Showing posts with label shariah law. Show all posts
Showing posts with label shariah law. Show all posts

Wednesday, March 5, 2014

کیا آئین اسلامی ہے؟

ہر جانب شور مچ گیا، لوگ بد حواس ہیں کہ یہ کیا بحث چھیڑ دی. اتنی مشکلوں سے تو مولویوں کو اس آئین پر چپ کرایا تھا. کہیں پھر سے کوئی تحریک نہ اٹھ کھڑی ہو اس لئے ہر جانب سے بیک وقت ایک ہی صدا اٹھی، "ارے آئین تو اسلامی ہے"، اتنے جیّد علماء کے ہاتھوں تشکیل پانے والا آئین کیا غیر اسلامی ہو سکتا ہے؟ اس آئین کو تو سب مانتے ہیں، اس آئین کے حوالے سے کوئی بات مذاکرات میں نہیں ہوگی، وغیرہ وغیرہ. اور پھر ایک بڑی میڈیا کمپین صرف اس معاملے سے جڑے لوگوں اور مضطرب عوام کو تھپک تھپک کر یقین دلانے کیلئے کہ فکر کی ضرورت نہیں آئین تو اسلامی ہے!
مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے، کیا آئین اسلامی ہے؟ جناب صرف اس لئے کہ یہ آئین "اسلامی" جمہوریہ پاکستان کا آئین ہے اس بنیاد پر اسے اسلامی نہیں کہا جا سکتا. کسی عمارت کی پیشانی پر کلمہ لکھ دینے سے یا کسی عمارت کو مسجد کہنے سے یا کسی عمارت کے باہر نماز کے اوقات لکھ دینے سے وہ عمارت مسجد نہیں بن جاتی بلکہ مسجد کہلوانے کیلئے ضروری ہے کہ اس عمارت کے اندر پانچ وقت نماز باجماعت کا نظام قائم ہو.
رہا یہ سوال کہ جیّد علماء کرام کے دستخط اس آئین کے مسوّدہ پر موجود ہیں تو یہ بات قابلِ ستائش ہے کہ ان علماء کرام کی کوششوں سے قوم ایک آئین پر متفق ہوئی اور اس آئین کے اندر ان علماء کی کوششوں سے بیشتر اسلامی قوانین کو شامل کیا گیا، قرارداد مقاصد اس آئین کا حصّہ بنی. یہ بہرحال اپنی جگہ ان بزرگوں کی ایک عظیم خدمت ہے جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن کیا یہ کام مکمل ہے اور آئین مکمل اسلامی ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ اس کو مکمل اسلامی بنانے کی اب بھی ضرورت باقی ہے.
اب آتے ہیں آئین کے نفاذ کی جانب، اس آئین کو جسے کوئی نہ ماننے کا دعوی کرے تو تمام اینکرز اور پروگرامات کے شرکاء جھاگ بہاتے باتیں بنانے لگتے ہیں، کیا پاکستان کے ایک انچ پر بھی اس آئین کی عملی رٹ موجود ہے؟ بزورِ قوت اور جیٹ طیاروں کے زور پر قبائلی علاقوں میں آئین کے نفاذ کے متمنّی تو بہت ہیں لیکن دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں پارلیمنٹ میں ایک بڑی تعداد خود ان نمائندگان کی ہے جو آئین کی دفعہ باسٹھ تریسٹھ کو روند کر یہاں تک پہنچے ہیں، کئی ایک پر مقدمات قائم ہیں، شراب و شباب کی داستانیں بھی میڈیا پر آچکی ہیں، کرپشن کے اسکینڈل بھی زبان زدِعام ہیں. خود ہمارے قوم کے محافظ کئی بار بیباک انداز میں اس آئین کی نفی کرچکے ہیں. اگر دیکھا جائے تو سب سے بڑا مسئلہ اس آئین کا نفاذ نہ ہونا ہی ہے جو کہ اگر صحیح طور پر انصاف کے ساتھ کیا جائے تو اس ملک کے آدھے سے زیادہ مسائل حل ہوجائیں.
ابنِ سیّد

Wednesday, December 4, 2013

دین میں کوئی جبر نہیں



بعض لوگوں کا مذہبی بحثوں میں پہلا جملہ یہ ہوتا ہے کہ آپ ڈنڈے کے زور پر لوگوں کو اسلام کی جانب نہیں مائل کر سکتے. یہ غلط ہے وہ غلط ہے اور درپردہ اس کے بعد اس کی آڑ میں اسلامی احکامات کو لتاڑنا شروع کردیتے ہیں.
اسلام کبھی بھی اس چیز کا حمایتی نہیں رہا کہ ایک اسلامی حکومت بھی چلتی رہے اور اس کے نیچے لوگ گناہ میں مبتلا زندگیاں گزاریں. اسلام کا تصوّر حکومت وہی سسٹم ہے جہاں تمام افراد اسلامی احکامات و قوانین کی پابندی کر کے زندگی گزاریں یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ گناہ کے کاروبار بھی آباد رہیں اور اس کو آزاد خیالی کا نام دیا جائے بہرحال لیبل لگانے سے ہیئت نہیں بدل جاتی. جہاں پر شریعت کے منافی کام ہوگا اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے.
اور اسی سے بات آگے بڑھا کر لوگ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اس آیت کے مخالف قرار دے کر باطل قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں.
سب جانتے ہیں کوئی بھی معاشرہ قوانین کے بغیر نہیں چلتا اور ان قوانین کی پابندی کرانے کیلئے ایک فورس ضروری ہے. اب چاہے وہ پولیس ہو یا فوج یا ایف سی وغیرہ کام انکا قوانین کو لاگو کرانا ہے اور اگر کوئی ان قوانین کے مخالف جائے تو یقیناً اس پر الزام عائد ہوگا اور عدالت میں ثابت ہونے پر اس کو سزا دی جائیگی. یقیناً یہاں تک کسی کا اختلاف نہیں.
یہی چیز تو طالبان نے کی اقتدار انکے پاس تھا لہذا اسلامی اور قرآنی قوانین کے حساب سے جو اس کے خلاف جاتا تو اس کو اس ہی حساب سے جرم ثابت ہونے پر سزا دی جاتی. اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک ملک میں جرائم کی روک تھام اگر پولیس کرے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن جب یہی کام افغانستان میں منصبِ اقتدار پر فائز طالبان کریں تو اسے "لا اکراہ فی الدین" کے منافی گردانا جان کر اس پر جبر اور ظلم کا لیبل چسپا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے.
ابنِ سیّد
(درج بالا مضمون ایک اسلامی احکام کے بارے میں ہے، اگر اس میں کوئی بات غلط لکھ دی گئی ہے تو ضرور تصحیح فرمادیں. جزاک اللہ)

Friday, October 18, 2013

خود بدلتے نہیں قرآں بدل دیتے ہیں

زنا کی سزا میں چار گواہ اسلام کا مطالبہ ہے، قرآن کا مطالبہ  ہے یہ کسی مولوی کا فتوی نہیں قرآن کھولو تو خود مل جائیگا. لیکن باوجود اس کے جب اس مسئلہ پر بات ہوتی ہے یہ لبرل اور بعض وہ لوگ جو خود کو مسلمان کہتے ہیں یہ  بات کرتے ہیں کہ فلاں مفتی نے ایسا کہا جبکہ اس مفتی نے تو قرآن سے رہنمائی لی تھی. یہ لوگ اسلام کو کھل کر برا نہیں کہ سکتے انہیں اسلامی احکامات پسند نہیں لہذا اسکا حل انہوں نے یہ نکالا کہ جو حکم پسند نہ آئے اسکو کسی مفتی سے نتھی کرکے اس مفتی کو برا کہنا شروع کردو. جب کہ اگر خود قرآن کھولتے تو واضح آیت انکے سامنے ہوتی. یہ تو ایک مثال ہے جبکہ اطراف میں نظر دوڑائیں ہر دوسرا  بندہ آپکو علماء کی تضحیک کرتا ملیگا، وہ جو بھی وجہ بتائے مگر اکثر اوقات بات یہی ہوتی ہے کہ انکے نفس کو اسلام کا وہ حکم پسند نہیں آتا.
 خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
(ابنِ سیّد)
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments