Monday, January 6, 2014

جھالت اور اسکی ضِد حق پرستی

میں کافی دیر سوچتا رہا کہ جھالت کے کیا معانی ہیں، کیا اعلی تعلیم جھالت کو ختم کر سکتی ہے کیا اعلی عہدہ جھالت کو ختم کرسکتا ہے. اس کا جواب مجھے اس دن مِلا جب ڈیفنس میں بڑے بڑے بنگلوں کے درمیان میں نے گٹر کا پانی بہتے دیکھا. جب میں نے گِزری کے علاقے میں اونچے مکانوں کے درمیان اندھیر گلیاں دیکھی، جہاں ایک پیدل چلنے والے کو ٹھوکر لگے اور گٹر کے پانی سے عام راہگیر کا چلنا دوبھر ہوجاتا ہو. کیا وہاں کے باسیوں کو باشعور سمجھا جا سکتا ہے؟
یہی سوچتا ہوا میں ایک ٹریفک سگنل پر رکا جہاں بڑی بڑی گاڑیاں ٹریفک کے اصولوں کی دھجیاں اڑا کر جارہی تھیں. میں سمجھ گیا زیادہ پیسہ بھی جھالت کو کم نہیں کرسکتا میرا یقین اس وقت پختہ ہوگیا جب میں نے اسی طرح کے دو پڑھے لکھے لوگوں کو دست و گریباں دیکھا جبکہ ہماری اصطلاح میں جنکو ہم جاھل گردانا کرتے ہیں جیسے خوانچہ فروش اور بس کنڈکٹر وہ انہیں الگ کر رہے تھے. پس مجھے یقین ہوچلا کہ دولت شعور کا معیار نہیں...
اپنے خیالوں میں غلطاں میں ایک مارکیٹ جا پہنچا تھوڑا سودا لینے کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ایک فقیر کو جھڑکتا ہے اور اسے اپنی گاڑی سے اور اپنے بچّوں سے دور رہنے کا کہتا ہے، شاید وہ کوئی ڈاکٹر ہو، شاید انجینئر، یا بینکر، یا پھر کوئی بڑا مینیجر یا چیف، لیکن اسکے منہ سے نکلے چند الفاظ نے اس کے شعور کی پوٹلی کھول کر رکھ دی...
ابو جہل کا اصلی نام عمر تھا، وہ لکھنا جانتا تھا جبکہ بیشتر صحابہ رضی اللہ عنھا اس فن سے محروم تھے لیکن جب اس نے حق کو ماننے سے انکار کیا اور ہٹ دھرمی دکھائی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وہ نام دیا جس نام سے آج ہم اس کو جانتے ہیں (ابو جہل). 'حق' کو تسلیم نہ کرنا اور باطل پر اڑ جانے کا ہی اصل نام جھالت ہے.

ابنِ سیّد

No comments:

Post a Comment

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Facebook Comments