہوں ...
میں نے تقریباً گیارہ سال کی عمر میں کمپیوٹر کا استعمال شروع کیا. تیرہ سال کی عمر میں انٹرنیٹ کا استعمال، ویب ڈیزائننگ بھی اسی دور میں شروع کی، اس ہی درمیانی عرصہ کی بات ہے میں نے ایک ویب سائٹ بنائی، اس وقت اتنا کچھ دین کا علم نہیں تھا لہذا اس ویبسائٹ میں گانوں، گلوکاروں کے حوالے سے بھی کافی لِنک اور مواد رکھا ہوا تھا.
زندگی رواں ہوگئی اور ہم پڑھائی وغیرہ میں مصروف، کچھ دن پہلے عرصہ بعد دوبارہ اس ویبسائٹ کا خیال آیا. چیک کرنے پر پتا چلا کہ Geocities جو کہ یاھو! کا پراجیکٹ تھا وہ بند ہوچکا ہے. ایک پرائیوٹ ویبسائٹ Oocities نے وہ تمام پیجس اپنے پاس آرکائیو کرلئے ہیں.
Oocities.com/owaisjal کھول کے دیکھا تو میری بنائی ہوئی ویبسائٹ میرے سامنے تھی کافی دیر تک دیکھتا رہا، تمام پیج دیکھے، عجیب و غریب نقش و نگاریاں اور جاوا اسکرپٹس کی کارستانیاں دیکھتا رہا. پھر گانوں کے لِنکس پر نظر پڑی، کچھ دیر سوچا اور پھر Oocities کے مین پیج پر گیا سامنے ہی لکھا تھا کہ ہم آپکی پرائیوسی کی قدر کرتے ہیں اگر آپ اپنی ویبسائٹ بند کرنا چاہیں تو رابطہ کریں. میں نے ای میل میں لکھا کہ میں یہ ویبسائٹ ختم کرنا چاہتا ہوں، جواب آیا کہ کوئی مخصوص پیج یا تصویر یا لِنک یا پھر مکمل ویبسائٹ؟ مکمل ویب سائٹ، میرا جواب تھا!  کچھ دن بعد کسی ششمیتا کی ای میل موصول ہوئی جس میں لکھا تھا کہ وہ ویبسائٹ نہ صرف ویب بلکہ ان کہ ریکارڈ، آرکائیو سے بھی ہٹا دی گئی ہے.
اس مرتبہ لِنک کھول کر دیکھا تو Error 404 سامنے آگیا. دل کو تسلی سی ہوئی، اپنی تخلیق کی گئی چیز کو ختم کرنا جیسا فیصلہ کرنا مشکل کام ہے لیکن جو خالقِ کائنات کی مرضی ہو اسکے سامنے سر تسلیم خم کردینا ہی صحیح ہے.
شاید اس سے ان لوگوں کو کچھ احساس ہو جو انٹرنیٹ پر اچھی بری ہر طرح کی چیز کچھ سوچے بغیر ڈال دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس کے اثرات کیا ہونگے. اگر آپ کی بھی ایسی ویبسائٹ یا ویب پیج موجود ہے تو اسکا بھی کچھ بندوبست کریں. اللہ ہم سب کو ہدایت دے.
ابنِ سیّد

Friday, November 22, 2013

اور اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈرون حملہ

امریکہ نے اپنے ڈرون حملوں کا احاطہ بڑھا کر اب پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ ھنگو میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا. اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور تقریباً اتنے ہی زخمی ہوئے. یہ بات نہ جانے کس طرح میڈیا نے پتا لگا لی کہ ان میں سے شہید ہونے والوں کا جرم انکا حقانی نیٹورک سے تعلق ٹھہرا، لیکن پھر شہید اور زخمی ہونے والے طلباء کا جرم کیا تھا. اس ڈرون حملے کی مزمت تو مذہبی حلقوں اور چند سیاسی جماعتوں کی جانب سے تو آئی لیکن حکومتی ادارے اور قومی دفاع کے ادارے اب تک خاموش ہیں. یہ وہی دفاعی ادارے ہیں جو چند ہفتے پہلے ایک سیاسی جماعت کے قائد کے بیان پر پریس کانفرنس کر رہے تھے. لیکن اس حملے نے سب کے منہ پر تالے لگا دئے. سب امریکہ کے خوف کا شکار ہیں.
ایک جانب ہم اپنے ہتھیاروں کی نمائش کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ کے جان سوز حملے ہمارے لوگوں کو شہید کر رہے ہیں. اقبال نے تو کہا تھا مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی، مسلمان کو ہتھیار کی نہیں ہمت و مردانگی کی ضرورت ہوتی ہے اور افغان غریب عوام نے امریکہ کے دانت کھٹے کر کہ یہ ثابت بھی کر دیا لیکن ہم شاید ان سی.بھی گئے گزرے نکلے. کاش کہ لوگ جانتے  کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں.....
ابنِ سیّد

Wednesday, November 20, 2013

سب سے پہلے اسلام

سب سے پہلے اسلام

افسوس ہوتا ہے جب میں کسی کے منہ سے سنتا ہوں کہ "پہلے پاکستان کی فکر کرو". کیا یہ اسلامی فلسفہ ہے ؟ بالکل نہیں! اسلام تو کہتا ہے کہ امتِ مسلمہ ایک جسم ایک جسدِ واحد کی مانند ہے کہ ایک حصہ میں تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بے چین ہوجاتا ہے، یہ مفہوم ِحدیث ہے.
اگر یہی بات صحیح مان لی جائے تو پھر مسئلہ کشمیر اور اسرائیل کو نہ تسلیم کرنے پر پاکستان کے موقف کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
کیا ہم نے کبھی سوچا اگر محمد بن قاسم مظلوم مسلمانوں کی آواز پر عرب کے صحراؤں سے سندھ نہ آتا تو شاید یہاں اسلام اس طرح پنپ نہ پاتا. وہ بھی سوچ سکتا تھا کہ اس کے پاس بھی کافی مسائل ہیں، ریاست کی ذمہ داریاں  ہیں اسکے باوجود اس نے جہاد کیا اور سندھ کے مسلمانوں کو ظلم سے آزادی دلائی.
اگر ہم مصر میں ہونے والے خون خرابے پر چپ رہیں، شام کے معاملہ پر آواز نہ اٹھائیں، بنگلہ دیش اور برما کے مسلمانوں کی آواز دنیا تک نہ پہنچائیں یہ تو مسلمانیت تو کیا انسانیت کے بھی اصولوں کے خلاف ہے.
اور اگر ہم ان مسائل سے نظریں چرا لیں تو کیا پاکستان کے مسائل یک دم حل ہوجائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو یقیناً اسکا تجربہ کرنا چاہئے، لیکن ایسا نہیں! یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے تصوّر کو برحق سمجھنے والے دل میں درد رکھنے والے افراد ساری دنیا میں کہیں بھی اگر مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اسکی آواز میں آواز ملاتے ہیں اور انکی آواز کو ہر پلیٹ فارم پر اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ نہ صرف اس امّت کے نظریہ کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ ان مظلوموں کیلئے امید کی کرن ہے. شاید یہ عمل انکے زخم مندمل نہ کر سکیں لیکن مرحم کا کام ضرور دینگے!
ابنِ سیّد

Sunday, November 17, 2013

اسلامی نظام تعلیم کیوں ضروری ہے؟

ہمارے ایک نہایت ہی مشفق استاد نوجوان بھی ہیں اور معلومات کے چیمپئن بھی. کلاس میں ہر موضوع پر کھل کر بات ہوتی ہے اور تقریباً تمام طلباء ہی اظہارِ خیال اور اس بحث میں حصہ ضرور لیتے ہیں اور یہی اس کلاس کی خوبی ہے. بہرحال، کچھ دن پہلے اس ہی بحث و مباحثہ کے دوران نہ جانے کس بات پر استاد محترم نے کہا کہ میں اس کے خلاف ہوں کہ جبراً تعلیمی اداروں میں اسلامیات پڑھائی جائے. میرا اور ایک اور لڑکے کا موقف تھا کہ اول تو ایسا ہوتا نہیں جو طلباء اسلامیات نہیں پڑھنا چاہتے انکے لئے Ethics یا Ethical Studies کے نام سے مضمون موجود ہے. دوسرے اس تیزی سے بدلتی دنیا میں لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم کیلئے کچھ الگ انتظام کریں لہذا کچھ نہ ہونے سے یہ اسکول میں حاصل کردہ اسلامیات کی تعلیم  بہتر ہے. مگر سر کا کہنا تھا کہ اسلامیات نہیں بلکہ دینیات یا Ethical Studies  کو فروغ دینا چاہئے.
میں نے سر کی رائے جاننے کیلئے پوچھا کہ کیا مدارس میں کمپیوٹر (ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی علوم) کی تعلیم دی جانی چاہئے جس پر انہوں نے کا بالکل کیوں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے. اس پر میں نے کہا کہ سر اگر آپ کہتے ہیں کہ مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم جبراً ہونی چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ انجینئرنگ میڈیکل یونیورسٹیز میں اسلامیات کی تعلیم لازمی ہونی چاہئے (کمپیوٹر اگر وقت کی ضرورت ہے تو اسلامیات دنیا، معاشرے اور ایک فرد کی آخرت کی کامیابی کی ضرورت ہے).
شاید ہمارے اردگرد جو معاشرے کی تنزلی ہم دیکھ رہے ہیں وہ اس ہی وجہ سے ہے کہ ہم اچھے ڈاکٹر انجینئر اور مینیجر تو پیدا کر رہے ہیں لیکن اچھے انسان و مسلمان نہیں. یہی وجہ ہے کہ یہ انجینئر غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ہوجاتے ہیں. یہی ڈاکٹر انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں اور یہی پروفیشنلز کرپشن میں ملوث ہوجاتے ہیں. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک ایسا اسلامی نظام تعلیم مرتّب کریں جن سے گزر کر عملی زندگی میں قدم رکھنے والا ہر شخص معاشرے کے اخلاقی عروج کا باعث بنے. پھر شاید ہمیں آڈٹس اور فراڈ کنٹرول کیلئے لاکھوں خرچ کرنے کی ضرورت نہ پڑے.
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments