Showing posts with label economics. Show all posts
Showing posts with label economics. Show all posts

Sunday, November 3, 2013

عالمی کرپشن آرگینائیزیشن

کرپشن تمام دنیا میں ہورہی ہے لیکن پاکستان میں اس کا کافی اسکوپ ہے. کسی اور چیز میں نہ سہی کرپشن اور کرپٹ لوگوں کی پیداوار میں خودکفیل  ہو چکا ہے بلکہ اب تو ایکسپورٹ بھی کر رہے ہیں جیسے شارٹ کٹ عزیز وغیرہ.
پاکستان کی بات چھوڑیں اس کھیل میں تو باقی ممالک بھی شامل ہیں ساری دنیا سے "کالا دھن" سوئیس اکاؤنٹس میں آتا ہے، اور یہ رقم کوئی معمولی نہیں ہوتی، معمولی ہوتی تو یہاں نہ ہوتی(ظاہر ہے!) بظاہر دیکھا جائے تو ان کی کوئی خاص انڈسٹری نہیں ان کی تمام معیشیت اس ہی پیسہ پر چل رہی ہے جو تمام دنیا کے کرپٹ اشخاص وہاں جمع کراتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اس پیسہ کی اور ان کے مالکوں کی معلومات کی جان سے زیادہ حفاظت کرتے ہیں.
ورلڈ بنک کا مرکزی دفتر بھی پڑوس میں واقع ہے مگر شاید وہ دنیا کی معیشیت سمبھالنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ سوئیس اکاؤنٹ میں جھانکنے کا وقت نہیں ملتا، یا پھر وہ بھی اس کھیل میں شامل ہیں.
(ابنِ سیّد)

Sunday, May 6, 2012

Article by Muhammad Sharjeel ______ "ابلیس کی بےلباس تہذیب اور اسلام"

قصہء آدم و ابلیس جہاں بہت سے پہلوؤں سے سبق آموز ہے وہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ انسان کے ازَلی دشمن ابلیسِ لعین کا اوّلین حملہ اسکی شرم و حیا اور عفّت و عصمت پر تھا۔ گویا شیطان اوّل دن سے ہی انسان میں سے حیا کے عنصر کو ختم کر کے فحش کاموں کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس طرح ابلیس نے ہمارے والدین حضرت آدم و حوّا (علیہماالسّلام) کو جنّت کے ممنوع پھل کی طرف اکسا کر ان کو بےلباس کیا اسی طرح یہ آج بھی انسان کو بےلباس اور بے حیا کرنے کے لیئے اپنا "جہاد" کمالِ استقامت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انسان جس کی فطرت میں اللہ تعالٰی نے شرم و حیا کا عنصر رکھا ہے آج اسے شیطان نے بری طرح بےحیائی کے جال میں جکڑ لیا ہے۔ انسانیت کی عظیم اکثریت اسکی بے لباس تہذیب کو قبول کر چکی ہے۔ بلاشبہ یہ انسانیت کی فطرت کے خلاف بغاوت ہے کہ حیا جو اسکے لئے حیات تھی اِس نے آج اسے اپنی زندگی سے خارج کردیا ہے۔
لیکن وہ بات جو اس سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے وہ یہ کہ آج مسلمان جن کے دین میں حیا کو امتیازی حیثیت حاصل ہے، جن کے دین میں حیا ایمان کا حصہ ہے اور جن کہ پاس سے اگر حیا رخصت ہو جائے تو وہ ایمان کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے، آج وہی امّت اپنے عالمِ پیری کے بسبب اس ابلیسی تہذیب کی اندھی تقلید کررہی ہے۔
اس سے بڑھ کر افسوس یہ ہے کہ ہم مسلمان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس طرح مغربی اور مغرب زدہ میڈیا اور اس پر مسلّط دین بیزار افراد کے ذریعے ہمیں اس بے حیا تہذیب کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ بظاہر تو مسلمان ہیں مگراندر ہی اندر ابلیسی ایجنڈے کو پورا کر رہے ہیں۔ ان سے بھی بعض اوقات "ھمدردی" محسوس ہوتی ہے کہ ان کیلیئے اسلام ایک ایسے لباس کی مانند ہے جسے نہ یہ اتارتے ہیں کہ سرِعام رسوا نہ ہوں اور نہ اسے پورا زیبِ تن بھی نہیں کرتے کہ گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ دعوٰی تو مسلمان ہونے کا کرتے ہیں مگر اندازِمسلمانی یہ ہے کہ جب انھیں اپنی خواہشات کہ بت ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو یہ ‘خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘ اور اسلام کی من گھڑت تاویلیں کرتے ہیں۔ 
یہی حال ہے کہ جب انکو اسلام کا تصوّرِ حیا اپنی آزادی یا یوں کہیئے کہ "مادر پدر آزادی" پر "تیشہ" بن کر گرتا محسوس ہوتا ہے تو یہ اپنی تاویل کے خنجر نکال کر انکا مقابلہ کرتے ہیں ۔ انکو اسلامی تعلیمات دقیانوسی معلوم ہوتی ہیں جو ان کی نظر میں آج کے ‘جدید دور‘ میں مسفٹ ہیں۔ یا پھر کمال عیّاری سے ان تعلیمات کو عرب تہذیب کا نام دیتے ہیں جنکا اسلام سے دور دور سے تعلّق نہیں۔ لہٰذا جو عورت اپنے آپکو باحجاب کرکے شیطان کے تیروں سے بچا لیتی ہے تو انھیں وہ عورت قدامت پسند محسوس ہوتی ہے۔ اور اسکا یہ عمل انسانی مساوات کہ خلاف نظر آتا ہے۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی خواھشات کی خاطر اللہ کو بھلا دیا لہٰذا اللہ نے انھیں اپنے آپ سے بھلا دیا ہے۔ اب اگر ان سے قرآن و سنّت کے دلائل کے ساتھ گفتگو بھی کی جائے تو یہ نہیں سنتے۔
چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے برضا و خوشی اپنی خواہشات کو جنّت کے عوض اللہ کے سپرد کر دیا یے اور اسلام کو اپنا طرزِ حیات تسلیم کر لیا ہے وہ اپنی استطاعت ک مطابق ان تعلیمات پر عمل کرتے رہیں اور اپنے گھر والوں کو بھی اِن فتنوں سے بچایئں۔ جہاں تک ممکن ہو ان تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ اور اجتماعی سطح پر بے حیائی کے خاتمے کیلیئے اپنی صلاحیتوں کو اسلامی تعلیمات پر مبنی معاشرے کے قیام کےلئے وقف کریں۔ اللہ ہم سب کو اپنے دین کی طرف پلٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور حیا کو ھمارے معاشرے میں عام فرمائے-آمین!۔


Note: The writer Muhammad Sharjeel is an Islamic Activist / Social Media Activist. He loves to write on issues which have impact on environment. Owner of the Remove Immodesty from Media facebook page.

Monday, April 23, 2012

A Business Concept, Dont Give Them Fish - 2


Searching about my university, NED University of Engineering & Technology, I came across an article which was about a candidate from NED who participated in the “Karo Mumkin” competition organized by a telecom company telenor. The concept of this program was to give creative ideas which can bring a change in the lives of the people. A large number of people participated in the competition and give creative ideas, which were later uploaded on the contest website, the top ten entries were displayed which were selected by the internet poll voting.
The winner was the contestant from NED Abdul Haq Mohiuddin, the concept defined in website as:

“Abdul Haq Mohiuddin, a graduate of NED university dreams to see an educated Pakistan. This prompted him to come up with idea of each graduating student of NED giving Rs. 100 to help an under privileged child in his education. Each graduating batch of NED and if replicated by other universities would be able to donate enough money to eradicate illiteracy from Pakistan.”

Every graduate from the university after getting job will donate Rs. 100 from his salary to a fund. At least 1600 engineers pass out from NED every year, the monthly donation of Rs. 100 from each will bring about Rs. 160,000 to the fund and this fund will be used in the education of children of underprivileged areas this will bring the literacy rate up. No wonder this was a great idea, that’s why it won the first prize, the winner was selected through internet polling.
You might come across my article on this topic, about the government giving funds to the people, but not giving them opportunity to earn, which is enhancing their begging skills, but not develop then as a creator/entrepreneur. Blending the Abdul Haque’s idea and the-don’t-give-them-fish idea; I have created a new idea described as follows:
What if the graduates will combine Rs. 100 each and will open a joint stock engineering firm, the initial investment will be then Rs. 160,000, the objective of the company is that it will be able to generate each person about at least Rs. 500 per month revenue in the future, some proportion of the revenue generated from the business can be invested back and can be used to generate more business, also the 1600 people can provide facility in some parts of the organization for its betterment in the production, sales, marketing, research and development, administration. This will create more job opportunities as well. Similarly if the same initiative can be done by the students of other universities, thus hundreds of new businesses can be started, which will bring more revenue to the country, more job opportunities, more business and prosperity. This might be a long term planning but will be equally helpful to overcome the economic crisis of Pakistan and increasing the per capita income.
More elaboration, the initial revenue of Rs. 500 is expected to increase approximately to 500 rupees each month, thus it will reach Rs. 10,000 in about 20 months (1.6 year). In about 20 months an investor will be making an income of 10,000 still growing each month by Rs.500. this is because the initial investment of Rs. 100 per share holder will not stop in the first month but the investor will be investing Rs.100 each month which means a total investment of about Rs. 160,000 every month to the business.

The investment revenues hypothetical graph for the first 20 months
If you have any suggestion, comments, clarification, if you just hate or love this idea, feel free to communicate. Thanks

Syed Owais Mukhtar
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments