Showing posts with label taliban. Show all posts
Showing posts with label taliban. Show all posts

Saturday, June 14, 2014

میڈیا : غلط رپورٹنگ کے بھیانک نتائج



کراچی ایئرپورٹ حملہ ، کیا آپ جانتے ہیں ذمہ داری کس نے قبول کی؟
عمر خراسانی نام کی ٹویٹر پروفائل نے! یہ بندہ کون ہے، اس کا ٹی ٹی پی سے کیا تعلق ہے، تعلق ہے بھی کہ نہیں، کہیں یہ جعلی پروفائل تو نہیں، یہ سب جانے بغیر اس پروفائل پر ابھرنے والے میسج کو یہ کہہ کر کہ رپورٹ کردیا جاتا ہے کہ ذمہ داری قبول کرلی گئی. کیا وہ اس کالعدم تنظیم کا ترجمان ہے؟ نہیں پھر کیوں یہ غیر ذمہ دارانہ رویّہ؟
اگلے دن پہلوان گوٹھ میں دو جرائم پیشہ گروپوں میں مسلّح تصادم ہوتا ہے، میڈیا پھر الرٹ ہوجاتا ہے، اے ایس ایف کے جوان حرکت میں آجاتے ہیں اور عمر خراسانی کی پروفائل پر لکھا آتا ہے کہ "ہم دوبارہ آگئے" اور فوراً ہی میڈیا رپورٹ کردیتا ہے کہ ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی. ویل ڈن میڈیا! !
اسلامک موومنٹ آف ازبکستان بھی اگلے روز حملے کی ذمہ داری قبول کرلیتی ہے، ہم سمجھے شاید اب میڈیا اپنی غلطی پر نادم ہوتا ہے کے غلط رپورٹنگ ہوئی لیکن یہاں اپنی غلطیوں کو دیکھنے اور درست کرنے کی کسے فرصت ہے، رپورٹ کردو ورنہ کوئی اور رپورٹ کردیگا، لہذا فوراً رپورٹ کردیا جاتا ہے اور چلا چلا کر دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ یہ نیوز سب سے پہلے ہم نے بریک کی... اب صحیح ہے یا غلط لیکن بریک ہم نے کردی، ذرائع معتبر ہیں یا غیر معتبر، لیکن پہلے ہم نے بریک کردی... غیر ذمہ داری کی حد ہوگئی!
بتانے کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں کسی سے ہمدردی ہے بلکہ جب بھی پاکستان میں کسی مسئلہ کو بنا تحقیق رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس کی وجوہات الگ ہی ہوتی ہیں، اور میڈیا کی اس رپورٹنگ کا نتیجہ بھیانک نکلتا ہے. سوات کی کوڑے مارنے والی جعلی ویڈیو نے بھی آپریشن کا جواز فراہم کردیا اور اس آپریشن نے پورے ملک میں اس جنگ کو پھیلا دیا. بعد میں غلط رپورٹنگ کی غلطی تسلیم کی گئی لیکن کیا لگنے والی آگ بجھ گئی؟ یہ غلط رپورٹنگ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں استعمال ہوتی رہی ہیں، اس ہی طرح کی ویڈیو امریکہ کے افغانستان پر حملے سے پہلے بھی ریلیز ہوئی تھی. اور اس ہی طرح کی غلط رپورٹنگ عراق میں کیمیاوی ہتھیار کے بارے میں بھی چلیں ...
بات دور نکل گئی، اگلے روز ہم دیکھتے ہیں ملک کے سب سے "محب وطن" چینل اےآروائی کے رپورٹر پوزیشن پر کھڑے سیکیورٹی اہلکار کے منہ میں مائیک گھسا کر سوال کرتے پائے جاتے ہیں. کیا ان کیلئے پیمرا قوانین مرتّب نہیں کرتا یا پھر محب وطنی کی اجرت میں انہیں ہر طرح کا استثنی حاصل ہے؟
میڈیا کو بہت ہی غلط پیرائے میں استعمال کرکے آپریشن کے حق میں رائے ہموار کی جارہی ہیں لیکن یہ سب کون کررہا ہے، یہ نہ ہمیں معلوم ہے نہ کسی اور کو لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے حق میں نہیں کررہے کیوں کہ پاکستان کا مفاد ایک پائیدار امن میں ہے جو کہ ملک میں بندوق کے استعمال سے قائم ہوتا نظر نہیں آتا.

ابنِ سیّد

Sunday, April 13, 2014

موجودہ ملکی حالات پر تبصرہ

تو جناب ہوا کچھ یوں کہ کچھ جماعتوں نے کہا کہ مذاکرات کرلیے جائیں، ٹھیک رہے گا. ادھر سے مذاکرات مخالف افراد نے زور لگایا دوسری جانب میڈیا نے انہیں پورا پورا سہارا دیا. مذاکرات کی کمیٹی بنی قافلہ نکلا تو پورا تھا جب منزل پر پہنچا تو صرف پروفیسر ابراہیم رہ گئے. مذاکرات کامیاب ہوگئے اور جنگ بندی ہوگئی، تعریف کے ڈونگرے پھر بھی نہ برسے، اور تعریف مانگتا بھی کون ہے اس مردِ قلندر کو تو بس قوم کیلئے امن درکار تھا سو حاصل کیا.
مذاکرات کی مخالفت کرنے والی مذہبی جماعتوں میں پیش پیش سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت، چلو ایک اچھی پیش رفت یہ کہ دونوں مسالک "ایک" ایجنڈے پر متفق ہیں (ایجنڈا کس کا ہے، یہ چھوڑ دیں) .. باقی رہ گئے اس ملک میں رہنے والے بقیہ 99 فیصد افراد تو جناب بلڈّی سویلینز کی پہلے ہی سنتا کون ہے. اب تو طالبان بھی دھماکوں کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں مذاکرات مخالف افراد اب کس بنیاد پر کریں گے مخالفت. ابھی کچھ دن جو امن کے ملے ہیں وہ مذاکرات کی ہی مرہون منّت ہیں، اسی امن کا فائدہ اٹھا کر تو "قوم کا وقار" باہر بھاگنے کے موڈ میں ہے، قوم کو چاہیے کہ "قوم کے وقار" کو باہر نہ جانے دیں،قوم کا وقار باہر چلا گیا تو پیچھے کیا رہ جائیگا؟ ٹھینگا!
بعض لوگوں نے تان اڑائی کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کا ہوگا امن. یار لوگ گنتے رہے. جمعہ جمعہ پورا مہینہ ہوگیا اور پھر جنگ بندی مزید اور عرصہ طویل ہوگئی. اب پوچھو تو جواب نہیں، کاٹو تو لہو نہیں!
وطنِ عزیز پہلے بھی نازک دور سے گزر چکا ہے، یہ دور بھی گزر جائیگا. اس ملک کے چاہنے والے ذلت پہلے بھی بھگت چکے ہیں، زخم اور سہہ لیں گے، پروا نہیں! نعرہ پھر بھی لگتا رہیگا پاکستان زندہ باد! پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ!
ابنِ سیّد

Thursday, February 6, 2014

افغانستان ہی کیوں؟

افغانستان میں ایسا کیا ہے جو اس کو دوسرے ممالک سے منفرد کرتا ہے، میدانی علاقے، پتھریلے پہاڑ، غربت، لیکن پھر بھی عالمی طاقتوں کی اس پر نظر رہی برطانیہ کے بعد رشیا اور اب امریکہ کی بربادی اسے یہاں تک لے آئی. یہ صرف اسلام اور کفر کی جنگ ہے جس کے ایک سرے پر طالبان اور دوسری جانب امریکہ کھڑا ہے اور باقی دنیا والوں کو ان میں سے ایک فریق کا ساتھ دینا ہے. افغانستان کی بنجر زمین میں امریکہ کو سوائے موت کے کیا ملا لیکن اسکے آنے کی وجہ صرف اور صرف یہاں اسلام کے لیواؤں کا ہونا ہے جو نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی باطل سے ٹکرانے اور اس کو پاش پاش کرنے پر اکساتے ہیں اور یہی بات امریکیوں کے گلے کا کانٹا ہے.
لیکن یہ بات امریکیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گلے میں بھی اٹک گئی ہے جو خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اور افغانستان میں امریکی مداخلت کو افغانستان کا ذاتی مسئلہ کہتے ہیں لیکن جب امریکہ کیساتھ یا اسکے خلاف ساتھ دینے کا سوال آتا ہے تو یہی افراد اس "اندرونی معاملہ" کو اپنے گلے کا ہار بنا کر امریکہ کی صفوں میں جا کھڑے ہوتے ہیں اور اس جنگ کو "اپنی" جنگ کہہ کر ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہیں تاکہ یو ایس ایڈ کے خزانوں سے مستفید ہو سکیں اور انکا یہی کردار ان کو سب کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، لیکن صدقے جائیں ڈھٹائی کے..
ہاں بالکل یہ ہماری جنگ ہے لیکن ہم اس میں غلط جانب کھڑے ہیں ہم صلیبی جنگ میں صلیبیوں کے شانہ بشانہ ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے. ہم نے خدا سے کئے اس عہد کی پاسداری نہ کی اور یہی وجہ ہے کہ ہم پر ذلت مسلط کردی گئی. دو بروں میں سے کم برے کا انتخاب مشکل ہوسکتا ہے لیکن ہم نے حق اور باطل واضح ہوتے ہوئے بھی باطل کا ساتھ دیا. اور اگر کوئی اسکی ذمہ داری حکمرانوں پر ڈالتا ہے تو یہ بھی سوچ لے کہ اس سب کا ذمہدار حکمرانوں کو ٹھہرانا ہماری ذمہ داری مکمل نہیں کرتا کیوں کہ حکمران بھی ہم ہی میں سے ہیں.
ابنِ سیّد

Friday, December 20, 2013

یہ دوہرا معیار کیوں؟

طالبان بے بامیان کے بے جان مجسموں کو تباہ کیا تو لبرلز چلا اٹھے یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے اقتصادی پابندیاں لگا دیں اور جیتے جاگتے لوگ بھوکے مرنے لگے لیکن شاید پتھر کہ بت ان زندہ انسانوں سے عظیم تھے.
دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے منع کرنے کے باوجود بنگلہ دیش میں عبدالقادر ملا کو پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے لیکن دنیا بھر میں سزائے موت کے خلاف شور مچانے والے لبرلز اس کیخلاف بولنے کےبجاۓ کہتے ہیں کہ اچھا ہوا مجرم مجرم ہے. عقل ہے محو تماشہ ء لب بام ابھی. ... اقوام متحدہ ایک جانب پتھر کے بتوں (ثقافتی ورثہ) کو بچانے کیلئے طالبان حکومت پر پابندی لگاتی ہے لیکن ایک انسانی جان کو بچانے کیلئے صرف قرارداد سے کام چلاتی ہے.
قرآنی آیت کا مفہوم ہے کہ ''یہ کافر اس وقت تک تم سے مطمئن نہ ہونگے جب تک تم انکے دین میں شامل نہ ہوجاؤ". یہ دنیا کے روشنخیال اس وقت تک ہم سے نالاں رہیں گے جب تک اسلام ہماری زندگیوں کا حصہ رہیگا لیکن جس دن کوئی اسلامی احکامات کو اتار پھینکے گا تو وہ ان کا منظور نظر بن جائیگا. اب یہ ہم کو فیصلہ کرنا ہے کہ اسلام کا ساتھ دینا ہے اور اللہ کو راضی کرنا ہے یا پھر دنیا کی خوشنودی کی خاطر اللہ کی ناراضگی مول لینی ہے.

ابنِ سیّد

Wednesday, November 13, 2013

کڑوا سچ بولنے پر معذرت


کڑوا سچ بولنے پر معذرت؟
(سیّد اویس مختار) 

منور حسن جواب دیں، انہیں سچ بولنے کا حق کس نے دیا اور وہ بھی اتنا بڑا اور کھرا سچ جس نے امریکہ، اسٹیبلیشمنٹ اور امریکہ نواز تمام اتّحادیوں کو ہِلا کہ رکھ دیا اور نہ صرف جھنجوڑا بلکہ انہیں حقِ نمک ادا کرنے کا فریضہ یاد دلا دیا. منور حسن جواب دیں کہ کس نے انہیں حق دیا کہ وہ یہ معاملہ اس وقت اٹھائیں جب سب اتحادی امریکہ کی گود میں بیٹھے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کے یک دم کس نے انکی کرسیوں کو ہلا دیا، جب سب جماعتیں اور حکومتی اتحادی امریکہ کی ہاں میں ہاں کو ہی کامیابی سمجھ رہے تھے تو اس وقت کس نے کہا تھا کہ کلمہِ حق کہیں!
آئی ایس پی آر کہتی ہے جواب دیں، منور حسن جواب دیں کہ انہیں کس نے حق دیا کہ کسی کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ دیں جبکہ یہ حق تو صرف آئی ایس پی آر، میڈیا اور چند سیاسی جماعتوں کہ پاس ہے. یہ حق تو صرف اس جیو چینل کہ پاس ہے جو کچھ دن پہلے ٹِکر چلاتا ہے کہ "گلشن کے علاقے میں فائرنگ ایک فرد ہلاک اور ذوالجناح شہید"، یہ حق تو ان "سچائی کہ علمبرداروں" کہ پاس ہے کہ اپنی مرضی سے شہادت کا لیبل چسپا کریں.
یہ حق تو شاید صرف ان لسانی سیاسی جماعتوں کے پاس ہے جو ہر ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے کارکن کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیتے ہیں. یہ حق تو صرف حکومتی نمائندوں کہ پاس ہے جو اسلامی قانون کو کالا قانون کہتے ہیں اور جب کوئی جذباتی انسان اس توہین کا ان سے بدلہ لیتا ہے تو جواب میں انکو شہادت کا رتبہ مل جاتا ہے.
اس طرح کے بیان سے تو پاک آرمی کے.مقصد "وار آن ٹیرر" کو ٹھیس پہنچے گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ امداد بند کردے. پھر یہ کرنل جنرل کے بڑے بڑے پروٹوکول کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا...
یہ سوال نہ اٹھتا تو نہ جانے کب تک امریکہ کی مسلط کی گئی جنگ کو ہم نہ جانے کب تک اپنی جنگ سمجھ کر لڑتے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس جنگ میں اور نیٹو سپلائی کا راستہ فراہم کرنے پر اور امریکہ کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ہم اپنے افغان مسلمان بھائیوں کے قتل عام میں مدد فراہم کر رہے ہیں. اور اس جنگ میں کام آنے والے سپاہیوں کا مستقبل کیا ہے یہ اب تک ایک سوالیہ نشان ہے کیوں کہ دونوں جانب مرنے والا مسلمان ہے اور کلمہ گو ہے دونوں جانب صدا نعرہ تکبیر کی ہی بلند ہوتی یے. اس معاملہ کو اب کسی نہ کسی کروٹ بٹھانا ہوگا، ہماری فوج اور عوام کو کھل کر امریکی امداد اور پالیسیوں کا بائیکاٹ کرنا پڑیگا.
اور معافی تو بالکل مانگنی چاہئے کہ ہمیں معاف کرو ہم اب تک اس فوج کو اسلام کا سپاہی سمجھتے رہے جبکہ صد افسوس کہ حقیقت میں یہ امریکہ کے سپاہی نکلے.

Friday, July 12, 2013

Our Policy OR American Policy - War on Terror OR War on Pakistan

This has been about a decade since the Pakistan took its first step into the War on Terror, since then Pakistan is been immersed into the mud from which it is hard to come out, but its not impossible. The below text is written inspired by a member of JI Bakhtiar Maani who speak on this topic in the national assembly a decade is now passing since this speech but this is still effective. 



11 years have passed since we are involved in war on terror, war on terror really; we are all amazed to see that why this war is not expanded to those countries which have larger part of non-Muslim community, why this war is only imposed to those countries which have above 90% Muslim population. We are not complaining to America, who we are, we are not Americans we don’t have a right to complain them, but we are Pakistanis and we have right to complain to our government and our security institutes, we must question what happened since Pakistan is a part of this so called war on terror, did the terrorism stopped? Did the drone attacks stopped? Did our economy boosted? Are we in peace? Can we move in our country with surety of our lives? No. Then what is the point to keep ourselves the part of this so called war on terror?
What is being said here is not a part of counter politics, and we don’t want to make it a part of our politics. But this must be discussed for Pakistan, for security and peace, for the lives of the people living in Pakistan. This war was begin with north western Pakistan and now each and every Pakistani is under death threat, involving our army and our soldiers they are also dying while becoming a part of this war.
It started when there was a attack which was done in a madarsa in Bajour, this was done in the Sehri time before Fajar, before the rise of the sun. Around 82 students were killed, these students include children from all age group, they were learning Quran, they were studying Quran, and some of them have learned about half of Quran while some of them have learned more of it. They were not terrorist, from among them there were 5 boys who belong to the same family, no one sends there own blood for terrorism, not all of them. We must clarify ourselves and not mix up different situations.
Then after some time it happened to have an attack in Dargai, it was at 8:30 in the morning, and there were about 35 soldiers which were killed in the start and some of them after that which makes it about a total of 42. The people rescued their own people; they were standing by side for any type of help which can be done for these injured people. After namaz e Zuhar a lot of people gathered for the funeral and prayed for those who were killed in this attack.
While some people are trying to co-relate these two incidents, no certainly not, there is no relation between the two. There is no such thing happened that some one might take revenge of Bajour incident from Dargai. These two incidents are the result of those policies on which we are acting upon. Please! Don’t make your army fight your own people and vice versa.
If we are against those who attack on madarsas we are also against those who attack on our own army, we condemn both of them. Those who were killed are the lovers of Pakistan they lived for Pakistan and they want to die for Pakistan, but sadly they don’t know that they became a victim of American policy. They didn’t knew that its Bush regime which is governing Pakistan.
Speaker, I talk about Bajour, this is said wrongly by Mr. Sher Afgan that there is no home where this attack is done. I will tell you there is are homes, there are mosques, there are people living there, if you don’t believe then we can make a committee which goes to Bajour and see at how much distance there are homes. BBC said that this madarsa is not even able to provide terrorism education to any one, it is such a small one, we can see only Quran there. You can say us criminal, but please don’t speak lies on the situations. Don’t say that they are terrorist they are students who were there to learn Quran. Please speak the truth. This attack is not done by Pakistani army (this speech was done when Pakistan took the responsibility of the drone attack by not telling the reality to own people, instead some official have said that this attack has been done by army on information that there are some terrorist which are hiding in that madarsa.) no person who have Faith in Quran can ever attack a madarsa. Because if they say that this attack has been done by American they we have to take actions against USA, certainly we can not do this so government is taking this responsibility on themselves, which is a lie.  No, this can’t be done, this matter can not be kept under files and closed, this is a matter to talk, and someone must have to answer it. I tell you, those 80 students funeral prayer has been done by the senior minister Mr Siraj Ul Haq, and he has resigned form his seat on this issue, Haroon Rasheed has also resigned from his membership of national assembly.
I know that most of the government official and parliamentarians are against this policy, even army officials are against this and want to get rid of this policy. Some said America is a so called super power, we can not take any actions against it, but till what time, we are being killed by them, we are still under attack in both the situations we have to die, then we have to choose to die in a good way, in the way which Islam tell us, not in that way in which America wants us.

I also ask our government and our army to revise this policy which is killing us each day. I know you are going that way in which you don’t even want to go, so take the right way. Revise the policy.

Thursday, October 11, 2012

Malala : A Victim of Power Fight

Few days ago Malala Yusuf Zai was shot along with her two friends all of them are badly injured, as we all expected just after this incident the famous proverb we heard again, "Taliban ne is hamlay ki zimedari qubul kerli hai" (Talibans have taken the responsibility of the attack). There is been a long debate from last few years that who are the  Talibans and why they always take responsibility of such incident, why they don' have the resources to contact the Pakistani media but they contact the international media so easily, these are the questions which make all these things mysterious and somehow confusing for an ordinary person to understand. What is the reason that Taliban have waited so many years for the right time to come, when the operation in South Waziristan is going to start.
Let's leave all that behind, lets talk about the role of the media in the whole picture. As you can read in my other blogs why media always picture those who always talk about in favor of the US. We have seen that media tried to make innocent the Aunty Shamim but later we all knew who she actually was, we seen that media cried over Mukhtara Mai but few months back we all heard that it was a drama and fake case, we seen that media shouted for the girl beaten by Taliban in Swat and media cries over that for a month but later we found out that video was also fake and was made just so that people will not react on the North Waziristan operation. Right now I am not justifying the attack on Malala, but why media was silent on the issues of Dr. Afia, why every news related to Afia is not a breaking news, why when people died on drone attack media happily broadcast that some number of terrorists are killed but never talk about how many innocents are killed.

Why the secular and liberals cry over the terrorist attack (the after effect) but never cry for the American invasion, drone attacks, US oppression (the root cause). Pakistan is now deeper than ever in the War on Terrorism (The War on Islam), and the only reason to get out of it is to say "No More" in response to the Do More attitude!

I am sad on the attack on Malala, just like I was sad on the thousands people martyred in the drone attacks, the sisters martyred in Lal masjid, Dr. Afia in american possession, if we are raising a voice, we must never make double standards!
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments