Tuesday, September 1, 2015

میٹرک کلاس کے دو بچوں کی خودکشی ۔ لمحہ فکریہ


نوروز حامد اور صبا بشیر
 

(تحریر: ابن سید – اویس مختار)

اسکول کی سیٹ پر بکھرا خون، اسکول یونیفارم میں لاشیں، کنپٹی اور ماتھے پر گولیوں کے نشان

یا الہی، یہ تو نہ تھے ہمارے کھلونے، میٹرک کلاس کے بچوں کی خودکشی، کوئی کہہ رہا ہے انڈین فلموں کا اثر تو کوئی کہہ رہا ہے کہ فحش ناولوں  اور انٹرنیٹ کا اثر۔۔۔

مگر کب تک حقیقت کو جھٹلائیں گے؟ کب تک منہ چھپا کر ذمہ داری میڈیا اور فلموں پر ڈالیں گے

ان بچوں نے جو کچھ کیا اس کے ذمہ دار ان کے والدین ہیں، ان کے قاتل کوئی اور نہیں ان کے ماں باپ ہیں

میں انہیں برملا کیوں نہ کہوں کہ ، "سنبھال نہیں سکتے تو پیدا ہی کیوں کرتے ہو؟"

ہمیں اس بات پر سوچنا پڑیگا کیا وجہ تھی کہ بچوں نے اپنی بات اپنے والدین سے شیئر نہیں کی؟ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے خود ہی سب کچھ فیصلہ کر لیا؟ اگر انہوں نے گھر میں کچھ اس طرح کا ذکر کیا بھی تھا تو کیا وجہ تھی کہ والدین نے انہیں وہ اعتماد نہیں دیا وہ بھروسہ نہیں دیا کہ انہیں یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔۔۔

میں مانتا ہوں کہ معاشرہ خراب ہے، میڈیا خراب ہے، نوجوانوں کو جو دیگر ذرائع سے مواد میسر ہے اس میں بہت کچھ خراب ہے۔۔

مگر کیا ان تک رسائی کو روکنا والدین کی ذمہ داری نہیں؟ کیا انہیں نہیں پتا کہ ان کا بچہ کیا کر رہا ہے؟ کس سے ملتا ہے ؟ کن سرگرمیوں میں ملوث ہے؟

اگر نہیں پتا تو ان سے بڑا کوئی لاپرواہ نہیں! اور اگر پتا ہے تو ان سے بڑا بےشرم  اور ڈھیٹ کوئی نہیں!

اب یہ سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا، اس جنریشن گیپ کو ختم کرناہوگا!

والدین کو اپنی نوکری کی مصروفیات، اپنے موبائل/لیپ ٹاپ/ٹیبلٹ سے ،اپنی آپس کےلڑائی جھگڑوں سے باہر نکل کر بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینی پڑیگی۔

اور یہ تربیت، تشدد سے نہیں، پیار و محبت واور ان سے دوستی سے کرنی ہوگی۔

اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کو بچانا چاہتے ہیں تو ان کو دوست بنانا ہوگا! اب یہ قدم اٹھانا ہوگا!

 

والسلام!

ابن سید (اویس مختار)

 

Monday, August 24, 2015

پروفیشنل گداگری اور حکومتی اقدامات


پروفیشنل گداگری  اور حکومتی اقدامات
(میرا یہ فیچر آپ جسارت سنڈے میگزین کی اگست 2015 کی اشاعت میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ شکریہ)

(سید اویس مختار)

وہ اتوار کی شام تھی ہم کچھ مختلف این جی اوز کے نمائندگان اور سوشل ورکرز کراچی کے ایک معروف شاپنگ مال صائمہ مال کے فوڈ کورٹ میں جمع ہوئے، ہمارے جمع ہونے کا مقصد یہ تھا کہ نت نئے آئیڈیاز پر بات کی جائے ۔دورانِ گفتگو ہم نے اس پر بات کی کہ کس طرح جو افراد بھیک مانگتے ہیں چاہے وہ مانگنے کے عادی ہیں یا مستحق ہیں انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے، ان سے بھیک کی عادت چھڑوا کر انہیں عزت دار پیشے دلائے جائیں تاکہ وہ ایک باعزت شہری کی حیثیت سے ملک و قوم کی خدمت کرسکیں۔ اس دوران ایک دوست کی فون کال آئی وہ اُٹھا اور دور جاکر بات کرنے لگا کہ ایک ننھی منی سی بچی جس کی عمر تقریباً  سات آٹھ سال ہوگی اس کے پاس آئی اور اس کو اپنی مجبوری بیان کرنے لگی اس نےجیب سےایک نوٹ نکال کر اس کے حوالے کیا اور دوبارہ فون پر مصروف ہوگیا، کچھ دیر بعد ہمارے پاس واپس آیا اور کہنے لگا کہ ایک چیز نوٹ کرو، ہمارے پوچھنے پر بتانے لگا کہ اپنے اطراف میں ان دو ننھی منی بچیوں کی حرکات دیکھتے رہو، ہم نے دیکھنا شروع کیا، اور ان بچیوں کی پھُرتی دیکھ کر حیران رہ گئے ایک لمحہ وہ ایک ٹیبل پر دکھائی دیتیں تو دوسرے ہی لمحے وہ دوسری ٹیبل پر کسی کو اپنی مجبوری بیان کررہی ہوتی،غالباً دس سے پندرہ منٹ میں انہوں نے اندازاً پندرہ سو روپے جمع کرلئے تھے،ہم نے اندازہ لگایا کہ اگر پندرہ منٹ میں پندرہ سو روپے تو ایک گھنٹے میں تو چھے سات ہزار روپے اور اس ہی انداز میں رات گئے بارہ بجے تک محنت لگن سے کام کیا جائے تو صرف چھے گھنٹوں کی کمائی مبلغ چھتیس ہزار  بنتی ہے۔ ہم اپنی جگہوں سے اُٹھے اور چند لوگوں کے پاس جاکر سروے کیا جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ بچیاں ہر ٹیبل پر جاکر ایک ہی بات کرتیں کہ ہم نے کھانا نہیں کھایا اور ہمیں کھانے کے پیسے چاہئے کیوں کہ ایک شاپنگ مال کا فوڈ کورٹ تھا لہذا کھانے کی ضرورت بیان کرنا کسی کا بھی دل پسیجنے کیلئے کافی ہوتی ہے اور دھڑا دھڑ وہ اپنی جیبوں کے منہ ان کیلئے کھول رہے تھے۔ ابھی یہ صورتحال جاری ہی تھی کہ ایک بڑی لڑکی کی انٹری ہوئی جس کی عمر غالباً ستائیس سے تیس سال کی ہوگی اور دونوں بچیاں اس کیساتھ جاکر ناصرف بیٹھ گئیں بلکہ اپنے کارناموں کا احوال بھی سُنانے لگیں ، بس یہی وقت تھا کہ ہمارے دوستوں کا پارہ ہائی ہوگیا اور ہم اپنی ٹیبل سے اُٹھ کر ان کے پاس جا پہنچے ، وہاں جا کر ہم نے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے جس پر پہلے تو انہوں نے صاف انکار کیا کہ ہم نے کسی سے کوئی پیسے نہیں لئے لیکن ہمارے زور دینے پر اور مال کے سیکیورٹی گارڈ کو بُلانے پر اپنی سیٹ سے اُٹھ کر باہر کی جانب لپکیں لیکن ہمارے پیسے حرام کے نہیں تھے لہذا ہم نے اس سے اپنے پیسوں کا تقاضا جاری رکھا۔ اس دوران مال انتظامیہ بیچ میں آگئی اور اس نے گروپ لیڈر ، دونوں بچیوں اور ہمارے دو نمائندوں کو اپنے آفس میں بُلا لیا۔ آفس میں پہنچ کر حیرت انگیز طور پر انتظامیہ اور گروپ لیڈر کے دوران بےتکلف گفتگو جاری رہی۔اس دوران انتظامیہ نے واجبی سی سرزنش کے بعد کہا کہ اِن صاحب کے پیسے اِن کو واپس کریں  اور سیکیورٹی گارڈز سے کہا کہ ان کو نیچے چنچی تک چھوڑ آئیں ہمارے نمائندے بھی ان کیساتھ نیچے تک گئے جہاں نام نہاد چنچی دراصل ایک برانڈ نیو کلٹس گاڑی تھی!

ہم نے اس تمام واقعہ کے حوالے سے جب مختلف افراد سے رائے لی تو بیشتر افراد کا کہنا یہ تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ مال انتظامیہ بےخبر ہو ، اس قسم کے تمام معاملات میں انتظامیہ براہ راست ملوث ہوتی ہےجس کے اشیرباد کے بغیر یہ سب ہونا تقریباً ناممکن ہے، جو بھی پیسہ جمع ہوتا ہے اس کا کچھ حصہ مال انتظامیہ کو بھی جاتا ہے جس کی وجہ سے اس طرح کے گداگر گروپوں کو انتظامیہ مال میں کھُلی چھوٹ دیتی ہے۔ اس طرح کے اسپاٹ جہاں زیادہ بھیک ملنے اور زیادہ آمدنی موقع ہو اس کے باقائدہ ٹھیکےدئے جاتے ہیں ۔

جب ہم نے لوگو ں سے دریافت کیا کہ کیا حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرسکتی ہے تو لوگوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کے ذریعہ کوئی قانون پاس ہو تاکہ پیشہ ور گداگری کا مکمل سد باب کیا جاسکے۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ ہوتا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا کیوں کہ جو گروپ اس گداگری کے گھناؤنے کام میں ملوث ہیں ان کے ہاتھ مضبوط کرنے والے یہی لوگ ہیں جنہیں ہم لوگ منتخب کرکے پارلیمنٹ بھیجتے ہیں۔ایک صاحب نے اس بات کا بھی خیال ظاہر کیا کہ ، اس کاروبار میں بڑے بڑے نام شامل ہیں جن میں انڈر ورلڈ اور سیاست دان بھی ملوث ہیں، زیادہ کمائی والے بعض علاقوں کی باقائدہ خرید و فروخت ہوتی ہے۔یہ افراد جن جگہوں پر اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں ان کے سرپرست ان کی مکمل نگرانی کرتے رہتے ہیں جو کہ کسی بھی مسئلہ کی صورت میں فوراً ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور مار پیٹ سے بھی گریز نہیں کرتے، علاقہ پولیس بھی ان کے ساتھ ملی ہوتی ہے لہذا ان معاملات میں پولیس سے شکایت بھی مؤثر ثابت نہیں ہوتی۔

بعض افراد کا کہنا تھا کہ ہم نے مال میں جو کچھ کیا اس کا کوئی خاطر خوا ہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا اس لئے ہمیں اس معاملہ میں ہاتھ ڈالنا نہیں چاہئے تھا اور اگر معاملہ شروع کیا تھا تو اس کو مکمل کرنا چاہئے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مال میں موجود لوگوں کی مدد سے پولیس کو اس سارے معاملے میں شامل کیا جاتا تاکہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہوتیں اور ذمہ داران کا تعین ہوپاتا تاکہ ان کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی کی جاسکتی ، مگر چونکہ یہ سب نہ ہوسکا لہذا ان کے نزدیک یہ سب بےسود رہا۔

جہاں کچھ لوگوں نے اس جانب بات کی وہیں کچھ افراد نے بالکل ہی نئے پیرائے پر اظہار خیال کیا، ان کا کہنا تھا کہ جب حکمران ہی دوسرے ممالک کے آگے بھیک مانگیں گے تو آپ کیسے اس کلچر کو نیچے اترنے سے روک سکیں گے۔ ایک دوست نے ان الفاظ میں اظہار خیال کیا کہ، " میں نے تو حرم پاک کے عقب میں روڈ پر بھی اپنی ہی قوم کے افراد کو بھیک مانگتے دیکھا اور سارا وقت اس بات کی حسرت ہی رہی کے کسی اور قومیت کے بھکاری کی شکل دکھائی دے، اللہ ہی اس قوم کی بھوک دور کرے ، نہ تو اس کے حکمران کھا کھا کر سیر ہوئے اور نہ ہی یہ قوم"، ایک اورصاحب نے بھی کچھ ایسا ہی کہا کہ جہاں تمام سفیر اپنے اپنے درجے پر دوسرے ممالک سے بھیک مانگتے ہیں وہاں ایک انفراد ی شخص کے بھیک مانگنے پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ایک اور صاحب نے کہا کہ "وہ قوم جو خود آئی ایم ایف کے قرضے اور ڈبلیو ایچ او کے صدقے پر چلتی ہو ان کو اتنی راست گوئی زیب نہیں دیتی"۔

کوئی بھی اٹھایا گیا انفرادی قدم اس وقت تک مؤثر ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اس کو قانون کی شکل دے کر حکومت کی جناب سے نافظ نہ کیا جائے ، جیسے شادیوں میں خرچے کم کرنے کی نصیحت کی جاتی رہی لیکن جیسے ہی حکومت کی جانب سے ون ڈش کا قانون پاس ہوا سب راہ راست پر آگئے تھے بالکل اس ہی طرح شادی ہالوں کی رات بارہ بجے کے بعد بندش کا معاملہ ہے، بالکل ایسے ہی جب حکومت اس گداگری کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے گی اور اس کو ایک قانون کی شکل دے کر اس کو بزور ِقوت نافذ کرے گی اور ذمہ داران کا تعین کرکے اس پر ایکشن لے گی تو بہت ممکن ہے کہ یہ قصہ کچھ ہی عرصہ میں ماضی کا حصہ بن جائے۔

(سید اویس مختار)

Wednesday, August 5, 2015

جہیز

(میرا یہ فیچر آپ جسارت سنڈے میگزین کی 2 اگست 2015 کی اشاعت میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ شکریہ)
 
 
 
جہیز! (تحریر: سید اویس مختار)
کمپیوٹر پر مختلف آنلائن شاپنگ ویبسائٹ پر سر کھپاتے دیکھ کر بالآخر میں نے اس کا کاندھا تھپتپا کر پوچھ ہی لیا۔۔۔ "کیا تلاش رہے ہو بھائی؟" اُس نے کہا، "بیڈسیٹ اور مختلف گھریلو اشیاء۔۔۔" وجہ پوچھی تو جواب ملا: "عنقریب شادی ہے!"
"تو۔۔۔ جہیز؟" بالآخر میں نے بھی یہ سوال کرلیا۔۔۔ اس نے سکون سے میری جانب دیکھا اور کہا: "جہیز کی تو کہانی ہی نہیں کرنی یار! کیا میں اِس قابل نہیں ہوں کہ یہ چیزیں خود خرید سکوں؟"
اُس لمحے اس کی سوچ پر بہت رشک آیا۔ دل چاہا اس مرد مجاہد کو سُلوٹ پیش کروں۔ مانا یہ سوچ بہت اچھی ہے ۔۔۔ مگر افسوس اُتنی ہی نایاب ہے!!
سوچتا ہوں بڑے بزنس مین، اعلیٰ کلاس کے پروفیشنلز، پوش علاقوں میں لاکھوں کڑوڑوں روپے کے گھروں میں رہنے والوں کے پاس جب ٹرک بھر کر مانگے کے جہیز کی صورت میں ایک لعنت آتی ہوگی تو کیسا لگتا ہوگا؟ مردانگی کا تقاضا تو یہی ہے کہ چُلو بھر پانی میں ہی شرم سے ڈوب مرا جائے، مگر کم ہی ایسا ہوتا ہے!
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب قبل اَز شادی اکثر نوجوانوں (باتوں کے شیروں) سے رائے لی جائے تو جہیز کی شدید مخالفت کرتے نظر آتے ہیں مگر جب وہی جہیز جِسے لعنت سے تشبیہ دیتے نہیں تھکتے انہیں دیا جاتا ہے تو اس لعنت کو اپنے ماتھے کا جھومر بناتے انہیں شرم نہیں محسوس ہوتی۔
وہ تو پھر الگ ہی موضوع ہے جہاں جہالت کی بنیاد پر نہ صرف جہیز مانگا جاتا ہے بلکہ کم ملنے پر رشتے ریجیکٹ اور بعد از شادی لڑکی کو اذیتیں دی جاتی ہیں۔ یہ تو موضوعِ گفتگو نہیں اس وقت یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جِن کی بناء پر ایک پڑھا لکھا، اَپر مِڈل کلاس اور مالی طور پر مستحکم لڑکا جہیز لینے پر شرم محسوس نہیں کررہا؟
جب میں نے یہ سوال سماجی رابطوں کی ویبسائٹ پر اپنے دوستوں اور رابطے میں رہنےوالوں سے کیا تو میرا سامنا متفرق خیالات کے افراد سے ہوا، کئی باتیں اور جہتیں نئی پتا چلیں جنہیں آپ سے بیان کرتا چلوں۔
ہم نے صحافت سے وابستہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے چند افراد سے رابطہ کیا جن کا خیال تھا کہ ، ہمارے یہاں کچھ مڈل کلاس فیمیلیز ایسی بھی ہوتی ہیں جو اپنی بیٹیوں کو خود جہیز دینا چاہتی ہیں اور جب لڑکے یا اس کے گھر والوں کی جانب سے جہیز کے لئے منع کیا جائے تو بجائے اس کا خیرمقدم کرنے کے اُلٹا ناراض ہوجاتے ہیں جس کہ وجہ وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ " ہم کوئی گِرے پڑے لوگ نہیں نہ ہی ہماری دُختر کوئی یتیم لڑکی ہے!" اور اگر اس سب صورتحال میں لڑکا اگر اپنی جانب سے سختی کرے تو اُسے اَکھڑ مزاج اور سخت طبیعت کا سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہ دراصل ایک مائینڈ سیٹ ہے جسے تبدیل ہونے کی ضرورت ہے اور یہ کوشش دونوں خاندانوں کی جانب سے ہونی ضروری ہے۔
پیشے کے لحاظ سے صحافت سے وابستہ ایک متوسط گھرانے کے فرد نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی شادی میں اس بات پر پورا زور لگایا تھا کہ کسی بھی قسم کا جہیز نہ لیا جائے، ان کا موقف یہ تھا کہ لڑکی کو گھر والوں نے پڑھا لکھا دیا اب جبکہ وہ لڑکے کے گھر جارہی ہے توپھر اُس کی ساری ذمہ داری لڑکے کے ذمہ ہے۔ان کی کوششوں سے شادی سادگی سے ہوئی مگر اس دوران دونوں گھرانوں میں مکمل ذہنی ہم آہنگی ہونے کے باوجودسسرال "عجیب سے احساس " کا شکار رہا۔ معلوم یہ ہوتا ہےکہ ایسی تمام رسموں میں سماجی دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک فرد اس میں ملوث ہوجاتا ہے ، اور بہت بات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی سی کوشش کرنے کے بعد ہار کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا ہے ۔
جہاں کچھ افراد کی یہ رائے تھی وہیں کچھ افراد کا خیال ہے جہیز ایک لعنت نہیں بلکہ مانگ کر اور خواہش کرکے لینے والا جہیز ایک لعنت ہے۔کم اور مناسب جہیز دینا تو ہمارے پیارے نبیﷺ سے ثابت بھی ہے۔ لیکن اگر لڑکی والے ہی جہیز دینے پر بضِد ہوں تو اِس کو مجبوری سمجھ کر مان لیا جائےتاکہ سارے معاملے میں کسی کی دِل آزاری نہ ہو۔
اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا، کہتے ہیں کہ انکے ایک دوست نے اپنی پوری کوشش کرکے لڑکی والوں کو جہیزنہ دینے پر رضامند کرلیا تھا ، شادی کے کچھ دن بعد ان کے گھر ایک فریج کا پارسل آیا، بڑے حیران ہوئے کیوں کہ انہوں نے آرڈر نہیں کیا تھا خیرجب اس کو کھولا گیا تو اس پر لگی پرچی پر لکھا تھا کہ ، "خالہ کی جانب سے اپنی بھانجی کیلئے تحفہ پُرخلوص"۔جب بیگم سے دریافت کیا تو انہوں نےبھی کہہ دیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں۔اس کےبعد کیا تھاہر دوسرے دن کسی کی جانب سے تحفہ آ جاتا اور یوں دو ہفتے میں ہی جہیز پورا ہو گیا۔
جہاں کچھ افراد نے اس قسم کے واقعات سُنائے وہیں ایک دوست نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا کہ خود فرمائش کرکے جہیز کے نام پر من پسند چیزوں کا حصول اور اس کیلئےضد اور اختلاف کرکے روایتی لڑکے والے ہونے کا ثبوت دینا انکے نزدیک ایک نہایت شرمناک فعل اور سراسر ظلم ہے! غیروں کی اندھی تقلید اس رسم کو پھیلانے اور اس کو مضبوط کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ یہ ہمارے اجتماعی جاہلانہ طرز عمل کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ لڑکے والوں کی جانب سے جہیز کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے باوجود بھی لڑکی والے اپنے دِل میں نہ صرف خوف رکھتے ہیں بلکہ بہت کچھ دے دلا کر اپنی تَسلّی مکمل کرتے ہیں! اس کا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے تو لڑکا خود اپنے اندر اور اپنے گھر والوں میں شعور پیدا کرے، پھر لڑکی والوں کو یہ بات پیار سے سمجھائی جائے اور اس بات کا یقین دلایا جائے کہ جہیز نہ لینے کی وجہ سے کبھی بھی اس ازدواجی تعلق میں دراڑ نہیں ڈالی جائیگی۔لڑکی اپنے باپ کی شہزادی ہوتی ہے اور گھر والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس کو ایسے تحفے دیں جو کہ دیر پا ہوں تاکہ وہ اس کو آئندہ زندگی میں استعمال میں لا سکے، اس لئے اگر وہ اپنی خوشی سے ضروری اشیا ء دینا چاہیں تو ضرور دیں مگر اس کو شادی کا ایک اہم جُز بنا دینا یا اس سلسلے میں لڑکی والوں کو مجبور کرنا سراسر ایک ظلم ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم جہیز تو خوب دیتے ہیں مگر لڑکی کےجائیداد میں اصل حق میں ڈنڈی مار جاتے ہیں حالانکہ جہیز فرض نہیں بلکہ جائیداد میں حق دینا ایک فرض عمل ہے مگر رسم و رواج میں جکڑے معاشرے میں یہ پُکار نقار خانے میں طوطی کی آواز سمجھی جاتی ہے۔
اِن آراء سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہےکہ ایک بڑی تعداد یہ بات جانتی ہے کہ بھاری جہیز لینا اور دینا نہ صرف ایک غلط روایت ہے بلکہ یہ لڑکی والوں پر شادی کے اخراجات کے علاوہ ایک اضافی بوجھ اور رقم ہے جوکہ دینا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔اس ادراک کے باوجود اس مسئلہ کو سمجھنے اور تدارک کیلئے آج کا نوجوان کوئی ٹھوس اور عملی قدم اُٹھانے پر تیار نہیں اور نہ اس سلسلے میں کسی تلخی کو جھیلنے کیلئے راضی ہے بلکہ وہ اس رسم کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ یوں یہ روایت ہر گزرتے سال کے ساتھ نہ صرف مزید پُختہ ہوتی جارہی ہے بلکہ اس میں جدت ، نمود و نمائش ، فضول خرچی بھی جَڑ پکڑتی جارہی ہیں جس کا نتیجہ مزید مسائل کی صورت میں نکل رہا ہے۔
جب مضبوط کردار کا حامل ایک لڑکا اس بات کا عہد کرلے کہ وہ کسی بھی قبیح رسم کا حصہ نہیں بنے کا تو پھر اس کو نہ معاشرہ کی فرسودہ روایات اپنے موقف سے ہٹا سکتی ہیں اور نہ ہی کسی کی زور زبردستی ، ہاں یہ ضرور ذہن میں رکھا جائے کہ معاشرے میں اس رسم کو سُدھارنے کا بیڑا جب بھی آپ اُٹھائیں گے تو راستے میں رُکاوٹوں کا آنا ناگزیر ہے لیکن مردانگی کا ثبوت یہی ہے کہ ان تمام رُکاوٹوں کا بہادری کیساتھ مقابلہ کیا جائے۔
سید اویس مختار

Monday, July 20, 2015

عید تو بچوں کی ہوتی ہے !


عید تو بچوں کی ہوتی ہے !

تحریر: ابنِ سید (سید اویس مختار)

 

مجھے یاد ہے کہ اس دن کافی گہما گہمی تھی، سارے بچے گھروں سے باہر نکلے گلی میں کھیل کود رہےتھے سب نے صاف اور پیارے پیارے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، ہم نے بھی اچھے اچھےکپڑے پہنے  اور لگے اپنی گلی میں کھیلنے، چونکہ امی نے نئے کپڑے پہنائے تھے لہذا سختی سے تاکید کی تھی کہ کپڑے خرا ب نہ ہوں اس ہی لئے زیادہ کھیلے بِنا ہی فوراً گھر واپس آگئے۔ امی سے پوچھا کہ آج ایسا کیا ہے سب اتنا اچھا  کیوں ہے  تو امی نے بتایا کہ آج عید الفطر کا پہلا دن ہے ، دریافت کیا کہ کتنے دن ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ سب تو اگلے تین دن تک جاری رہیگا ۔۔ ۔ مگر اگلے دن اُٹھے تو سب غائب، نہ گلی میں غبارے والا تھا نہ مکئی بھننے والا، نہ ہی بچوں  کا کھیل کود اور نہ ہی گہما گہمی، یوں ہماری عید تمام ہوئی۔

ہر بچے کی طرح عید کے دن کی سب سے اچھی بات ہمیں بھی عیدی ہی لگتی تھی ، سب بڑوں سے جُھک جھک کر ملنا سر پر ہاتھ پھِروانا اور پھر ان کی جانب تقاضے سے بار بار دیکھنا ، عیدی ملتے ہی اس کو بٹوہ میں جوڑ جوڑ کر رکھنا اور پھر وقفے وقفے سے بار بار رقم گننا کہ کتنے پیسے ہوگئے ، اور پھر گننے کے بعد اپنی بہن اور دوسرے کزن سے پوچھنا کہ اُن کے پاس کتنے جمع ہوئے۔ کم ہونے پر ہاتھ ملنا اور زیادہ ہونے پر اَکڑ دِکھانا۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا کہ کم عیدی ہونے پر پوچھا پاچھی کرتے کہ کِس نے کِس کو کتنی عیدی دی تاکہ یہ بھی پتا چلتا رہے کہ کون کون عیدی دینے سے رہ گیا ۔ اور پھر وہ پیسے کئی کئی مہینے ایسے ہی سینت سینت کر رکھے جاتےیا پھر امی کے پاس رکھوا دئے جاتے تاکہ کسی خاص موقع پر استعمال کئے جائیں! اور تو اور دھوکے بازی بھی کس قدر معصوم ہوا کرتی تھی جب دیکھتے تھے کہ ہم کسی سے عیدی کی ریس میں ہار رہے ہیں تو وہ چینی سے بنے گُڑیا کے رنگ برنگے بال  ہوتے ہیں نا میٹھے میٹھے بس اس کے پیکٹ میں موجود لال نیلے نوٹ بھی اپنی ملکیت بنا لیتے اور پھر سب کو ساتھ گنتے ۔۔۔ ہاں ! مگر جب کام ختم ہوجاتا تو احتیاط سے ان پیسوں میں سے وہ پیسے الگ کر لئے جاتے جس پر "بچوں کو عید مبارک " لکھا ہوا کرتا تھا۔

کیا کبھی کسی نے محسوس کیا کہ عام دنوں میں بننے والا شیر خُرمہ کبھی وہ ذائقہ نہیں لا سکتاجو عید پر بنتا ہے، شاید یہ عید کا ذائقہ پورے ماحول میں رَچا بسا ہوتا ہے جب ہی تو عید کے کھانے اور شیرخرمہ الگ ہی مزہ لئے ہوتا ہے۔ عام دنوں میں شاید دوستوں اور رشتہ داروں سے میل ملاقات میں بھی وہ مزہ نہیں آتا جو کہ عید والے دن آتا ہے۔

عید کارڈ بھی کیا اچھی روایت تھی، پیارے سے دوست کیلئے اپنے ہاتھ سے خریدے، سجائے اور لکھے گئے عید کارڈ کا بھی الگ ہی سواد ہوا کرتا تھا۔ پہلے تو عید کارڈ کے اسٹال سے عید کارڈ کا حُصول ہی ایک بڑا مَعرکہ ہوا کرتا تھا جہاں سب بَڑے لڑکے لڑکیوں کا رَش ہو وہاں ہَماری باری نہ جانے کَب آتی، ہم ایک پیارا سارنگین کارڈ خریدتے پھر دکان دار سے اپنی مَعصومیت کا پورا فائدہ اُٹھا کر قیمت میں چند سِکے کَم کروا کر ایک شانِ بے نیازی سے واپس ہوتے، یہ معرکہ سَر کرنے کے بعد دوسرا معرکہ اس کی تزئین و آرائش ہوا کرتا تھا جو کہ پہلے سے ہی ہماری دراز میں موجود ڈھیر سارے رنگارنگ اسٹیکر زسے ہوجاتا تھا ، پھر اس پر شعر لکھنا ، اُس دور کے چند مشہور شعراء کے شعر پیشِ خدمت ہیں۔۔۔

روتے روتے نیند آگئی  - صبح اٹھ کے دیکھا تو عید آگئی

سَویاں پکی ہیں سَب نے چکھی ہیں –تُم کیوں روتے ہو ، تمہارے لئے بھی رکھی ہیں!

عید آئی ہے زَمانے میں- میرا یار گِر پڑا غُسل خانے میں

ڈَبے میں ڈبا ، ڈَبے میں کیک – میرا پیارا دوست لاکھوں میں ایک

آم کے رَس کو جوس کہتے ہیں –جو عید پر دعوت نہ دے اُسے کنجوس کہتے ہیں!

کچھ شعر میں ہم دوستوں کا نام بھی استعمال کرتے تھے جیسے۔۔۔

ڈَبے میں ڈَبا ، ڈَبے میں کیک –اویس مختار لاکھوں میں ایک (واہ! کیا حقیقت پر مبنی شعر ہے!)

 

آج پلٹ کر ماضی میں نظر دوڑائیں تو نظر آتا ہے کہ سب کچھ تو تھا ان بچپن کی عیدوں میں ہاں بس نہیں تھا تو یہ بناوٹ، تصنع، نمائش، خودغرضی! نہ اس وقت یہ فکر ہوتی تھی کہ کون سے برانڈ کا سوٹ پہننا ہے اور نہ ہی مہنگے سے مہنگے کپڑے خریدنے اور پہننے کی دوڑ تھی، آج کل تو گردن کے پچھلی جانب جھانک کر جب تک ایک دوسرے کے برانڈ کا ٹیگ نہ دیکھ لو تو شاید عید پوری نہیں سمجھی جاتی۔ اُس وقت مساجد کے لاؤڈ اسپیکر صرف اَخوت کا درس دیتے نظر آتے تھے مگر آج یہ بھی ندارد، ان دنوں عید کے سارے دن رشتہ داروں میں ملتے ملاتے گزرتے تھے، مگر آج تو عید کے دنوں میں کچھ اس طرح بےسُدھ سوتے ہیں کہ نہ کسی سے ملنے کا ہوش ہوتا ہے نہ ہی کسی بات کی پرواہ۔

اپنی بچپن کی عید جب بھی یاد کرتا ہوں تو آنکھوں سے چند آنسو نکل پڑتے ہیں، کبھی خوشی سے ان یادوں کو یاد کرکےاور کبھی اُن کے غم میں جو اَب ہم میں نہیں رہے اور ہم اپنائیت سے ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر ان سے عید ملنے سے محروم ہیں!

 

اِبنِ سید (اویس مختار)

--------------

نوٹ: اس تحریر میں جناب شعیب صفدر گُھمّن صاحب ، محترمہ نورین تبسم صاحبہ اور جناب  سعد مقصود بھائی ٹیگ ہیں۔ صاحبان اور صاحبہ سے گزارش ہے کہ  اس موضوع پر اظہار خیال کرکے اردو بلاگر میں تحریک برپا رکھیں۔ ان حضرات کو ٹیگ کرنے کا یہ بھی مقصد ہے کہ اس طرز کی سرگرمی جب شروع ہوگئی ہے تو جاری و ساری رہے۔ جزاک اللہ –ابن سید  (سید اویس مختار)

Wednesday, July 15, 2015

ایک بےنام سی تحریر


کالے آسمان ہر تارے کچھ اس طرح سے چمک رہے تھے جیسے کسی نے مخملی کپڑے پر ستارے ٹانک دئے ہوں، رات کا سناٹا گہرا ہوتا جا رہا تھا، کبھی تو ایسا لگتا کہ یہ خاموشی کہیں میرے کانوں کے پردے ہی نہ پھاڑ دے ۔۔ ماحول میں رچی بسی ٹھنڈک اور ہوا میں ہلکی سی تیزی تھی، میرے قدموں پر جب خشک پتے چُرمُرا کر احتجاج کرتے تو ایسا معلوم ہوتا کے جیسے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہوں اور یوں اس سناٹے میں اس لمحے ایک خوشگوار احساس پیدا ہو جاتا کہ جیسے میں یہاں اکیلا نہیں کوئی اور بھی میرے ساتھ ہے، مگر پھر رکتے قدم کیساتھ ہی پھر وہی سناٹا ۔۔ یہ خوشگوار لمحہ ایک قدم سے دوسرے قدم کی خاموشی کا فاصلہ طے کرتا ۔۔ مگر۔۔ آخر کب تک ۔۔ مسلسل کب تک چلوں ۔۔ مجھے رُکنا ہی پڑا ۔۔ اور رُکتے ہی پھر وہی خاموشی میرے حواس پر طاری ہونے لگی ۔۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں کسی اندھے کنویں میں گِر رہا ہوں، لمحہ بہ لمحہ نشیب کی جانب سفر کرتا ہوا میرا جسم ۔۔ پھر میں نے حالات کے دھارے پر خود کو چھوڑ دیا اور کہیں دور نشیب میں خود کے گرنے کا انتظار کرتا رہا ۔۔ مگر۔۔ انتظار ہی کرتا رہا، انتظار طویل ہوتا گیا مگر وہ فاصلہ ۔۔ وہ طے نہیں ہوا۔۔ ماحول کی پُراسراریت ہر گزرتے لمحے کیساتھ بڑھتی جارہی تھی ۔۔ ہوا میں ٹھنڈک اب خنکی کی جانب سفر شروع کرچکی تھی ۔ اندھیرا دبے پاؤں چلتا ہوا اطراف کے ماحول سے اب میرے دل پر طاری ہو رہا تھا۔ ایک انجانا سا خوف میرے رک و پے میں سرایت کرنے لگا۔۔ ۔مگر ۔۔
پھر نہ جانے کیوں ایسے لگا جیسے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہو، مجھے میرا نام لے کر پُکارنے والا یہ کون تھا، مجھے لگا یہ آواز تو میرے بالکل قریب سے آرہی ہے، برف جیسے پگھل رہی تھی، ماحول سے ٹھنڈک غائب ہو رہی تھی۔۔ میرے اطراف کی تاریکی میں جیسے چاروں طرف روشنی کی کرنیں اپنا رقص کرنے لگیں، میں نے غور کیا میں اپنے پیروں پر کھڑا ایک جانب سفر شروع کر چکا تھا، ماحول کے سناٹے کو ایک مدھم سی مسلسل آواز ختم کررہی تھی، مجھے لگا ۔۔ میں بھی شاید مسکُرانے لگا تھا۔۔

ایک بےنام سی تحریر
از اِبنِ سَیّد (اویس مختار)



Photo By Dr Scott

Tuesday, July 7, 2015

کیسا تھا میرا پہلا روزہ (خدارا نہ ٹیگو کہ مجھے نہیں یاد!)


کیسا تھا میرا پہلا روزہ  (خدارا نہ ٹیگو کہ مجھے نہیں یاد!)

 اردو بلاگران کے اندر ٹیگا ٹیگی چل رہی ہے سب اپنے اپنے پہلے روزے کا حال سُنا رہے ہیں اور پھر کسی دوسرے بلاگر کو ٹیگتے ہیں کہ وہ بھی یہ عمل دہرائے ورنہ انجام کا ذمہ دار خود ہوگا لہذا دوسری جانب سے بھی یہی حرکتیں ہوتی ہیں،ادھر ہم اس ہی شش و پنج میں ہیں کہ آیا پہلا روزہ رکھا تھا بھی کہ نہیں یا سیدھا دوسرا یا پھر تیسرا روزہ ۔ہاں! مگر اتنا ضرور یاد ہے کہ ایک دن اسکول میں شدید پیاس سے بےحال ہو کر بھاگ کر کُولر کی جانب گئے ،جی بھر کر ٹھنڈا پانی پیا اور مست ہو کر کلاس کی جانب آ رہے تھے کہ اچانک یاد آیا کہ ہمارا تو روزہ تھا،  یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ واقعہ کئی بار (بلکہ ایک ہی دن میں کئی کئی بار) ہو جاتا تھا۔ اب بھی حال یہ ہے کہ بہت سی باتیں ، یادیں اور لوگ بھول جاتے ہیں مگر روزہ یاد رہتا ہے، نہ جانے کیوں!

کئی دفعہ ایسا ہوا کہ گھر میں افطاری پر سارا سامان سجا ہوا ہے اور ہم کہیں سے باہر سے ٹہلتے ہوئے آئے اور آتے ہی کوئی چیز اُٹھا کر منہ میں ڈال لی کہ اتنے میں اَمی نے ڈانٹ کر باور کرایا کہ روزہ ہے تو لَگے گھبرا کر خوخو خاخا کرنے مگر جو پیٹ میں اُتر چکا وہ کیاخاک باہر آتا۔

شرارتی تو بچپن سے ہیں اور اب بھی ہیں، بچپن سعودی عر ب میں گزرا، پاکستان اور سعودی عرب کا  روزہ کھُلنے میں غالباًایک گھنٹے کا فرق ہوتا تھا، ایک دفعہ اَمّی دسترخوان سیٹ کرکے کچن میں پکوڑے تَل رہیں تھیں، میں نے ٹی وی کھولاپاکستان میں روزہ کھُل چکا تھا اور پی ٹی وی پر اذانِ مغرب نشر ہورہی تھی، آوز بڑھا دی، امی نے آواز سُنی تو سمجھیں شاید روزہ کھُل چکا ہے لہذا بھاگ کر آئیں اور کھجور منہ میں نہ صرف رکھی بلکہ ہمیں بھی کہا کہ روزہ کیوں نہیں کھول رہے ، ہم نے جواباً کہا کہ روزہ تو کھُلا ہی نہیں! آگے کیا ہوا، نہ پوچھئے!

تراویح کا پورا وقت باہر ہی گزرتا تھا، چاہے تراویح پڑھیں یا نہ پڑھیں، یعنی شیڈیول کچھ یوں ہوتا تھا کہ عشاء کی نماز ہوئی اور ہم فرض پڑھ کر باہر آ گئے ، اب دوستوں کے پاس گئے کبھی فٹبال کھیلا کبھی کچھ اور کھیل کھیلا یہاں تک کہ نماز وتر کا وقت ہوگیا تو بھاگم بھاگ واپس آئے وتر ادا کی اور گھر کو چل دئے! یوں ہم ایک بھی تراویح نہیں چھوڑتے تھے ! بچپن میں کسی طرح پتا چل گیا کہ تراویح نفل ہے لہذا اس کی طرف سے غفلت برت جاتے تھے۔

سال تو مجھے یاد نہیں ، ہاں اتنا یاد ہے کہ پہلے سال تین روزے، دوسرے سال دس روزے اور پھر تیسرے سال الحمدللہ پورے روزے رکھے اور یوں روزے باقائدگی سے رکھنے شروع کئے۔ سحری روزے افطار اور تراویح ایک ساتھ ہی رکھتے تھے، یعنی یہ شغل بھی ہوا کہ جس دن روزہ نہیں اس دن نہ سحری کی نہ افطار کیا اور نہ ہی تراویح ۔۔۔

اتنا ضرور یاد ہے کہ دوسرے لڑکوں سے پہلے ہی روزہ رکھا کیوں کہ جب ہمارا پہلے پہل کا روزہ تھا اس وقت باقی سب کھا پی رہے ہوتے تھے لہذا یہی قیاس ہے کہ ہم نے عمر سے پہلے روزہ شروع کردیا تھا۔

ا س سب کے باوجود آج جب مُڑ کر ماضی میں جھانکتا ہوں تو نہ جانے کیوں وہ اپنا معصوم ساروزہ اور تراویح بہت پیاری نظر آتی ہے۔ گردش ایام اور دنیا کی بھاگ دوڑ ، معاش کی ریس نے اس بہت مصروف کردیا کہ سحری میں آنکھ کھُلنے کے وقت بھی بدن ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور رات سونے سے قبل بھی ۔بس جب امی کی آواز سحری کے وقت کانوں میں آتی ہے ، "اویس! اُٹھ جاؤ وقت ہوگیا "، تو نہ جانے کیوں دل یہ کرتا ہے کہ جب اویس اُٹھے تو وہی ننھا مُنا سا پلنگ سے چھلانگ مارتا ہوا، جلدی جلدی سحری کرتا اور نمازِ فجر کے لئے بھاگتا ہوا۔۔۔اے کاش!

 
ابنِ سید (اویس مختار)

اس پوسٹ میں میں زید عفّان، ذہین احمق آبادی اور تفہیم احمد (تفہیمِ سحر) کو ٹیگ کررہا ہوں، اب آپ حضرات اپنا احوال سنائیں!

Photo By: Nasir Khan

Thursday, June 25, 2015

یہ لوگ ہیں ذرا ہٹ کے!

یہ لوگ ہیں ذرا ہٹ کے!
تحریر: سید اویس مختار (ابن سید)
(یہ تحریر آپ ایکپریس نیوز کے بلاگز صفحہ پر یہاں ملاحضہ کرسکتے ہیں)

ہر جانب ہر کوئی دوڑتا بھاگتا دکھائی دیتا ہے، بائیکس جو زن زن کی آواز کرتیں گیٹ سے اندر داخل ہورہی ہوں یا پھر گاڑیاں جن کے چرچراتے بریک یونیورسٹی کی پاکنگ میں دھول اڑاتے ہوئے، پھر ان میں سے نکلتے سپوت، کلاسوں کی جانب بھاگتے دوسری جانب اساتذہ کی کلاسوں کی جانب دوڑ، پھر کلاس کے اندر "سب سے پہلے" سبق ختم کروانے کی دوڑ، پچاس منٹ کی اس کلاس میں ہم نے یہ سیکھا کہ فلاں پرابلم جو کہ فلاں سائنسدان نے فلاں وقت حل کی تھی، اس کو آج ہم بالکل اس ہی طرح سے دوبارہ حل کریں گے! کارنامہ! دن کا اختتام اس بات پر ہو کہ کس نے کتنے ریاضی کے سوال حل کئے تو کس نے "کتنے صفحات" پر مشتمل جوب لکھا۔ یہ پرچوں ، سوالوں، جوابوں کی گنتی میں کس کے پاس وقت ہے کہ سوچے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس سے دنیا میں کیا تبدیل ہونا ہے؟
آئین اسٹائن ، ایڈیسن، رائٹ برادران، ابن الہیثم، البیرونی، یہ لوگ زیادہ نمبر اور نصاب مکمل کرنے کی بھاگ دوڑ کا حصہ نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اپنے خیالات کا محور دنیا میں مثبت تبدیلی کو بنایا۔ کچھ ہٹ کر کرنے کو بنایا۔
میں کلاس میں داخل ہوتا ہوں، استادِ محترم تیز رفتار میں سبق ختم کرانے کی دھُن میں مگن، تو دوسری جانب طلباء اس سبق کو ویسے کا ویسا اُتارنے میں مگن ہیں، کسی میں اتنا دم اور وقت نہیں کہ سَر اُٹھا کر دیکھ لے، سب کو دھڑکا لگا ہوا ہے کہ اِدھر دیکھا تو اُدھر دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ جاؤنگا، کوئی سوال بھی پوچھتا ہے تو وہ بھی ان حدود میں رہ کر جن حدود کی اس کو اجازت ملی ہے اس سے آگے کا سوچنا تو جیسے نری بیوقوفی ہے۔۔۔!
اساتذہ کو جانچا جاتا ہے کہ کس نے کون سا سبق کتنا جلدی ختم کیا، تو طلباء کو جانچا جاتا ہے کہ کس نے کتنا یاد کیا اور کتنے فیصد نمبر لئے۔۔ لیکن اس بھاگ دوڑ سے دور ایک فرقہ ان لوگوں کا بھی ہے، کہ ۔۔
جو جب چاہتے ہیں پڑھتے ہیں، جو چاہتے ہیں پڑھتے ہیں، کوئی مخصوص نصاب ان کے سامنے حَد بنا کر کھڑا نہیں ہوتا نہ ہی امتحانات کی ڈیڈلائن اور نمبر کی دوڑ ان کو اُنکے مقصد سے ہٹا پاتی ہے، یہ جتنا چاہتے ہیں اپنی تحقیق میں ڈوب جاتے ہیں لوگ انہیں دیکھ کر پاگل مجنوں اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔۔۔ مگر ۔۔۔ یہی تو وہ فرقہ ہے جو دنیا میں تبدیلی لاتا ہے، البیرونی، ابن الہیثم، رایٹ برادران ان میں سے ہی نکلتے ہیں! تو اگر تم بھی دنیا میں کچھ کرنا چاہو تو کچھ الگ کرو، کچھ ہٹ کے کرو! اس "زیادہ نمبروں"، "سب سے پہلے"، "مکمل سبق"، "محدود نصاب" سے آگے بڑھ کر سوچوں۔ کیوں کہ شاہیں جتنا زیادہ ہوا کے مخالف اُڑتا ہے اتنا ہی زیادہ اونچا پرواز کرتا ہے!

سید اویس مختار (ابن سید)

 

Saturday, June 20, 2015

انٹرنیٹ دوستی کے مضر اثرات

انٹرنیٹ دوستی کے مضر اثرات
(آپ میرا یہ بلاگ "ایکسپریس نیوز بلاگ" میں یہاں ملاحضہ کرسکتے ہیں)

 کچھ دن قبل نوجوانوں کی جانب سے منعقد کردہ ایک ٹیلنٹ شو میں جانا ہوا، نوجوانوں نے جم کر اپنے ٹیلنٹ کا مظاہرہ کیا۔ موسیقی، ڈانس، مزاح، ماڈلنگ، اس ہی شو میں ایک تقریری سیشن بھی تھا، رحیم اللہ یوسف زئی جو کہ ماس کمیونیکیشن کے طالبعلم ہیں نے انٹرنیٹ پر نوجوان لڑکے لڑکیوں کی باہم دوستی کے مُضر اثرات پر ایک نہایت پیاری تقریر کی، تقریر کے الفاظ میرے ذہن میں اترتے جارہے تھے، مجھے وہ دور یاد آنے لگا جب میں نَیا نیا انٹرنیٹ کی اس دنیا میں داخل ہوا تھا۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا جب ایم آئی آر سی، آئی سی کیو اور ایم ایس این میسنجر استعمال ہوا کرتا تھا۔ فیس بُک کی طرح اس میں تصویر، ٹائم لائن، دوستی، وغیرہ کا آپشن نہیں ہوتا تھا (یاد رہے میں کافی پرانا یوزر ہوں) لہذا دوستیاں بنانے کیلئے آپ کو ساری محنت خود ہی کرنی پڑتی تھی، سب سے پہلے تو جس سے بات کرنی ہے اس کا ایمیل ایڈریس معلوم کرنا ہی بہت بڑا معرکہ ہوا کرتا تھا، اس چکر میں کبھی کسی اور کا ایمیل ایڈریس ہاتھ لگ جاتا، کبھی دوست احباب آپ کو غلط ایڈریس پکڑا دیتے اور آپ مہینوں بیوقوف بنتے رہتے، اس حوالے سے مجھے ایک مزیدار قصہ یاد ہے جس کا مرکزی کردار میں خود ہوں، ہوا یوں کہ ایک دوست (میری فرینڈ لِسٹ میں ابھی بھی ایڈ ہیں) نے ہماری ایک کلاس فیلو کا ایمیل ایڈریس مانگا جس سے ہماری کافی دوستی تھی، یوں تو ہم خدائی خدمتگار تھے لیکن اس دن دل نے شرارت پر لَلچایا تو ایک الگ ایمیل ایڈریس بنا کر اُن کو تَھما دیا۔ فیک پروفائل تو آج کے فیس بُکی دور کی پیداوار ہیں ہم تو فیک ایمیل کے دور کے ہیں۔ خیر ہمارے دوست صاحب نے خوشی خوشی چیٹ شروع کردی، اِدھر ہم نے ان کو پندرہ دِن تک چکر دینے کے بعد ان سے پھول کی فرمائش کردی وہ بھی عین چھٹی کے وقت جب گیٹ کے پاس کافی رَش ہوتا ہے، موصوف نے اگلے ہی دن لال گلاب ہاتھ میں پکڑا اور ہماری اُن دوست کے پاس آدھمکے۔۔۔ آگے کی کہانی یہ ہے کہ کافی دن ناراض رہے، لیکن دوست تھے آخر جاتے بھی کدھر۔۔۔
تو میں کہہ رہا تھا کہ پہلا مرحلہ ایمیل ایڈریس کا معلوم ہونا اور پھر بات چیت کی شروعات، فیس بُک کی طرح اس وقت ایم ایس این میں تصویر کا آپشن نہیں ہوا کرتا تھا، نہ ہی فائل ٹرانسفر ہوا کرتی تھی (یا پھر انٹرنیٹ سروس کی جانب سے فائل ٹرانسفر بلاک ہوتی تھی) خیر۔۔ پھر تصاویر کا تبادلہ ہوا کرتا تھا اور پھر تان فون نمبر پر آکر ٹوٹتی۔۔ پھر وہی فون پر باتیں ۔۔ اور بالآخر زندگیوں کا تباہ ہونا۔۔۔ آپ بولیں گے کہ اویس کس قدر بےتُکا ہے، اتنی اچھی کہانی لکھتے لکھتے اپنا مولوی پن نہیں چھپا سکا۔
لیکن حقیقت یہی ہے، نیو ملینیئم کی شروعات تھی، پاکستان میں انٹرنیٹ کا ابتدائی دور تھا اور پاکستان میں اخبارات اس ہی قسم کی کہانیوں سے بھرے ہوتے تھے کبھی خبر آتی کے کسی نے کسی لڑکی سے دوستی کے لارے دے کر اس کو سارے عالم میں بدنام کیا گیا، تو کبھی انسانی درندوں نے کسی کے ساتھ عزت کے کھلواڑ کی ویڈیو بنا کر عرصہ دراز تک اس کو بلیک میلنگ کا شکار بنایا۔۔۔ اور پھر وہ پاکستانی ہیکرز کا کارنامہ جس میں نواز دور میں چند نوجوانوں کو گرفتار کرکے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، پورے ملک کی جو بدنامی ہوئی وہ الگ۔ غرض انٹرنیٹ کے حوالے سے ہونہی چند یادیں آج یاد آرہی تھی اور پھر یادوں کا سلسلہ جب طویل اور پھر تلخ ہوتا گیا تو اس کو صفحہ قرطاس پر اُنڈیل دیا۔۔
آج، درندے بھی وہی ہیں، طریقے بھی وہی ہیں، مگر اب کی بار ان کے ہتھیار تبدیل ہوچکے ہیں، یہ ہتھیار مزید جدید ہوچکے ہیں۔ اب ایم ایس این کی بجائے فیس بُک اور ٹویٹر جس میں آپ کی پرسنل پروفائل جسے جس قدر بھی محفوظ بنایا جائے غیر محفوظ ہی رہتی ہے۔ آپ کون ہیں، کیا ہیں، کیا کرتے ہیں، کون کون آپ کے دوست ہیں، آپ کیا "لائیک" کرتے ہیں۔ سب آپ کی پرفائل پر موجود ہے۔ اگر آپ اس جدید ٹیکنالوجی کا مفید استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یقیناً اس حوالے سے بہت سے مفید آپشن موجود ہیں، اور اگر آپ اس کے غلط استعمال کیساتھ ان ہی بھیڑیوں کا شکار بننا چاہتے ہیں تب بھی آپ کے سامنے تمام راستے عیاں ہیں، فرق صرف ہے تو اس بات کا کہ آپ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں!

ابنِ سید (سید اویس مختار)

Monday, June 15, 2015

دوڑو اُن جنتوں کی جانب۔۔۔


ڈھاکہ جیل کی کال کوٹھری ہے، آج ایک "مجرم" کو پھانسی کی سزا دی جانی ہے، پہرے دار اس شخص کو لینے آتے ہیں، کہ پھانسی گھاٹ کی جانب لے جائیں۔۔ پھانسی کا وقت ہو چکا ہے۔۔۔

کیا آپ اس شخص کی کیفیت کا اندازہ کرسکتے ہیں؟ دنیا جانتی ہے کہ جب بھی ایک مجرم کو پھانسی کیلئے لے جایا جاتا ہے تو اس کی حالت غیر ہو جاتی ہے، اول فول بکنا شروع ہو جاتے ہیں، غش کھا کر گر جاتے ہیں، بیہوشی طاری ہوجاتی ہے، نڈھال! بہت سوں کو اسٹریچر پر لاد کر پھانسی گھاٹ تک لایا جاتا ہے، کسی کے اوسان باقی ہوں تب بھی اپنے قدموں نہیں چل سکتا! یہاں تک کہ ایک ہاتھ کسی ایک کے کاندھے پر، دوسرا ہاتھ کسی اور کے کاندھے پر، پاؤں گھسٹتے ہوئے، لاد کر پھانسی کے پھندے تک پہنچایا جاتا ہے ۔۔ مگر۔۔

مگر یہ قیدی جو اس وقت کال کوٹھری میں موت کا انتظار کررہا تھا، قرآن کی تلاوت میں مشغول، جب پہرے داروں نے دروازہ کھولا تو اپنے قدموں کھڑا ہوا، لبوں پر قرآن کی سورتیں جاری، تیز تیز قدموں سے یوں مانو جیسے پھانسی کے پھندے کی جانب دوڑ رہا ہو، پہرے داروں کے لئے تو یہ ایک نئی بات تھی، ذرا سی دیر میں یہ واقعہ انٹرنیشنل میڈیا کو بھی پتا لگ گیا، پہرے دار اتنی جلدی، سُرعت، تیزی کی وجہ پوچھتے ہیں۔۔۔

جواب ملتا ہے: "مجھے تو اس پھانسی کے پھندے سے جنّت کی خوشبو آتی ہے، میں تو اس ہی جنت کا طلبگار ہوں، جب ہی تو جلد سے جلد اس کی جانب جارہا ہوں!"

جانتے ہو یہ قیدی کون تھا؟ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما جناب قمر الزماں، جنہیں اکھتر کی جنگ میں پاکستان آرمی کا ساتھ دینے اور ملک کو دو لخت ہونے سے بچانے کی پاداش میں موت کی سزا دی گئی! اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے! آمین!


ابن سید

Saturday, June 6, 2015

ایک سوال کی کہانی: آپ کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے؟

کچھ عرصہ قبل ایک جگہ انٹرویو دینے کا اتفاق ہوا، بڑا گروپ تھا، انٹرویو پینل میں کمپنی سی ای او بذات خود، ایچ آر ہیڈ اور ٹیکنیکل ہیڈ موجود تھے، کافی دیر میٹنگ چلتی رہی، (یہ اچھا لگا کہ، انٹرویو کو انہوں نے میٹنگ کا نام دیا تھا) ، بہت سے سوالات جوابات کا تبادلہ ہوا، خیر ۔۔ انہوں نے میرے سی وی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا، آپ نے لکھا ہے کہ "سوشل ایکٹیوسٹ" تو کیا اپنے سوشل ورک کے بارے میں بتائیں گے؟ میں نے ٹی سی ایف اور بیٹھک اسکول نیٹ میں سوشل ورک کا تجربہ بتایا، کہ ہم کیسے کام کرتے تھے اور کس حوالے سے کرتے تھے۔۔۔
کچھ دیر رُک کر کہنے لگے "کیا آپ کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہے؟" میں نے کچھ لمحے مسکرا کر کہا، "بالکل ہے!" پوچھا "کون سی جماعت؟"، میں نے کہا، "جماعت اسلامی" مسکرانے لگے اور کہنے لگے، "آپ کو یہ بتاتے ہوئے جھجک نہیں ہوئی کہ کیا پتا میں کس سیاسی جماعت کا ہوں اور انٹرویو پر اس کا اثر ٹھیک نہ پڑے۔۔۔"
میں نے کہا، "سر دنیا بہت تیز ہو چکی ہے، اگر ابھی میں آپ کو اپنا سیاسی حوالہ نہ دوں اور بعد ازاں آپ گوگل میں میرا نام لکھ کر دیکھیں، تو آپ کو میری تصاویر کیساتھ میری جماعت کے حق میں تحریریں سامنے آئیں گی، دوسری بات، میرا دل مطمئن رہے گا کہ میں نے انٹرویو سچ کے سہارے دیا اور یہ جاب جھوٹ کی بناء پر حاصل نہیں کی، سِمپَل!"
اس جاب کے لئے میں eligible ٹھہروں یا نہیں، سیلیکٹ ہوں یا ریجیکٹ، وہ تو سب بعد کی باتیں ہیں، لیکن گھر واپسی پر پورا راستہ ایک مطمئن سی مسکراہٹ میرے چہرے پر تھی۔ آخر کو ہم سب جو بھی کرتے ہیں دل کے اطمینان و سکون کے لئے ہی تو کرتے ہیں، دل کا اطمینان ہی نہ ہو تو کیا فائدہ ایسے عمل کا۔۔۔
میرا احباب کو بھی مشورہ یہی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو، کبھی اپنے جماعت سے تعلق کے حوالے سے گھبرائیں اور شرمائیں نہیں، اس میں بات ٹالنے یا بدلنے کی بات ہی نہیں، ہو سکتا ہے آپ جسے انٹرویو سے رہے ہوں وہ خود آپ کو ذاتی طور پر جانتا ہو تو اس کا یقیناً impact ٹھیک نہیں ہوگا، باقی رہی نوکری وغیرہ کی بات تو رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، یہ ہمارا ایمان ہے۔

ابنِ سید

Wednesday, May 13, 2015

آنکھیں


آنکھیں (تحریر: ابنِ سیّد)

کچھ زیادہ خاص نہیں، اور نہ ہی اس دن کوئی خاص بات تھی، وہ گھر سے نکلا، وہی معمول کی تیاری، بال سنوارتا، ہاں مگر آج اس کی آنکھوں پر ایک کالا چشمہ چمک رہا تھا، چلتے چلتے اُسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کا تعاقب کررہا ہے، مگر ۔۔۔ پھر وہ بےپرواہ سا ہوکر چلنے لگا۔۔ اپنی دھُن میں مگن ۔۔۔

بَس میں بیٹھتے ہی اس کو اپنے تعاقب کرنے والے کا پتا چل گیا۔۔۔ وہ نقاب سے جھانکتی ہوئی دو آنکھیں، ایک لمحہ۔۔ یا شاید اس سے بھی کم اُن کی نظریں ملیں اور ۔۔ ایک شرم و حیا کا پیکر۔۔ وہ دونوں ہی گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگے ۔۔ ان کے لئے بہت بڑآ جرم تھا یہ ۔۔

نہ جانے کیوں وہ زیرِ لب مسکرانے لگا، اس کا انداز ۔۔۔ اس کی ادا، سب کچھ جیسے اس لمحے میں بدل سی گئی تھی ۔۔ اپنا رُخ تبدیل کرکے اس جانب بیٹھنا جہاں سے اس کے سائیڈ پوز پر وہ آنکھیں دیکھتی رہیں ۔مگر پھر اُن آنکھوں کی تمازت سے گھبرا کر خود ہی پریشان ہو جانا۔۔۔ اس کا بالوں کو ایک بار سنوارنا۔ اور ۔۔۔ پھر بار بار سنوارنا۔۔ پھر کچھ سوچ کر بالوں کی جانب بڑھتا ہوا ہاتھ روک لینا۔۔

وہ بس سے اُترنے لگا تو جیسے اس کا مَن ہی نہ تھا، مگر اُترنا تو تھا۔۔ سو اتر گیا۔۔

شاید پھر کوئی دن ۔۔ یاپھر شاید کوئی لمحہ بھی ایسا نہ ہو کہ وہ آنکھیں اس کیساتھ نہ ہوں، وہ کالج کی جانب جاتا تو سارے راستے ایک نگران فرشتے کی مانند وہ آنکھیں اس کی جانب رہتی ، وہ چلتا تو وہ آنکھیں اس کا راستہ تک رہی ہوتیں، وہ کھانا کھاتا۔ مگر کتنا۔۔ بھوک تو جیسے کوسوں دور جاچکی تھی ۔۔۔

شاید وہ پہلا لمحہ ، جو شاید مکمل لمحہ بھی نہ تھا نے اُس کو اُن آنکھوں کا گرویدہ بنا لیا تھا، وہ بڑی بڑی جھیل آنکھیں اس کے ذہن میں ایک ایک آنکھوں پر لکھا شعر آتا جاتا، وہ سوچتا جیسے سارے شعراء نے اب تک آنکھوں پر جو کچھ لکھا شاید اُن ہی دو آنکھوں کیلئے وہ سب کچھ تھا۔۔

مگر۔۔۔ پھر ایک دن ۔۔ جیسے وہ آنکھیں اُس کا ساتھ چھوڑ گئیں، وہ بیچ سڑک پر کھڑا گھنٹوں چاروں جانب دیکھتا رہا، لوگ اس کو پاگل سمجھ کر ہنستے اور گزر جاتے، مگر اسے کسی کی کوئی پرواہ کہاں تھی، یا شاید وہ خود کو سچ میں پاگل سمجھ رہا تھا، وہ نہیں سمجھ پارہا تھا کہ ایسی کیا غلطی ہوئی کہ اس سے یہ سب کچھ چھِن گیا۔

آج بھی وہ ان آنکھوں کا متلاشی ہے، وہ راہ تک رہا ہے، شاید وہ آنکھیں اس سے مان جائیں، ہاں ان آنکھوں کو وہ اپنا بنا لیگا، ہمیشہ کیلئے، مگر وہ آج بھی سخت دھوپ میں اُن گھنی پلکوں کے سائے کا منتظر ہے۔۔ کہ شاید ۔۔۔ شاید ایک بار وہ لمحہ۔۔ یا شاید لمحہ سے بھی کم لحظہ۔۔ اسے میسر آجائے ۔۔

ابن سید

Saturday, May 9, 2015

In Response To Abbas Nasir's Allegations

I have read the article of Abbas Nasir and I certainly want to disagree with various points of this article, I never expected from a journalist to show such immaturity in presenting facts, I hope this is not deliberately, so looking forward for correction from newspaper. First of all, IJT (student organization) is not associated with JI (the political organization) in any fact or backed. Its in the organization's constitution that it is nonpolitical. IJT follows some part of the literature of Syed Abul Aala Maududi doesnt make it a subsidiary of JI, similarly IJT follows literature of Dr. Israr as well, so this means IJT is associated to Tanzim Islami? No! Correction required here. Secondly, there is no such thing like "Thunder Squad" it was all the misalignment of facts to show the bad picture of a nonpolitical peaceful organization Islami Jamiat Talba, and I am amazed why these scholars never speak about those party funded terrorist of (MQM, PPP and ANP) who are been given death sentence by high and sindh courts, not to forget the 1981 PIA plane hijacking by PPP activist Saleemullah Tipu, on the other hand they write article on the basis of a "alleged conspiracy" which is not even trialed in court. Third thing, use of weapon is not allowed for IJT activists in any era, this is another molding of facts without proof, after this points I am confirmed on immaturity of write and will ask for the reference of this obligation, and if the writer is not ready to provide solid reference I will be looking forward for his apology. Again, I must say that I am not expecting such weak reports and blogs from respective newspaper website Dawn, such article will proof nothing but will start another conspiracy debate and several question on the authenticity of the other reports by newspaper will be raised. I rest my case.
Syed Owais Mukhtar

Saturday, January 31, 2015

ابن سید

ابنِ سیّد
آج اتنے دنوں بعد اُسے دیکھ کر میں چونک گیا، آنکھیں پھاڑ کر دیکھا، وہ بھی پھیکی سی مسکراہٹ مسکرانے لگا، میں نے حیرت سے کہا ... یہ تم ہی ہو نا.. دل میں سوچا کیسا تھا...کیسا ہوگیا ... جواب ملا: ہاں! یہ میں ہی ہوں... مگر تمہیں کیا..
اُس کا جواب نما شکوہ سُن کر دِل کھٹکا اور دل چاہا زمین پھٹے اور اس میں سما جاؤں...
مگر اس نے بات جاری رکھی.. ہاں یہ میں ہی ہوں، پہچان نہیں پا رہے ناں؟ کبھی دیہان دو تو معلوم ہو کس حال میں ہوں، کیا کھاتا پیتا ہوں، کیا کرتا ہوں، کیا سوچتا بولتا لکھتا ہوں...تمہیں تو بس اپنے مصنوعی کردار "ابنِ سیّد" کی پڑی رہتی ہے... میں کہتا بھی کیا، شرمندگی سے سنتا گیا... سچ تو کہہ رہا تھا، میں کب سے نہیں ملا اس سے، نہ بات کی، نہ حال پوچھا، نہ دیکھا کب جاگتا ہے کب سوتا ہے، کب کھاتا پیتا ہے... اس کو یوں بیچ منجدھار میں چھوڑ کر اپنے اطراف میں اس قدر مگن ... مگر... پھر میں نے بھی وعدہ کیا آج اتفاق سے صحیح مل تو گیا مگر اب اُسے کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑوں گا...
یہ سوچ کر.. آئینے کے سامنے سے ہٹ گیا.. مبادا کوئی دیکھ کر سَرپھِرا ہی نہ سمجھ بیٹھے ..
عنوان : خودکلامی
تحریر : سیّد اویس مختار

Tuesday, January 20, 2015

دِل کی آواز

دِل کی آواز
تحریر: ابنِ سید
سُنو۔۔۔میں نے کچھ سُنا۔۔ کیا ۔۔۔۔تم نے بھی؟ ؟؟ رات کی تاریکی میں اپنی آنکھوں کے دیئوں کو ٹمٹماتے ہوئے اُس نے پوچھا۔
ہُش! چُپ۔۔۔ اُس نے خوفزدہ آنکھوں سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔ تم نے کچھ نہیں سُنا۔۔ نہ ہی سننے کی ضرورت ہے۔۔۔۔!!
مگر۔۔ ۔۔میں نے کچھ سُنا ہے۔۔ یہ آواز مجھ سے کچھ کہتی ہے۔۔
خدارا۔۔ مت آزمائش میں ڈالو مجھے۔۔ اپنے حال پر رحم کرو۔۔تم نے کچھ نہیں سنا۔۔ یہی حقیقت ہے۔۔۔ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔۔
"مگر ۔۔۔۔ " ،،، اس نے کچھ کہنا ہی چاہا تھا کہ ۔۔
اس کا جملہ مکمل نہ ہوا تھا کہ اُس نے اپنے ہاتھ کَس کر اُس کے کانوں پر رکھ دئے۔۔۔ اور اشارے سے کہنے لگا۔۔ "نہیں نہیں، کوئی آواز نہیں ہے"
اس نے اپنے تئیں کو کوشش کرلی تھی، مگر۔۔ وہ خود بھی مطمئن نہ تھا۔۔
یہ آواز اس کے دل کو بھی چیر رہی تھی ۔۔
اور جب چوتھی بار بھی اس نے یہی کہا تو وہ خود کو بھی روک نہ سکا۔۔
ہاں ۔۔ وہ بھی آواز سن رہا تھا۔۔ وہ کب تک روکتا خود کو۔۔
اور پھر۔۔ دونوں چل پڑے۔۔۔
"بابا! کیا آپ نے بھی آواز سن لی؟" ہاں بیٹا! میں تو کئی عرصہ سے سن رہا ہوں۔۔ مگر ۔۔۔ اس کے الفاظ اس کے حلق میں جم گئے ،،، خوف اس کی آنکھو سے عیاں تھا۔۔۔
سنو،،، اس آواز کو مت دبانا۔۔۔
وہ دونوں چلتے رہے ۔۔
صبح تک ۔۔ بادشاہ کے کارندوں۔۔ اور پورے شہر کو پتا لگ چکا تھا۔۔
منادی کرا دی گئی تھی۔۔۔
پھانسی کے پھندے تیار تھے۔۔
پھر ان کے گلوں میں پھندے ڈال دئے گئے۔۔۔
جلاد تیار کھڑا تھا۔۔۔اشارے کا منتظر ۔۔ اور ۔۔۔۔ مجمع تماشا دیکھنے کھڑا تھا
اچانک وہ چِلا کر کہنے لگا۔۔۔ "کہہ دو تم سب بہرے ہو ، یا پھر مان لو کہ تم نے بھی وہ آواز سنی ہے'۔۔ ہاں ۔۔ مان لو۔۔ "
مجمع میں سے ایک شخص سامنے آیا "میں گواہی دیتا ہوں۔۔۔ میں نے بھی وہ آواز سنی" جلادوں کے ہنٹر اس پر پڑے۔۔ مجمع کے بیچوں بیچ ایک اور آواز سنائی دی "ہاں میں نے بھی سنا۔۔۔ "
بادشاہ نے اشارہ کیا۔۔پہلا پھندا جھول چکا تھا، بےجان لاشہ لٹک رہا تھا
وہ پھر چِلا کر کہنے لگا۔۔۔ "مان لو کہ تم نے بھی وہ آواز سنی ہے مان لو۔۔ "
مجمع میں دوسرا شخص آگے آیا۔۔۔ پھر تیسرا اور پھر چوتھا۔۔
"ہاں ہم نے بھی سنی ہے، ہاں ہم بہرے نہیں، ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں!!!" سارا مجمع ایک ساتھ چِلّا رہا تھا۔۔
اُس نے مسکرا کر اپنے بےجان پڑوسی کے لاشے کی جانب دیکھا۔۔
"تم جیت گئے دوست!، ہم جیت گئے"۔۔
بادشاہ اور اس کے حواری میدان چھوڑ کر بھاگ چکے تھے ۔۔
سَب اس آواز کی جانب چل پڑے تھے !
تحریر: ابنِ سید

Friday, January 16, 2015

وہ میری پسند نہ تھی، میرے گھر والوں کی تھی۔۔۔ مگر۔۔ ۔

وہ میری پسند نہ تھی، میرے گھر والوں کی تھی، ماموں نے اسے میرے پَلّے باندھ دیا، میں دیکھتا رہ گیا، گھر والوں کی مرضی تھی، اور کہہ بھی کیا سکتا تھا، مگر۔۔۔ پھر وقت سب سے بڑا ساتھی ہے، میں نے اسے قبول کر ہی لیا، اور ۔۔ شاید اس نے بھی ۔۔۔ پھر نہ جانے کیا ہوا، ہم یک جان دو قالب سے ہوگئے، نہ میں اس کے بغیر کہیں جاتا نہ کہیں آسکتا تھا۔۔اور نہ ہی کبھی اس نے مجھے بیچ راستے میں چھوڑا، اگر وہ تھَک جاتی تو میں اس کا ساتھ دیتا، میں تھکن سے چور ہوتا تو اس کے وجود کا احساس میرے سارے زخموں کا مرحم ہوتا۔۔ میں نے اس کی محبت میں اپنے اطراف سے بےگانہ تھا، کسی کا مذاق/طعنے/بپھتی مجھے اس سے نہ دور کرسکی اور نہ ہی متنفِّر، میں تو اس کیلئے سب سے لڑ بھی جاتا، اور پھر کسی غیر کیلئے میں "اپنے" کو کیسے چھوڑ دوں۔۔۔ میں سوچتا بھی کیسے۔۔ آخر کو اس کا نام مجھ سے جڑا تھا۔۔۔
کل مجھے اس کی ضرورت تھی، آج اس کو میری ضرورت ہے، میں بےوفا نہیں، نہ مجھے کسی کی باتوں کی پرواہ ہے، آج آپ میری یہ پوسٹ پڑھ کر شاید حیران ہوں۔۔۔ مگر میرا یہ ان سب کو پیغام ہے جو مجھے کہتے رہتے ہیں کہ اس کھٹارا کی جان چھوڑ دو۔۔ میری پاک ہیرو کی سی ڈی سیونٹی بائیک، ہاں پرانی ہے، کئی دفعہ انجن بن چکا ہے، پِسٹن پھر سے سُر نکالنے لگا ہے، جمپس نے میری کمر میں درد کردیا، ہارن کے علاوہ سب چیزیں آواز کرتی ہیں، مگر اس ہی نے تو میرا ان مواقع پر ساتھ دیا، جب کوئی نہیں تھا، جوہر، صدر، لیاری، کیماڑی، کورنگی، لانڈھی، نارتھ کراچی، ناظم آباد۔۔۔ اور آج بھی اس کے ساتھ سپر ہائی وے روزانہ پچاس کلومیٹر کا سفر کرتا ہوں اور اس کی خاموش رضامندی فرمانبرداری کو سراہتا ہوں۔۔۔۔
ابنِ سیّد


Thursday, January 15, 2015

میں چلتا رہوں گا

میں چلتا رہوں گا
(تحریر / نثر / نظم / خیالات / جو بھی کہہ لیں: ابنِ سیّد)

میں چلتا رہوں گا
کہ راستے چلیں... نہ چلیں
ملیں نہ ملیں
میں چلتا رہوں گا
کہ سڑک ختم، پگڈنڈی شروع
راستے بناتے، گھومتے گھماتے
میں چلتا رہوں گا

کہ کوئی ساتھ ہو کہ نہ ہو
مجمع ہجوم گروہ اکیلا تن تنہا
میں چلتا رہوں گا

کہ راستے میں کوئی دیوار ہو
اسے توڑ .. کوئی گڑھا
اسے پھلانگ ... کوئی
دریا نہر سات سمندر
اسے تیر... کوئی چوٹی
اسے سَر... کوئی دیو...
اسے پچھاڑ...!

میں چلتا رہوں گا
کہ مجنوں کے تمغات
کے سارے القابات
کے متفرق اشارات
کہ طرح طرح کی آوازیں

کہ کبھی لغزش
کبھی لرزش کبھی
کبھی جنبش
کبھی سازش
یہ قدم روک نہ پائیں
میں چلتا رہوں گا

میں چلتا رہوں گا
میں چلتا رہوں گا

تحریر : ا-س
پندرہ جنوری 2015

وقت ایک بج کر تین منٹ

Saturday, January 3, 2015

جس کا کام اُسی کو ساجھے

جس کا کام اُسی کو ساجھے

کہتے ہیں ایک جنرل صاحب کسی مشاعرہ کی صدارت کررہے تھے، پہلا شاعر آیا، شعر سنتے ہی سامعین کو آگ لگ گئی، واہ واہ کے ساتھ ہی مکرر مکرر کی صدا لگ گئی، شاعر نے پھر سنایا، واہ واہ کی صدا، مکرر مکرر کی صدا۔ جنرل صاحب جو ان سب بکھیڑوں سے نابلد منہ کھولے یہ سب دیکھ رہے تھے، اپنے ساتھ والے (غالباً جنہوں نے کام نکلوانے کیلئے انہیں صدارت سونپ دی تھی) کو کان میں کہا "یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟" جواب ملا "لوگ شعر دوبارہ سنوانے کی فرمائش کررہے ہیں" یہ سنتے ہیں جنرل صاحب کے نتھنے پھُل گئے، کان کھڑے ہوگئے، بوٹ کے تسمے کستے ہوئے ڈائیس پر چڑھے آئے اور کہنے لگے ۔۔ ۔۔ "جس کو شعر سننا ہے پہلی بار میں سنے، شاعر تمہارے باپ کا نوکر نہیں ہے کہ بار بار سنائے!"
اور یوں۔۔۔۔ سامعین آدھ گھنٹے بعد اپنے اپنے گھروں کو تھے۔

آپ ایک سیکیورٹی گارڈ رکھیں، چند دن بعد ہی اس کی بےکاری دیکھ کر آپ کے ہاتھ میں کھجلی شروع ہوجائے، آپ سوچیں سارا دن تو بیٹھا رہتا ہے، یہ لو پیسے جاؤ بازار سے سودا لے آو، جاؤ ذرا بچوں کو اسکول سے لے آؤ، کبھی بیگم اس کو مٹر چھیلنے پر لگا دیں، بے چارہ پیاس بھی کاٹے اور اپنے آنسو بھی پونچھ رہا ہو، پھر سارے دن کام کاج کا تھکا اب رات کو کیا سوئے بھی نہیں؟ اور پھر کبھی خدانخواستہ گھر پر ڈکیت آجائیں، مگر یہ کیا ۔۔۔گارڈ تو بازار سے سودا لینے گیا ہوا ہے، بچوں کو بھی تو اسکول سے لے کر آنا ہے ۔۔ ۔

کیا کہا؟ اس کہانی کا مقصد؟ ارے کچھ مقصد نہیں بس یونہی کچھ یاد آگیا تو کہہ دیا، کل کچھ اور یاد آجائے گا تو کچھ اور کہہ دینگے، میرا تو "کام" ہی یہی ہے، "کیڑے نکالنا" ۔۔ جس کا جو کام ہے وہ تو اس کو کرنا چاہئے؟ ہے ناں؟ کیوں دوستو؟


ا-س
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments