Tuesday, June 17, 2014

لال ٹوپی، سبز باتیں، باتیں ہی باتیں، بوجھو تو جانیں!



اعلی حضرت زید زمان حامد جنہیں عرف عام میں لال ٹوپی والی سرکاری ... اوہ! میرا مطلب لال ٹوپی والی سرکار کہتے ہیں، سنا ہے بلکہ دیکھا ہے کہ آج کل کیموفلاج ٹراؤزر اور لمبی چوٹی کا جادو چلا کر مجاہد جیسا نظر آنے کیلئے "ایڑی چوٹی" کا زور لگانے میں مصروف ہیں. موصوف کبھی گن ہاتھ میں پکڑے ہندو پلید کی جانب نشانہ باندھے 'سیلفی' بناتے پائے جاتے ہیں لیکن شاید گن کی اتنی رینج نہیں ہوتی لہذا فائر مارنے کا کام منہ سے لیتے ہیں کیوں کہ اےآروائی کی بدولت اس کی کافی رینج ہوگئی ہے. اب انکے منہ کے فائر نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا سے ہوتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ تک پہنچ جاتے ہیں. کسی اور کو نہ سہی لیکن ساتھی میزبان کو ضرور یہ فائر گزند پہنچاتے ہونگے. کہتے ہیں انکا کوئی ایک نہیں ہزاروں بچے ہیں یعنی ملک کے طول اور عرض بلکہ تمام خلیجی ریاستیں بشمول کویت عراق اور اس سے بھی آگے افریقی اور امریکی ممالک بشمول میکسیکو، بلکہ اس سے بھی آگے تمام سیارے بشمول پلوٹو نیپٹیون مارس میں لِٹِل زید حامد مناسب قیمت میں دستیاب ہیں. بعض جگہوں پر کوائن (یعنی سِکّے) ڈالنے پڑتے ہیں، پاکستان کیلئے خاص رعایت میں مفت دستیاب ہے. استعمال کرکے پھینکنے کیلئے "ڈسپوزیبل" بھی مل جائیں گے...!

ابنِ سیّد

Saturday, June 14, 2014

میڈیا : غلط رپورٹنگ کے بھیانک نتائج



کراچی ایئرپورٹ حملہ ، کیا آپ جانتے ہیں ذمہ داری کس نے قبول کی؟
عمر خراسانی نام کی ٹویٹر پروفائل نے! یہ بندہ کون ہے، اس کا ٹی ٹی پی سے کیا تعلق ہے، تعلق ہے بھی کہ نہیں، کہیں یہ جعلی پروفائل تو نہیں، یہ سب جانے بغیر اس پروفائل پر ابھرنے والے میسج کو یہ کہہ کر کہ رپورٹ کردیا جاتا ہے کہ ذمہ داری قبول کرلی گئی. کیا وہ اس کالعدم تنظیم کا ترجمان ہے؟ نہیں پھر کیوں یہ غیر ذمہ دارانہ رویّہ؟
اگلے دن پہلوان گوٹھ میں دو جرائم پیشہ گروپوں میں مسلّح تصادم ہوتا ہے، میڈیا پھر الرٹ ہوجاتا ہے، اے ایس ایف کے جوان حرکت میں آجاتے ہیں اور عمر خراسانی کی پروفائل پر لکھا آتا ہے کہ "ہم دوبارہ آگئے" اور فوراً ہی میڈیا رپورٹ کردیتا ہے کہ ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی. ویل ڈن میڈیا! !
اسلامک موومنٹ آف ازبکستان بھی اگلے روز حملے کی ذمہ داری قبول کرلیتی ہے، ہم سمجھے شاید اب میڈیا اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے کے غلط رپورٹنگ ہوئی لیکن یہاں اپنی غلطیوں کو دیکھنے اور درست کرنے کی کسے فرصت ہے، رپورٹ کردو ورنہ کوئی اور رپورٹ کردیگا، لہذا فوراً رپورٹ کردیا جاتا ہے اور چلا چلا کر دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ یہ نیوز سب سے پہلے ہم نے بریک کی... اب صحیح ہے یا غلط لیکن بریک ہم نے کردی، ذرائع معتبر ہیں یا غیر معتبر، لیکن پہلے ہم نے بریک کردی... غیر ذمہ داری کی حد ہوگئی!
بتانے کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں کسی سے ہمدردی ہے بلکہ جب بھی پاکستان میں کسی مسئلہ کو بنا تحقیق رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس کی وجوہات الگ ہی ہوتی ہیں، اور میڈیا کی اس رپورٹنگ کا نتیجہ بھیانک نکلتا ہے. سوات کی کوڑے مارنے والی جعلی ویڈیو نے بھی آپریشن کا جواز فراہم کردیا اور اس آپریشن نے پورے ملک میں اس جنگ کو پھیلا دیا. بعد میں غلط رپورٹنگ کی غلطی تسلیم کی گئی لیکن کیا لگنے والی آگ بجھ گئی؟ یہ غلط رپورٹنگ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں استعمال ہوتی رہی ہیں، اس ہی طرح کی ویڈیو امریکہ کے افغانستان پر حملے سے پہلے بھی ریلیز ہوئی تھی. اور اس ہی طرح کی غلط رپورٹنگ عراق میں کیمیاوی ہتھیار کے بارے میں بھی چلیں ...
بات دور نکل گئی، اگلے روز ہم دیکھتے ہیں ملک کے سب سے "محب وطن" چینل اےآروائی کے رپورٹر پوزیشن پر کھڑے سیکیورٹی اہلکار کے منہ میں مائیک گھسا کر سوال کرتے پائے جاتے ہیں. کیا ان کیلئے پیمرا قوانین مرتّب نہیں کرتا یا پھر محب وطنی کی اجرت میں انہیں ہر طرح کا استثنی حاصل ہے؟
میڈیا کو بہت ہی غلط پیرائے میں استعمال کرکے آپریشن کے حق میں رائے ہموار کی جارہی ہیں لیکن یہ سب کون کررہا ہے، یہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ کسی اور کو لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے حق میں نہیں کررہے کیوں کہ پاکستان کا مفاد ایک پائیدار امن میں ہے جو کہ ملک میں بندوق کے استعمال سے قائم ہوتا نظر نہیں آتا.

ابنِ سیّد

Tuesday, June 10, 2014

ہم

ہمارے لوگوں کو مارا جارہا ہے
ہمارے افراد کو سائیڈ لگایا جارہا ہے
ہمارے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے
ہم چپ نہیں بیٹھیں گے
ہم ہم ہم

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ جو ہم اور ہمارے بعض لیڈران "ہم، ہم" کی گردان کرتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں یہ "ہم" آخر ہے کیا بلا، جب یہ لفظ "ہم" استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد کون لوگ ہوتے ہیں اور جب اس "ہم" کے جواب میں دوسری جانب سے بھی کچھ اس ہی طرح کے 'ہم' سے بھرا بیان دیا جاتا ہے تو کیا یہ دونوں "ہم" ایک ہی گروہ کی جانب اشارہ ہیں یا الگ الگ ہیں.
ابتداء میں "ہم" تو ایک ہی تھے، ایک آدم (ع) اور حوّا (ع) کی اولاد، مگر پھر ہوا کچھ یوں کہ ذاتی "انا" سے "میں" نے زور پکڑا اور پھر چند "میں" نے مل کر ایک علحدہ "ہم" تشکیل دے دیا.
آئیں اپنے دین اسلام کی تعلیمات دیکھتے ہیں، اللہ کے رسول نے بھی کئی دفعہ اس ہم کا استعمال اپنی احادیث مبارکہ میں کیا مثلاً، "جس نے تعصب کا نعرہ لگایا وہ ہم میں سے نہیں" اس حدیث میں "ہم" سے مراد مسلمان ہیں، یہ ایک حدیث تمام "ہم" کی جڑیں کاٹنے کیلئے کافی ہے!

ابنِ سیّد

Saturday, June 7, 2014

تورا بورا کس کا بنا؟

Image from here
کیا منظر ہے یہ، ہوا میں گردش کرتے ہیلی کاپٹر نیچے اترتے ہیں. ایک نیٹو کا فوجی ڈبل کیبن میں بیٹھا ہے اس کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے ہیں جنہیں وہ بار بار ہاتھوں سے صاف کرتا ہے، آج وہ رہا ہونے جارہا ہے، لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کے بدلے میں مجاھدین اپنے پانچ افراد رہا کرارہے ہیں، پورے علاقے کو قریباً اٹھارہ مجاھدین نے گھیرا ہوا ہے، ہیلی کاپٹر اتر جاتا ہے اور مجاھدین کی جانب سے دو افراد امریکی فوجی کو لئے آگے بڑھے دوسری جانب سے بھی دو افراد آگے بڑھے لیکن ان کے سراپے سے گھبراہٹ عیاں ہے، اس ہی گھبراہٹ کے درمیان دونوں گروہ ہاتھ ملاتے ہیں لیکن ایک امریکی اتنا خوفزدہ ہے کہ بس اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر ہلکے سے چھوتا ہے اپنے ساتھی کو لے کر ہاتھ ہلاتے ہوئے واپس مڑ جاتے ہیں.
قیدیوں سے اچھے سلوک کی ایک اور مثال رقم ہوجاتی ہے، پانچ سال طالبان کی قید میں رہنے والا، آرام سے اپنے پاؤں پر کھڑا بھی ہے اور چل بھی رہا ہے. دوسری جانب بی بی سی، سی این این وغیرہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ قیدی کی صحت کیسی ہے. ہم دیکھتے ہیں امریکی جیل میں ڈاکٹر عافیہ، گوانتانامو کی جیل میں موجود قیدی، ابو غریب جیل کے غرباء، ان کے ساتھ جو بدتر سلوک ہوا اور جو سلوک امریکہ فوجی کے ساتھ ہوا کوئی تقابل ہے انکا... نہیں
کیا کسی نے سوچا، نائن الیون کے بعد فخر سے تنا ہوا سر لے کر امریکہ جب افغانستان میں داخل، تو یہ نوبت بھی آنی تھی. آج امریکہ خطے سے ذلیل اور رسوا ہوکر نکل رہا ہے.
پتھر کے دور میں کون پہنچا؟
تورا بورا کس کا بنا؟
افغانستان گیارہ سال مقابلہ کے بعد سر اٹھا کر کھڑا ہے اور ہم قریباً اتنے ہی سال امریکہ کی چاکری کرنے کے بعد منہ دکھانے کے قابل نہیں. تاریخ میں رقم ہوگا اس صلیبی جنگ میں غداری کا تمغہ ہم پاکستانیوں کے سر رہا! کاش ایک دہائی قبل صحیح فیصلہ کرلیتے...
ابنِ سیّد

Saturday, May 31, 2014

اب گورا ہوگا پاکستان ؟؟

زبیدہ آپا وائٹننگ سوپ، اب گورا ہوگا پاکستان! یہ اشتہار دیکھ کر ماتھا ٹھنکا، یوں لگا جیسے گورا نہ ہونا ایک جرم ہے ایک کمی ہے کہ جس سے بچنا بےحد ضروری ہے۔ ساٹھ سال ہو گئے ہمیں انگریزوں سے آزاد ہوئے لیکن گوری چمڑی کے سحر سے آزاد ہونے کیلئے شاید کافی وقت بلکہ وقت سے زیادہ ایک مثبت سوچ درکار ہے! جنید جمشید معروف کپڑوں کے صنعتکار اور ماضی کے گلوکار ہیں انہوں نے ایک دفعہ اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ایک زمانے انہوں نے میں ایک گانا بنایا تھا "گورے رنگ کا زمانہ" لیکن پھر انہیں اس غلطی کا احساس ہوا جس کے بعد انہوں نے اپنے ملک کے سانولے رنگ کے اوپر ایک گیت بنایا "سانولی سنلونی سی محبوبہ"۔ جنید جمشید نے تو اپنی غلطی سدھار لی، بلکہ آج کل الحمدللہ دعوت و تبلیغ سے وابستہ ہیں لیکن باقی افراد اپنی غلطیاں کب سدھاریں گے؟
کیا کالا ہونا اتنا بڑا جرم اور کیا یہ بہت بڑی کمی ہے؟اتنی بڑی کمی کہ اس کیلئے مختلف نیشنل اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اتنی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ لیکن اس سب اشتہاری کمپین کے دوران شاید ہی کسی نے یہ بات سوچی ہو کہ یہ اشتہارات ملک کی ایک بڑی اکثریت جو کہ سانولی اور کم رنگ کی ہیں ان کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں۔ لیکن انہیں کیا؟ انہیں تو پاکستان کی صورت میں اپنی مصنوعات کی ایک بڑی مارکیٹ ایک بڑی کھپت مل رہی ہے اور وہ اس مارکیٹ کو اپنے معاشی فائدے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
میڈیا عوام کی سوچ بناتا ہے اور عوام کے اندر پنپنے والی سوچ کو میڈیا دکھاتا ہے۔ اس کالے رنک کو ایک "کمی" بنا کر پیش کیا گیا اور اب اس کمی کو پورا کرنے کیلئے مختلف کمپنیاں سامنے ہیں۔ فیئر اینڈ لولی، اولیویا، کیئرز، وغیرہ وغیرہ۔ ان اشتہارات میں اس طرح کے منظر کشی کرنا کہ ایک لڑکی کا رشتہ اس کے گورے رنگ کی وجہ سے نہیں ہورہا پھر کوئی اس کو رنگ گورا کرنے والی کریم استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ صاحبہ استعمال کرتی ہیں اور اگلے دن اٹھتی ہیں تو گوری ہوتی ہیں (ویسے یہ اگلا دن زیادہ بتا دیا بعض تو منٹوں میں گورا کرنے کا دعوی کرتے ہیں) بہرحال اسی لمحے ایک امیرزادے کی نظر ان پر پڑتی ہے اور وہ بے دھڑک اپنی والدہ سمیت رشتہ لئے پہنچ جاتے ہیں۔ اشتہار کا اختتام شہنائیوں کی آواز پر ہوتا ہے۔ کم و بیش رنگ گورا کرنے والی ہر کریم کے اشتہارات کی یہی تھیم ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا بھی یہی المیہ ہے خواتین اپنے بیٹے کیلئے چاند جیسی گوری بہو لانے کی جدوجہد میں نہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کی دل آزاری کر گزرتی ہیں۔چاہے لڑکا دن کی روشنی میں نہ دکھائی دیتا ہوں لیکن لڑکی ایسی چاہئے جو رات کے اندھیرے کو بھی روشن کردے۔ نہ صرف شادی بلکہ دوسرے معاملات جیسے جاب وغیرہ میں بھی لڑکیوں کو شکل و صورت کا فائدہ حاصل رہتا ہے اور دوسری جانب کم رنگ اور سانولی رنگت والوں کو قابلیت ہونے کے باوجود نقصان۔
اپنی سرچ مجھے اولیویا کی ویب سائٹ تک لیگئی جہاں میں نے پاکستان بھر میں خواتین کالجز میں چلنے والی انکی مہم کے بارے میں پڑھا۔ جس میں ان کالجز کی طالبات کو اس کالے رنگ کی "بیماری" سے بچنے کے ٹوٹکے ماہر بیوٹیشنز دیتی ہیں۔ کیا سکھایا جارہا ہے؟ یہی کہ کالا رنگ تمہارے لئے ٹھیک نہیں رنگ گورا کرو تو فائدہ ہی فائدہ۔ اس سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے! اس ہی سوچ کیخلاف پڑوسی ملک بھارت میں "ڈارک اس بیوٹیفل" یعنی "گہرا رنگ خوبصورت ہے" کے نام سے ایک کمپین چلائی جارہی ہے جس میں میڈیا کو اس "رنگ کے تعصب" کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ رنگ کے حوالے سے مثبت یا غیر جابندارانہ رائے عامہ کو ہموار کیا جائے اور ایسے معاشرے کو نمونہ بنا کر پیش کیا جائے کہ جہاں پررنگ کی بنیاد پر کسی کے ساتھ ناروا سلوک روا نہ رکھا جائے اور نہ ہی رنگ کو ایک کمی یا فائدہ نہ سمجھا جائے۔ اس معاملے میں ہمارے مذہب سے اچھی تعلیمات کہیں اور نہیں ملیں گیں جہاں "کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں، فضیلت صرف تقوی کی بنیاد پر ہے" (مفہوم حدیث)

ابن سید
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments