Sunday, November 17, 2013

جماعت اسلامی نے اس ملک کو کیا دیا؟

پچھلے کچھ دنوں سے بعض لوگوں کی جانب سے سوال آیا کہ جماعت اسلامی نے اس ملک کیلئے کیا خدمات انجام دیں. اگر یہ لوگ اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں اور اپنے ذہن کو تعاصب سے پاک کریں تو انہیں کئی مثالیں مل جائیں گی. لیکن اس کیلئے تعصب کی پٹی آنکھوں سے ہٹانا شرط ہے.
جماعت اسلامی ہی کی وجہ سے اس ملک کو اسلامی تشخص ملا. قرارداد مقاصد جس نے پاکستان کو ایک اسلامی شناخت دی اس کا سہرہ جماعت اسلامی کے سر ہی جاتا ہے. شاید کوئی اور جماعت تمام سیاسی قوتوں کو ایک ایشو پر اکھٹا نہ کر سکتی، لیکن جماعت کی محب وطن قیادت نے اس کام کو بھی سر انجام دیا.
ملک کی ضروریات اور وسائل کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے جماعت اسلامی نے ملک کے طول و عرض میں الخدمت کے نام سے فلاحی کاموں کا بیڑا اٹھایا اور اس پلیٹ فارم سے غریبوں کی مالی مدد کی، یتیموں کے لئے یتیم خانوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اسکا نظام چلایا. قدرتی آفات میں یہ جماعت اسلامی ہی ہے جو  قوم کی مدد میں ہر اول دستہ تشکیل دیتی ہے. بیواؤں کی کفالت سے لیکر غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادی کیلئے مالی مدد فراہم کرنا.
کراچی سے لے کر خیبر تک مستحق طلبا کیلئے مدارس اور اسکول کے مضبوط ادارے قائم کرنا تاکہ ہر بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنے مستقبل کو بہتر بنا کر اس ملک کے کام آسکے.
اکھتّر کی جنگ میں جب مشرقی پاکستان میں انڈیا کی ملی بھگت سے انارکی برپا ہوئی تو اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے کارکنان فوج کی مدد کیلئے 'البدر' کے نام سے ہر اول دستہ بنے، جن علاقوں میں فوج نہیں جاسکی ان علاقوں میں کاروائیاں کرکے انڈیا کی بالادستی کو کم کیا اور پاک فوج کیلئے راہ ہموار کی اور اس کوشش میں جمعیت اور جماعت کے دس ہزار سے زیادہ کارکنان نے ملک و ملت اور اسلام کی خاطر اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا. آج بھی اس ہی پاداش میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنماؤں کو سزائے موت سنائیں جارہی ہیں.
افغان جھاد میں بھی اس ہی روایت کو برقرار رکھا اور اپنے مسلمان افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ روس سے جنگ کی، اور اسکو گرم پانیوں تک نہ آنے دیا، یہ سب کچھ اسلام اور پاکستان کے دفاع کی خاطر کیا.
اس ملک میں اگر افراد کو کتاب سے شغف ہے تو اس تعلق کو برقرار رکھنے میں بھی جماعت اسلامی کا ایک بڑا کردار ہے، جماعت اسلامی پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کی جماعت ہے اور تعلیم کا فروغ جماعت کی اساس میں سے ہے.
جہاں بہت سی سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنے دامن پر جعلی ڈگری کا تمغہ سجائے ہوئے ہیں اس اندھیر نگری میں جماعت کے امیدواران روشنی کی کرن بن کر ابھرے. الیکشن میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت رہی جس کا ہر امیدوار اعلی تعلیم یافتہ تھا.
جماعت اسلامی نے سابقہ حکومت میں صوبہ سرحد کی حکومت کا نظام بہتر طور پر چلا کر اپنی اہلیت ثابت کی.
جماعت اسلامی کے نامزد کردہ سٹی ناظم جناب نعمت اللہ خان کی کراچی کو ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنانے کی کوشش کسی سے چھپی نہیں. سڑکوں اور فلائی اوور کی تعمیر، ہر علاقے میں پارک کی مخصوص جگہوں پر قیام، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام اور اس کے علاوہ کئی سو بڑے پراجیکٹس کا افتتاح اور بجٹ پاس کیا جو آنے والی سٹی گورنمنٹ نے اپنے حصہ میں لکھوالیا لیکن بہرحال شہر کراچی کی تعمیر مقصد تھی جس کو جماعت نے بااحسن وخوبی انجام کیا.
قادیانی مسئلہ ایک بہت بڑا اور پیچیدہ مسئلہ تھا جس کو جمعیت نے اٹھایا اور جماعت نے اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے ذریعہ حل کروایا، اس موقع پر ملک کی تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد بھی جماعت اسلامی نے ہی کیا.
ملکی سلامتی کے معاملات پر جماعت نے بڑے بڑے اتحاد قائم کئے.اکھتّر کے آئین پر تمام سیاسی قوتوں کو جماعت نے متحد کیا. جو قوم مختلف انداز میں بٹی ہوئی تھی اس قوم کو اور بیشتر اسلامی قوتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر متحد کیا. ملک کے دفاع کی خاطر دفاع پاکستان کونسل کے نام سے اکھٹا کیا.
اس ملک کے عوام لاکھ دوسری جماعتوں کو ووٹ دیں لیکن جب ملک کے لئے حساس معاملات میں فیصلے کرنے کا وقت آتا ہے یا جس وقت کسی ملکی معاملے میں عوام کو کسی ایک راۓ کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو رہنمائی کیلئے سب کی نگاہیں جماعت اسلامی کی قیادت کی جانب ہی اٹھتیں ہیں کیوں کہ جماعت اسلامی ووٹوں پر اور نہ ہی سیٹوں پر بلکہ اس ملک کی عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتی ہے.
جہاں اس ملک میں کرپشن کے قصے عام ہیں ان سب میں جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جس کا دامن ہر طرح کی عصبیت اور کرپشن سے پاک ہے، جماعت کے مخالفین بھی اسکا اعتراف کرتے ہیں. ..
عربی کا ایک مشہور محاورہ ہے
"والحق ماشھدت بہ الاعدآء" یعنی "سچائی تو وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے".
یہ تو چند ملکی خدمات ہیں، جماعت اسلامی ملک و ملت کی خدمت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے، شاید جماعت کی خدمات ایک کالم میں پوری نہ لکھ سکوں لیکن  اگر اس قدر تفصیل کے بعد بھی کوئی سوال کرے کہ "یہ تو ٹھیک ہے لیکن جماعت نے ملک کو کیا دیا؟" تو ایسے افراد کے سوال کا جواب ہے: "السلام علیکم و رحمتہ اللہ"

Wednesday, November 13, 2013

کڑوا سچ بولنے پر معذرت


کڑوا سچ بولنے پر معذرت؟
(سیّد اویس مختار) 

منور حسن جواب دیں، انہیں سچ بولنے کا حق کس نے دیا اور وہ بھی اتنا بڑا اور کھرا سچ جس نے امریکہ، اسٹیبلیشمنٹ اور امریکہ نواز تمام اتّحادیوں کو ہِلا کہ رکھ دیا اور نہ صرف جھنجوڑا بلکہ انہیں حقِ نمک ادا کرنے کا فریضہ یاد دلا دیا. منور حسن جواب دیں کہ کس نے انہیں حق دیا کہ وہ یہ معاملہ اس وقت اٹھائیں جب سب اتحادی امریکہ کی گود میں بیٹھے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کے یک دم کس نے انکی کرسیوں کو ہلا دیا، جب سب جماعتیں اور حکومتی اتحادی امریکہ کی ہاں میں ہاں کو ہی کامیابی سمجھ رہے تھے تو اس وقت کس نے کہا تھا کہ کلمہِ حق کہیں!
آئی ایس پی آر کہتی ہے جواب دیں، منور حسن جواب دیں کہ انہیں کس نے حق دیا کہ کسی کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ دیں جبکہ یہ حق تو صرف آئی ایس پی آر، میڈیا اور چند سیاسی جماعتوں کہ پاس ہے. یہ حق تو صرف اس جیو چینل کہ پاس ہے جو کچھ دن پہلے ٹِکر چلاتا ہے کہ "گلشن کے علاقے میں فائرنگ ایک فرد ہلاک اور ذوالجناح شہید"، یہ حق تو ان "سچائی کہ علمبرداروں" کہ پاس ہے کہ اپنی مرضی سے شہادت کا لیبل چسپا کریں.
یہ حق تو شاید صرف ان لسانی سیاسی جماعتوں کے پاس ہے جو ہر ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والے کارکن کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیتے ہیں. یہ حق تو صرف حکومتی نمائندوں کہ پاس ہے جو اسلامی قانون کو کالا قانون کہتے ہیں اور جب کوئی جذباتی انسان اس توہین کا ان سے بدلہ لیتا ہے تو جواب میں انکو شہادت کا رتبہ مل جاتا ہے.
اس طرح کے بیان سے تو پاک آرمی کے.مقصد "وار آن ٹیرر" کو ٹھیس پہنچے گی اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکہ امداد بند کردے. پھر یہ کرنل جنرل کے بڑے بڑے پروٹوکول کا خرچ کہاں سے پورا ہوگا...
یہ سوال نہ اٹھتا تو نہ جانے کب تک امریکہ کی مسلط کی گئی جنگ کو ہم نہ جانے کب تک اپنی جنگ سمجھ کر لڑتے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس جنگ میں اور نیٹو سپلائی کا راستہ فراہم کرنے پر اور امریکہ کے ہاتھ مضبوط کرنے میں ہم اپنے افغان مسلمان بھائیوں کے قتل عام میں مدد فراہم کر رہے ہیں. اور اس جنگ میں کام آنے والے سپاہیوں کا مستقبل کیا ہے یہ اب تک ایک سوالیہ نشان ہے کیوں کہ دونوں جانب مرنے والا مسلمان ہے اور کلمہ گو ہے دونوں جانب صدا نعرہ تکبیر کی ہی بلند ہوتی یے. اس معاملہ کو اب کسی نہ کسی کروٹ بٹھانا ہوگا، ہماری فوج اور عوام کو کھل کر امریکی امداد اور پالیسیوں کا بائیکاٹ کرنا پڑیگا.
اور معافی تو بالکل مانگنی چاہئے کہ ہمیں معاف کرو ہم اب تک اس فوج کو اسلام کا سپاہی سمجھتے رہے جبکہ صد افسوس کہ حقیقت میں یہ امریکہ کے سپاہی نکلے.

ناکامی کی وجوہات

ناکامی کی وجوہات
(سیّد اویس مختار) 

ایک صاحب سے کسی نے پوچھا کہ میں زندگی میں کیا کروں کونسی فیلڈ جوائن کروں اور کونسا پیشہ اپناؤں، جس پر ان صاحب نے الٹا سوال کیا کہ تم خود سے یہ سوال کرو کہ تم کیا بننا چاہتے ہو. یہ تمہاری زندگی ہے اور اس کے فیصلے اگر کوئی اور کریگا تو اس سے تم متفق نہ ہوگے، اور آگے جا کر ناکامی تمہارا مقدر بنے گی.
جب میں نے اس تھیوری کو بڑے تناظر میں دیکھا تو درست پایا. کسی بھی علاقے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کو ہی کرنا چاہیے، اگر پاکستان کے حالات سے نمٹنے کے فیصلے واشنگٹن میں ہونگے تو یقیناً وہ ناکام ہونگے. اسی طرح اگر پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں پاکستان کے اقتصادی ماہرین کے بجاۓ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک والے جنیوا میں بیٹھ کر بنائیں تو یقیناً وہ پالیسیاں ناقابل عمل ثابت ہونگی.
اگر پاکستان کے اسٹریٹیجگ اور ملٹری کے فیصلہ اگر پینٹاگون کریگا تو غلط ہی کریگا اور ظاہر سی بات ہے جو ان اداروں سے جا کر مشورے لیتا ہوگا اس کی عقل پر ماتم کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے.
صرف یہی نہیں، اگر بلوچستان اور بلوچوں کے مستقبل کے فیصلے اگر اسلام آباد کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر ہونگے تو وہ ناقابل عمل ہونگے اور انکا حقیقت پر مبنی ہونا مشکل ہے.
فاٹا کے مسائل کا حل وہاں کے رہائشی قبائلی رہنما ہی بہتر طور پر نکال سکتے ہیں اگر کوئی دانشور امپورٹ کیا جائیگا تو وہی حال ہوتا ہے جو ہم آج دیکھ رہے ہیں.
یہی ہمارے ملک کا المیہ ہے ہم نے اپنے فیصلے خود کرنے کے بجاۓ بیرونی طاقتوں سے مدد مانگی اور ان پر انحصار کرنا چاہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری ہر پالیسی جو ہم نے بیرونی طاقتوں سے مستعار لی تھی اس کو وہاں کے رہنے والوں نے مسترد کردیا اور جب ہم نے وہ پالیسیاں بزورِ قوت.نافظ کرنا چاہیں تو نہ صرف یہ کہ لوگوں نے اس کو قبول نہ کیق بلکہ بعض مواقع پر مسلّح جدوجہد شروع کردی، جس کو روکنے کیلئے مزید مسلّح طاقت کا استعمال کیا گیا نتیجہ یہ کہ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی".
آگج پاکستان جس دلدل میں دھنس چکا ہے اس کا واحد حل یہی ہے کہ عوام کو ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے ،ہم اپنے فیصلے خود کریں ورنہ نتیجہ ہم بھگت چکے ہیں مزید نقصان سے بچا جاسکے گا.

Sunday, November 3, 2013

بزدل آمر حکمران

دیکھا جائے تو مشرف تاریخ کا سب سے بزدل حکمران نکلا. ایسا حکمران جس نے ایک امریکی کال پر ملک کا سودا کیا. چلیں پرانی باتیں چھوڑیں ابھی ہی دیکھ لیں، جب اس پر ایک کے بعد ایک کیس کھلے اور اس کو موت کا چہرہ دکھا تو بھیگی بلّی بن کر کہنے لگا، "والدہ بیمار ہیں علاج کرانے باہر جانے کی اجازت دی جائے".
ایک بہادر شخص اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹتا مگر اس کا حال عجیب ہے، یہاں اس کے حامیان لال مسجد سانحہ کو درست اقدام کہہ رہے ہیں اور دوسری جانب یہ عدالت میں کہہ رہا ہے کہ میں نے آرڈر نہیں دیا. کچھ دن اور رکیں "رحم کی اپیلیں" بھی کرے گا!
کہاں گئی آل پاکستان مسلم لیگ؟ سنا ہے اس کے ارکان آج کل متحدہ میں شمولیت اختیار کررہے ہیں.
جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں بڑی عجیب بات لکھی تھی، کہتا ہے "جو شخص غلط کام کرے لوگ اس کے باپ کو برا کہتے ہیں" آج لوگ پرویز مشرف کے والد "مشرف" کو برا کہہ رہے ہیں جبکہ اسکا اصلی نام "پرویز" ہے...
(ابنِ سیّد)

عالمی کرپشن آرگینائیزیشن

کرپشن تمام دنیا میں ہورہی ہے لیکن پاکستان میں اس کا کافی اسکوپ ہے. کسی اور چیز میں نہ سہی کرپشن اور کرپٹ لوگوں کی پیداوار میں خودکفیل  ہو چکا ہے بلکہ اب تو ایکسپورٹ بھی کر رہے ہیں جیسے شارٹ کٹ عزیز وغیرہ.
پاکستان کی بات چھوڑیں اس کھیل میں تو باقی ممالک بھی شامل ہیں ساری دنیا سے "کالا دھن" سوئیس اکاؤنٹس میں آتا ہے، اور یہ رقم کوئی معمولی نہیں ہوتی، معمولی ہوتی تو یہاں نہ ہوتی(ظاہر ہے!) بظاہر دیکھا جائے تو ان کی کوئی خاص انڈسٹری نہیں ان کی تمام معیشیت اس ہی پیسہ پر چل رہی ہے جو تمام دنیا کے کرپٹ اشخاص وہاں جمع کراتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اس پیسہ کی اور ان کے مالکوں کی معلومات کی جان سے زیادہ حفاظت کرتے ہیں.
ورلڈ بنک کا مرکزی دفتر بھی پڑوس میں واقع ہے مگر شاید وہ دنیا کی معیشیت سمبھالنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ سوئیس اکاؤنٹ میں جھانکنے کا وقت نہیں ملتا، یا پھر وہ بھی اس کھیل میں شامل ہیں.
(ابنِ سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments